جذبہ ٴ ایمانی کی ایک جہت ”علم اور عمل“ ہے کہ اس کے بغیر غلبہ ناممکن خصوصاً اس عہد میں ”بے شک تم غالب آؤ گے اگر تم مومن ہو “سو ”علم اور عمل“ کے ہتھیار لازمی ہوں گے ورنہ مغلوب و معتوب رہ کر اسی طرح قسطوں میں مرنا اور بساطِ عالم پر حشرات الارض کی طرح رینگنا ہوگا۔
حقیقی برتری کیا چیزہے؟
اسے سمجھنے کے لئے 1940 کے چین کی طرف چلتے ہیں جب برطانیہ اس پر حملہ آور ہوا۔ تب برطانیہ کی آبادی تقریباً دو کروڑ تھی جبکہ قدیم ترین و عظیم ترین تہذیب والے چین کی آبادی تقریباً چالیس کروڑ تھی۔ ماچس کی ڈبیہ جتنے جزیرے پر برطانیہ کی فتح یابی یوں طے تھی کہ وہ تکنیکی اعتبار سے اعلیٰ وبرتر، جدید ترین (اس عہد کے معیار کے مطابق) اسلحہ سے لیس او ر پراعتماد ہونے کے ساتھ ساتھ سمندروں پر بھی حاوی تھے جبکہ دوسری طرف چینی تکنیکی اعتبار سے انتہائی کمتر، غیرمتحد، قیادت سے محروم تھے اور ان کی کانسی اور بانسوں سے بنی توپیں برطانوی توپوں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ تھیں۔ 15ویں صدی میں تو چینی یقینا یورپین قوموں کے عسکری چیلنج کا مقابلہ کرنے کے قابل تھے لیکن 19ویں صدی میں یہ ناممکن تھا کیونکہ ”پدرم سلطان بودی“ کے بل پر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا مقابلہ نہیں ہوسکتا۔ صدام کی طرح پھانسی چڑھا جاسکتا ہے، ملّا عمر کی طرح فرار ہواجاسکتا ہے یا اُسامہ بن لادن کی طرح غائب ہوا جاسکتا ہے۔ مختصراً یہ کہ 19ویں صدی تک علم و عمل کا توازن خراب ہونے کے بعد برطانیہ کے حق میں فیصلہ دے چکا تھا اور برطانوی افیون کی درآمد، آبادی کی بھرمار، جہالت، افراتفری، قیادت کا فقدان، کرپشن و بدعنوانی، غیرفعالیت اور بڑھتی ہوئی مہنگائی و غربت (پاکستان جیسا نقشہ دکھائی دیتا ہے) نے چین کو اتنا لاغر اور بے بس کر دیا تھا کہ وہ مزاحمت کر ہی نہ سکتا تھا۔ اس کے پاس کوئی اور راستہ ہی نہیں تھا کہ خود سے زیادہ طاقتور مغرب سے اس کی شرائط پر صلح کرلے کہ دشمن کی شرائط پر صلح بھی بدترین شکست ہی ہوتی ہے۔
صورتحال کنفیوشس کا مذاق اڑا رہی تھی جس نے بھلے وقتوں کہا تھا کہ… ”چین کے حکمرانوں کو خدا نے دنیا کا حکمران بنایا تھا“
”دنیا کے حکمران“ علم و عمل میں پیچھے رہ جانے کے باعث برطانویوں، امریکیوں، روسیوں اورفرانسیسیوں کے ساتھ شرمناک معاہدوں میں بند ھ گئے۔ نین جینگ اور آئیگن کے معاہدے آج بھی تاریخ کے طالب علموں کو بتاتے ہیں کہ ”جرم ضعیفی“ کی سزا مرگ ِ مفاجات کے سوا کچھ نہیں اور مزید یہ کہ ضعیفی اور ضعف درحقیقت ”علم و عمل“ کا ضعف ہی ہوتا ہے۔ نوبت یہاں تک جاپہنچی کہ چینی قلیوں کو یورپ کی نو آبادیات میں مزدوری کے لئے بھرتی کیا جانے لگا۔ 1860تک ایک لاکھ چینی پیرو کو غلاموں کی طرح بھجوائے گئے اور ڈیڑھ لاکھ چینی بطور قلی کیوبا بھیج دیئے گئے۔
پھرکیا ہوا؟
چینیوں نے بڑھکیں نہیں ماریں، خود ترحمی کا شکار نہیں ہوئے،توہم پرستی میں نہیں پڑے، بددعاؤں کا سہارا نہیں لیا، کسی کے پرچم اورپتلے نہیں جلائے بلکہ انتہائی توجہ اور غور و فکر کے ساتھ مغربی بالادستی کی بنیادیں ڈھونڈیں اورسمجھیں۔ پھر نہ صرف چینی طلبہ کو بیرون ملک حصول تعلیم کے لئے بھجوایا گیا بلکہ سمندرپار ایک ایجنڈے کے تحت چینی سفارتخانے بھی قائم ہوئے لیکن دوسری طرف چین کی غلیظ مانچو اشرافیہ نے ان کوششوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور ہمارے مخصوص طبقات کی طرح مغربی سائنس اور ٹیکنالوجی کوحقارت کی نظر سے دیکھتے رہے۔ وہ احمق اپنی قصہ ٴ پارینہ ہوچکی برتری کے زعم میں مبتلا تھے جبکہ جاپان کا ردعمل مشرقی ایشیا میں 19ویں صدی کے آغاز میں مغربی
مداخلت پر چین کے ردعمل سے بے حد مختلف تھا۔ جاپانیوں نے جلد ہی اندازہ لگا لیا کہ وہ اپنے ملک کو دنیا سے مزید علیحدہ نہیں رکھ سکتے سو انہوں نے جاپان کو مغرب کے رنگ میں رنگنے کا کام شروع کر دیا۔ جاپان میں یہ نعرہ زبان زدِ عام ہو گیا ”جاپانی جذبہ مغربی ہنر“… جاپانیوں کو حصول علم کے لئے تھوک کے حساب سے مغرب بھیجا گیا… غیرملکی تکنیک کاروں اور ہنرمندوں کو جاپان بلایا گیا، ان گنت مغربی کتابیں درآمد کرکے ترجمہ کروائی گئیں… مغرب کے انداز و اطوار سے چینیوں کی طرح شرمانے کی بجائے جاپانیوں نے انتہائی سنجیدگی سے مغربی نظام ہائے حکومت، صنعت و حرفت، عسکری و بحری ٹیکنالوجی کا مطالعہ کیا جو مغربی طاقت کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔نئی جاپانی فوج کو فرانسیسی اور پھر پرشیا کی فوج کا ماڈل بنایا گیا۔ بحریہ کو برطانوی خطوط پر تیار کیا گیا۔1871 میں جاپان سے جاگیرداری ختم کردی گئی۔ اگلے سال ہی ایک بھرپور ”قومی تعلیمی نظام“ متعارف کرایا گیا۔ 1870 اور 1890 کے درمیان ایک جدید قانونی نظام پہلے فرانس اور پھر جرمن ماڈل کے مطابق قائم کیا گیا۔ مغربی لباس سب سے پہلے جاپانی فوج نے اپنایا جو بتدریج معاشرہ کے د یگر حصوں میں پھیل گیا۔ مغربی بادشاہوں کی نقل میں میجی شہنشاہ نے بھی داڑھی، فوجی یونیفارم اور میڈلز کا استعمال شروع کردیا۔

http://search.jang.com.pk/archive/details.asp?nid=432702

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha