بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ اور پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے مابین ایک گھنٹہ طویل گفت و شنید کے بعد سفارتی برف پگھلی تھی اور ان دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ان کے وزرائے خارجہ اور سیکریٹریز خارجہ آپس میں مل جل کر آئندہ کے مذاکرات کی تفصیلات طے کر لیں گے۔ ان دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات سے پیدا ہونے والے نتائج کا دونوں ملکوں میں خیر مقدم کیا گیا تھا اور اسے ایک ایسا ضروری اقدام قرار دیا گیا تھا جو دونوں ممالک کے مابین تلخ اور کشیدہ تعلقات کو مزید خراب ہونے سے روک سکتا ہے لیکن اسی کے ساتھ یہ شکوک و شبہات اور خدشات بھی تھے کہ دونوں ممالک کے مابین مسائل اور تنازعات کے حل کی یہ تازہ ترین کوششیں دونوں ملکوں کے تعلقات کو معمول کے مطابق بنا سکیں گی؟ واضح رہے کہ اس موقع پر ہونے والی ملاقات میں ان مذاکرات کی بحالی پر غور نہیں کیا گیا جو نومبر 2008ء میں ممبئی بم دھماکوں کے نتیجے میں معطل ہو گئے تھے بلکہ گفت و شنید کے اس طریقہ عمل پر بات چیت ہوئی تھی، جس کی تفصیلات ابھی طے کئے جانا باقی ہیں۔ اگر دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات میں یہی طے ہوا تھا کہ سفارتی مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں بھی مذاکرات کے بارے میں مزید گفت و شنید کی جائے گی تب تو ہمیں چوکنا رہنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب تک وسیع بنیاد اور بامقصد مذاکرات کے لئے راستہ صاف اور ہموار نہیں ہوتا، اس وقت تک ہمیں ایک طویل سفر طے کرنا ہوگا۔ دہلی اور اسلام آباد دونوں کی کوشش یہی رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس مذاکراتی تعطل کو ختم کیا جائے۔ اب تک تو بھارت یہ اصرار کرتا چلا آیا ہے کہ پاکستان ممبئی بم دھماکوں کے منصوبہ سازوں کے خلاف ترجیحی اقدام کرے تاکہ وسیع تر بنیادوں پر ہونے والے مذاکرات کی تجدید ممکن ہو سکے۔ دوسری جانب پاکستان کا موقف یہ تھا کہ فوری طور پر ”جامع مذاکرات“ کے اس سلسلے کو بحال کیا جائے جو ممبئی بم دھماکوں کے فوراً بعد معطل کردیا گیا تھا۔ گزشتہ برس بھارت نے جامع مذاکرات کی بحالی سے واضح طور پر انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ اگر وہ کسی موضوع پر بات کرنے کو تیار ہے تو وہ ہے دہشت گردی اور صرف دہشت گردی۔ اس کے علاوہ وہ کسی دوسرے موضوع پر بات کرنے کے لئے تیار ہی نہ تھا۔
اب بھوٹان میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے مابین جو ملاقات ہوئی ہے اس سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ نئی دہلی نے صرف اور صرف دہشت گردی کے موضوع پر بات چیت کرنے کے اپنے پرانے موقف کو تبدیل کر دیا ہے جب کہ اس تبدیلی کے جواب میں پاکستان نے بھی جامع مذاکرات کی بحالی کی اصطلاح سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ بھارت کی اس رضا مندی سے کہ وہ باہمی تشویش کے سبھی مسائل پر گفت و شنید کے لئے تیار ہے پاکستان کو یہ جواز حاصل ہوگیا ہے کہ وہ بھی جامع مذاکرات کی بحالی پر اصرار نہ کرے۔ چنانچہ پاکستان نہ صرف جامع مذاکرات کی اصطلاح کے استعمال سے دستبردار ہو گیا بلکہ اس بات پر بھی رضا مند ہو گیاکہ شرم الشیخ میں ہونے والی ملاقات کا بھی کوئی حوالہ نہیں دے گا، جہاں جامع مذاکرات کو دہشت گردی کے موضوع سے علیحدہ کر دیا گیا تھا اور پاکستانی حکام نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ آئندہ پاکستان کی سر زمین کو بھارت کے خلاف کسی دہشت گرد حملے کے لئے استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا۔ اسی اثناء میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بڑے اعتماد کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ وہ تمام آٹھ بڑے مسائل جو جامع مذاکرات کے دوران زیر بحث آئے تھے وہ دہلی میں ہونے والے آئندہ مذاکرات میں ضرور شامل ہوں گے۔ واضح رہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے یہ یقین دہانی اس وقت کرائی ہے جب ان آئندہ مذاکرات کے بارے میں کوئی فارمیٹ، اسکوپ اور ایجنڈا ابھی طے ہی نہیں ہوا ہے۔ حالیہ تجربات بھی ہمیں خبردار رہنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ فروری کے مہینے میں دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریز کی ملاقات جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو بحال کرکے از سر نو مذاکرات کو بحال کرنا تھا، شدید مایوسی کا شکار ہو چکی ہے۔ اس ملاقات میں آئندہ ہونے والی کسی ملاقات کا کوئی ذکر تک موجود نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ ہونے والے مذاکرات میں بھی تیز رفتار پیش قدمی کے بجائے سست روی کا عمل دیکھنے میں آئے گا۔ مکمل مذاکرات اور جامع گفت و شنید کا یہ راستہ دشواریوں اور رکاوٹوں سے پر ہے۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ اور خارجہ سیکرٹریوں کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ مذاکرات کے موجودہ تعطل کے حقیقی اسباب پر غور و خوص کریں۔ بہر کیف بھوٹان میں ہونے والی ملاقات میں بھارت نے جس نقطہ نظر کا اظہار کیا اس کا تعلق باہمی اعتماد اور بھروسے کی ایسی فضا کے قیام سے ہے جو مذاکرات کی پیشرفت میں مددگار ثابت ہو سکے۔ عملی طور پر اس کا مقصد کیا ہے اس کا تعین بھی نہیں ہو سکا تاہم سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ جامع مذاکرات کی ابتدا سے پہلے باہمی اعتماد کے فروغ کی فضا کو یقینی بنانا اشد ضروری ہوگا۔ 3 مئی کو بھارتی پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں بھارتی وزیر خارجہ نے منموہن سنگھ اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے مابین ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا۔
” بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے یوسف رضا گیلانی کو بتایا کہ اگر دونوں ملکوں کے درمیان ”اعتماد کا بحران“ ختم ہو جائے تو مکالمے کے ذریعے تمام تازعات کا حل تلاش کرنا ممکن ہو جائے گا“ اس کا مطلب ہے کہ وسیع تر مذاکرات کے لئے بھارتی وزیراعظم نے ”عدم اعتماد کے خاتمے“ کی شرط رکھ دی ہے۔ دہلی کا موقف یہ ہے کہ قدم بقدم، رفتہ رفتہ اعتماد کوبحال کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں جبکہ پاکستان چاہتا ہے کہ مذاکرات کا عمل فوری طور سے شروع ہو سکے تاکہ تمام متنازع مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔ بیشتر پاکستانی حکام کو یہ خدشات لاحق ہیں کہ قدم بقدم اعتماد کی بحالی کے بھارتی موقف کے نتیجے میں دہلی کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ گفت وشنید کے ہر مرحلے کو اپنے مطالبات کی تکمیل کے لئے استعمال کر سکے۔ دوسری جانب بھارتی اخبارات نے بھارت کے حکام کے یہ بیانات شائع کئے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مذاکرات اعتماد کی بحالی کے موضوع پر مرکوز ہوں گے اور ان کا تعلق دہشت گردی کے موضوع سے ہی ہوگا یعنی دہشت گردی کے حوالے سے دونوں ممالک میں اعتماد کی بحالی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ آئندہ ہونے والے مذاکرات کا تعین اسلام آباد کے ان اقدامات سے کیا جائے گا جو وہ بھارت کو مطمئن کرنے کی غرض سے کرے گا۔ چنانچہ یہ ایک سفارتی چیلنج ہو گا جس کا مقصد ایسے راستے کی تلاش ہو گی جو دونوں ممالک کے باہمی شکوک شبہات کو دور کر کے مختلف ترجیحات اور مسائل کے مابین مفاہمت پیدا کر کے تعلقات کو معمول کے مطابق بنانے کے عمل کو جاری رکھے۔
اگرچہ نئی دہلی نے یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ تمام تر مسائل پر گفت و شنید کے لئے تیار ہے لیکن معلوم ایسا ہوتا ہے کہ وہ جامع مذاکرات کے فریم ورک کی طرف واپس آنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔ اس سے قبل بھارتی حکام اسلام آباد سے جامع مذاکرات کی افادیت اور تعلق کے حوالے سے اعتراض کرتے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ تمام مسائل جو ہماری ترجیحی توجہ کے مستحق ہیں اب بدل چکے ہیں چنانچہ پہلے سے مختلف ہیں۔ ان باتوں سے یہ شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں کہ ان مذاکرات کے دوران بھارت کا رویہ کیسا ہوگا؟ جامع مذاکرات کا مقصد آٹھ بڑے اور بنیادی مسائل کی نشاندہی کرکے ایک مشترکہ ایجنڈے کی تشکیل کرنا تھی کیونکہ اس وسیع بنیاد فارمیٹ میں دونوں ممالک کے ترجیحی مسائل شامل ہو سکتے تھے چنانچہ پاکستان کا اصرار یہ تھا کہ انہیں ”مربوط مذاکرات“ کا نام دیا جائے جب کہ دہلی کا موقف یہ تھا کہ ان مذاکرات کو جامع مذاکرات کا نام دیا جائے۔ تاکہ ہر تنازع پر بات چیت ممکن ہو سکے۔ بہر کیف ان مذاکرات میں زیر بحث آنے والے تنازعات اور مسائل ہی اس بات کا تعین کریں گے کہ کوئی نئی شروعات ہو سکے گی یا یہ مذاکرات بھی بے نتیجہ ثابت ہوں گے۔
http://search.jang.com.pk/archive/details.asp?nid=432151
Recent Comments