ہر دور کے اپنے محاورے ہوتے ہیں، ہم جب کالج میں پڑھتے تھے تو اس دور میں عیش و عشرت کے دلدادہ اور شراب و کباب و زن کے سمندر میں ڈبکیاں لینے والوں کو عیشی پٹھاکہتے تھے۔ جب بھی کبھی اس طرح کے شخص کا ذکر ہوتا تو یار لوگ عیشی پٹھا کہہ کر اس کی خوبیوں کے سمندر کو اس محاورے کے کوزے میں بند کردیتے ۔ رائج الوقت محاوروں کے معانی تلاش نہیں کئے جاتے کیونکہ وہ عام طور پر نسل در نسل بدلتے رہتے ہیں اور اپنے وقت میں ان کا مفہوم نہایت واضح اور عام فہم ہوتا ہے۔
آپ پوچھیں گے کہ مجھے یہ محاورہ پینتالیس برس بعد کیوں یاد آیا؟اس کی وجہ تسمیہ چند خبریں ہیں۔ کئی روز قبل اخبارات میں یہ خبر چھپی تھی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف اپنے کسی عزیز کی شادی میں شرکت کے لئے نیویارک تشریف لے گئے تھے۔اس شادی کی تقریب میں انہوں نے اس طرح ڈانس کیا کہ پاکستانی ہیجڑں کی یاد تازہ کردی۔ایک کالم نگار نے ہیجڑوں سے تشبیہ دیتے ہوئے معذرت کی تھی کہ اسے اس سے بہتر الفاظ نہیں مل سکے، پھر پتہ چلا کہ امریکی حکومت نے ہوائی اڈے پر ان کی خوب تلاشی لی اور پیٹی بھی اتروادی ۔ یہ خبر پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ یہ امریکی حکومت کا پرانا وطیرہ ہے جب ان کو کسی کی ضرورت نہیں رہتی تو وہ محاورے کی زبان میں اس کی پتلون بھی اتار دیتے ہیں۔
کل برطانیہ کی مشہور صحافی کرسٹینا لیمب نے انکشاف کیا کہ وہ جب لندن میں مقیم جنرل پرویز مشرف کا انٹرویو لینے گئی تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سابق صدر شراب نوشی میں مصروف تھے اور گانے والوں پر پچاس پچاس پونڈ کے نوٹ برسارہے تھے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے برطانوی حکومت کا سب سے بڑا کرنسی نوٹ پچاس پونڈ ہی ہے ورنہ جنرل مشرف ڈالروں میں داد دیتے تو سو سو ڈالر کے نوٹوں کی بارش کردیتے۔ کرسٹینا لیمب کو میں نے مشہور صحافی اس لئے لکھا کہ وہ پاکستان میں اپنی ایک کتاب کے لئے خاصی شہرت رکھتی ہے جو نوے کی دہائی میں چھپی تھی اور شاید اس کا نامWaiting for Allahہے۔ یہ کتاب مجھے اس لئے اچھی نہیں لگی تھی کہ اس میں کرسٹینا لیمب نے پہلی بینظیر حکومت کے وزیر داخلہ جناب اعتزاز احسن کے بارے میں کچھ قابل اعتراض باتیں لکھی تھیں۔ ان دنوں کرسٹینا اسلام آباد میں تعینات تھی اور اس کا دعویٰ تھا کہ وہ واقعات کی عینی شاہد ہے لیکن میری مجبوری یہ تھی کہ اگرچہ عزیزی اعتزاز احسن کی حکومت نے مجھ پر میاں نواز شریف کی قربت کا الزام لگا کر او ایس ڈی بنادیا تھا لیکن اس کے باوجود مجھے اعتزاز احسن نہایت عزیز تھے۔ اس لئے مجھے کرسٹینا کے لگائے گئے الزامات کچھ اچھے نہ لگے۔
شخصیات بھی کچھ حوالوں سے ہی عزیز ہوتی ہیں۔ اعتزاز سے میری ملاقاتیں چند ایک سے زیادہ نہیں اور وہ بھی سرسری لیکن مجھے وہ اپنے خاندانی پس منظر کی وجہ سے عزیز ہیں۔ اعتزازاحسن کے دادا جان مرحوم اور والد گرامی مرحوم تحریک پاکستان کے مخلص اور سرگرم سپاہی تھے۔ سوچ کے حوالے سے قائد اعظمی اور اقبالی تھے۔مجھے ہر وہ شخص عزیز ہوتا ہے اور پیارا لگتا ہے جو قائد اعظم کا سپاہی اور اقبال کا فکری مرید ہو۔ میں نے1987ء میں جب تحریک پاکستان کے کارکنوں کی عزت افزائی کے لئے انہیں طلائی تمغے دینے کا جو سلسلہ شروع کیا اور تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کی بنیاد رکھی تو طلائی تمغے حاصل کرنے والوں میں اعتزاز احسن کے مرحوم دادا جان بھی شامل تھے جن کا تمغہ شاید اعتزاز احسن نے وصول کیا تھا۔ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے؟