جن ”کمی کمینوں“ اور ”کم ذاتوں“ نے اس دنیا کو نیا چہرہ عطا فرمایا ان کی بھاری اکثریت ناخواندہ اور خود آموختہ قسم کے ایسے تخلیق کاروں پر مشتمل تھی جو ”پروفیشنل“ ہونا تو دورکی بات باقاعدہ پڑھے لکھے بھی نہ تھے لیکن ماحول انہیں سازگار مل گیا مثلاً رچرڈ بڑیویتھک (1833-1771) نے ابتدائی سٹیم انجنوں سے پمپوں کے ذریعہ پانی باہر نکالنے کا عمل متعارف کرایا۔ ابراہم ڈرابی (1717-1678) اور ہنری کورٹ (1800-1740) نے لوہے کی کچ دھات کو پگھلانے اور صاف کرنے کا طریقہ ڈھونڈا، ہنری موڈسلے (1831-1771) نے دھات کی عمدہ کٹائی کے لئے ابتدائی خراد متعارف کرایا۔ جیمز فاسمتھ (1890-1808) کے سٹیم ہیمر نے بڑا اور طاقت ور آتش دان ممکن بنایا کیونکہ کسی نے انہیں ”کمی“ کہہ کر کچلا نہیں تھا۔
1860 میں لوہا اور فولاد جس پیمانے پر پگھلایا، صاف کیا اور ڈھالا جاتا تھا اس کا تصور بھی انسانی ماضی میں ناممکن تھا۔ تھامس ٹیلیفورڈ (1834-1757) جس نے انگلستان کو عظیم الشان آہنی پلوں سے مربوط کردیا، ایک گڈریئے کا بیٹا تھا۔ جیمز برنڈلے (1772-1716) جس نے انگلستان میں سینکڑوں میلی لمبی نہروں کا جال بچھا دیا… کسی بھی قسم کے سائنسی پس منظر سے یکسر محروم تھا۔ ٹریویتھک نے 1804میں بھاپ کی طاقت سے چلنے والا ریلوے انجن متعارف کرایا۔ 1830 میں جارج سٹیفن سن (1848-1781) اپنا ”راکٹ“ انجن میدان میں لایا۔ یہ ماشا اللہ ایک گھنٹے میں سولہ میل کی ”بے مثال“ رفتار سے چلتا تھا۔ 1850 تک ”کمی کمین“ برطانیہ میں 6000 میل لمبی ریلوے لائنیں بچھا چکے تھے اور پھر اگلے 50برسوں میں ریلوے انجنوں کی رفتار دس گنا سے زیادہ بڑھ چکی تھی اور لوہے کے پلوں اور ریلولے لائنوں کی تصاویر نئے خوشحال شہری متوسط طبقہ کے ڈرائنگ روموں میں سجنے لگی تھیں۔ 1850 میں برطانیہ سٹیم پاور، انڈسٹریل اور مینوفیکچرنگ، پروڈکشن، کوئلے، لوہے، ٹیکسٹائل، شپنگ اور ریلوے میں دنیا کی قیادت کر رہا تھا اور ”کمی کمین“ کے صدقے یہ ایک ایسا ملک بن چکا تھا جس میں ایڈم سمتھ کی فری مارکیٹ کی فلاسفی زمین، محنت اور سرمایہ میں مضبوطی سے جڑیں پکڑ چکی تھی۔ لعنت ہمارے اشراف پر ۔
ادھر جرمن جیبریل فارن ہائٹ (1736-1686) ایک اور کمی کمین تھا جس نے حرارت کا فارن ہائیٹ پیمانہ متعارف کرایا۔ دو فرانسیسی بھائیوں (1948-1864) لوئس اور آگستے نے 1895 میں بنی نوع انسان کو پہلی متحرک تصویر دی۔ دیگر متعدد فیصلہ کن ایجادات میں امریکہ نے دنیا کو رن سپننگ فریم، ٹائپ رائٹر، ٹیلیفون، بجلی، ہوائی جہاز (رائٹ برادرز 1903) پہلی آٹوموبیل، پہلا عمومی استعمال کا کمپیوٹر، پہلا ٹرانسسٹر اور پہلا کنٹرولڈ نیوکلیئر چین ری ایکشن (شکاگو 1942) دیا۔ یوں 20ویں صدی تک امریکہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں یورپ کی برتری کو کامیابی سے چیلنج کرچکا تھا اور اس عظیم فتح کا بیشتر کریڈٹ بھی ان ”کمی کمینوں“ کو ہی جاتا ہے جو باقاعدہ سائنسدان یا ماہرین ٹیکنالوجی نہ تھے۔ یہ جاگیریں لیتے اور فتوے Produce کرتے رہے۔
ادھر قاتل اور بانجھ اشرافیہ نے تب سے اب تک کمی کمینوں کوکچھ اس طرح کم تری کے کومپلیکس میں مبتلا رکھا کہ شاید وہ بھی بانجھ ہوگئے۔
صنعتی اور میکانکی انقلاب سے پہلے خیال تھا کہ سب کچھ مذہب سے ممکن ہے۔ پھر یہ احساس جاگا کہ زمین کی خوشیاں آسمانوں میں نہیں ملتیں اور سب کچھ بذریعہ سائنس زمین پر ہی ممکن ہے۔
بات سمجھ میں آتے ہی اینٹی بائیوٹکس، ویکسینز، وائرولوجی، برتھ کنٹرول، سائیکو انالیسز، انجینئرنگ، نیوکلیئر فژن، جیٹ راکٹ، خلائی سفر، لیزر، ٹیلی ویژن، کمپیوٹر، مائیکرو چپ اور نینو ٹیکنالوجی کی طلسماتی اور محیرالعقول دنیائیں آباد ہوگئیں اور برترو آزاد دماغوں کا پوری دنیا پر تسلط اور غلبہ مستحکم ترین ہو گیا۔ ان کے کمیوں نے ہماری اشرافیہ کو رہن رکھ لیا۔
لیکن اب بھی یہ کھیل ہماری فرسودہ جاگیرداریت اور پسماندہ ملّائیت کی سمجھ سے بہت بالا ہے۔ مغرب میں گزشتہ 200 سالوں میں ہونے والی ترقی ایک طرف اور ہم جیسے معاشرے دوسری طرف جہاں آج بھی حرام خور، کام چور، سہل پسند اور عیاش پیراسائٹ اشرافیہ ”خاندانی“ اور ہاتھ سے کام کرنے والے ”کمی کمین“ ہیں او رکوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔ دانشور ویسے ہی نیم خواندہ۔
خود اپنے گلے میں ذلت و رسوائی کے طوق ڈالنے والے لوگ جب ہیلری کلنٹن کی دھمکی پر سیخ پا ہوتے ہیں تو مجھ جیسے آدمی کو ان کی ”مسخرانہ سنجیدگی“… ”مضحکہ خیز متانت“ اور ”کھوکھلی غیرت“ پر ہنسی آتی ہے۔ قومیں اپنی عزت اور وقار کے گرد محنت شاقہ، مسلسل عمل، تحقیق و تجسس، اختراع، ایجاداورتحصیل و اکتساب کی آہنی فصیلیں کھڑی کیاکرتی ہیں اور ان کی اشرافیہ ہماری بے حمیت اشرافیہ کی طرح بے عملی، بے علمی اور بے حسی کا شکار نہیں ہوتی۔
دنیا کہاں جارہی ہے اور یہاں؟؟؟
سستی روٹی… جھوٹی غیرت کی لاٹھیوں کے ساتھ لٹکتے کاسے اور کشکول، تھانوں میں چھترول، کچہریوں میں مارشل آرٹس کے مظاہرے، ڈکیت رہنما، دولے شاہ کے چوہے قائدین، نظام اور اس کے ناظموں سمیت ہر شے دو نمبر، اوپر سے نیچے تک تجاوزات کے مرتکب قبضہ گروپ اور دانشور دیہہ جماعتاں پاس جنہیں معمولی ترین شخصیات اور معمول کے واقعات ڈسکس کرنے کے علاوہ اور کسی کام کی نہ فکر نہ تمیز نہ ہوش… رہ گیا ملّا تو اسے فتوے مینوفیکچر کرنے سے ہی فرصت نہیں۔ ”اشرافیہ“ کے باقی حصے ا ور بھائی وال بھی بے علم، بے حس، بے حمیت تو یہ ملک کونڈا لیزا رائسوں اور ہیلری جیسی زنانیوں کے اشارے پر نہ ناچے تو کیاکرے؟ (جاری ہے)
http://search.jang.com.pk/archive/details.asp?nid=432156
Recent Comments