گزشتہ صدی کے اواخر میں اعتزاز میاں نواز شریف کے جانی دشمن تھے اور آج وہ ان کے جگری دوست ہیں۔ میاں نواز شریف کی سرپرستی میں میں نے 1987ء میں کارکنان تحریک پاکستان ٹرسٹ کی بنیاد رکھی اور اسے کئی برس تک تن تنہا چلایا اور2006ء تک اس کا ٹرسٹی رہا پھر مستعفی ہوگیا۔ آج اس ٹرسٹ کا بانی ٹرسٹی اس کا بنیادی رکن بھی نہیں۔ میرے پسندیدہ سیاسی رہنما سردار عبدالرب نشتر (مرحوم)عام طور پر یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔
نیئرنگئی سیاست دوراں تو دیکھئے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
گزشتہ دنوں اٹھارویں آئینی ترمیم کے حوالے سے عزیزی اعتزاز احسن نے اپنی روایتی روشن خیالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر مملکت اور وزیر اعظم کے لئے مسلمان کی شرط نہیں ہونی چاہئے۔ ان کا یہ بیان پڑھ کر مجھے اپنے دوست اور سیاسی کارکن حاجی صاحب کا فون آیا۔ اعتزاز احسن کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ عزیزی کی والدہ تحریک پاکستان کی سرگرم رکن تھیں اور1947ء میں سول نافرمانی کی تحریک میں جیل بھی گئیں۔ اعتزاز اکثر اس گرفتاری پر فخر کرتے ہوئے کہا کرتا ہے کہ میں والدہ محترمہ کے ساتھ کم سنی میں جیل گیا اور تحریک پاکستان کا کم عمر قیدی بنا۔اعتزاز کو یقینا علم ہوگا کہ اس کی والدہ محترمہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو پاکستان کا سربراہ بنانے کے لئے جیل گئیں تھیں یا قائد اعظم کو۔ میں نے حاجی صاحب کی بات سنی ان سنی کردی کیونکہ مجھے اعتزاز کے خلاف جانے والی بات اچھی نہیں لگتی۔ اعتزاز تو ابھی تک بضد ہے کہ قائد اعظم محض ایک مسلمان ریاست قائم کرنا چاہتے تھے حالانکہ قائد اعظم نے ایک سو ایک بار واضح کیا کہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی اور جمہوری ریاست ہوگی۔انہوں نے قیام پاکستان کے بعد کئی بار کہا کہ پاکستان کے آئین اور نظام کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ اس لئے یہ محض ایک مسلمان ریاست کا تصور نہیں تھا۔ دیکھا جائے تو مجھے اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ پاکستان مسلمان ریاست ہو یا ایسی جمہوری اورفلاحی ریاست جس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر ہو لیکن یہ مسئلہ میری ذات کا نہیں۔ مسئلہ قائد اعظم کے تصور پاکستان کی وضاحت کا ہے جس کی غلط تعبیرقابل برداشت نہیں۔
دوستو!معاف کرنا بات چلی تھی پاکستان کے عیشی پٹھے جنرل پرویز مشرف سے اور لندن کی سڑکوں سے ہوتی ہوئی پاکستان کے گلی کوچوں میں پھیل گئی۔ ہمار ا عیشی پٹھا بیرون ملک عیش کررہا ہے اور پونڈوں کی یوں بارش کررہا ہے جیسے وہ ہی دنیاکا رئیس ترین آمر ہو۔ اسی شہر لندن میں ہمارا پہلا جلا وطن سابق صدر سکندر مرزا پیٹ پالنے کے لئے ایک ہوٹل کی نوکری کرنے پر مجبور تھا اور اسی شہر لندن میں عیشی پٹھا کروڑوں پونڈ مالیت کی پراپرٹی کا مالک ہے۔ وہ دولت میں کھیلتا اور شراب میں نہاتا ہے حالانکہ جب اس نے نوکری کا آغاز کیا تو اس کے کل اثاثے دو تین سو روپوں سے زیادہ نہیں تھے۔ یہ اثاثے اس نے1999ء میں چیف ایگزیکٹو بنتے ہی ڈکلیئر کئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ یہ عیشی پٹھا اتنے عرصے میں چیتھڑوں سے ارب پتی کیسے بنا کیونکہ وہ نہ ہی بزنس مین ہے اور نہ صنعتکار ۔ وہ محض ایک سرکاری ملازم تھا آپ بھی اس پر غور کیجئے اور میں بھی اس راز کو پانے کی کوششیں کرتا ہوں۔

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha