دونوں ہی رج کے ڈھیٹ ہیں۔
ہم جیسے تنقید سے باز نہیں آتے اور وہ ”تخریب“ سے باز نہیں آتے لیکن ایک بات طے ہے کہ جتنی یکسوئی، تندہی، ہوشمندی، کمٹمنٹ اور اتفاق و اتحاد کے ساتھ حکمرانوں نے دہشت گردی کے کچھ دانت نکالے اور کچھ کھٹے کئے ہیں … وہ قابل داد ہے بشرطیکہ یہ لوگ اس مہم کو مکمل طور پر منطقی انجام تک پہنچانے سے پہلے ہی ریلیکس نہ کر جائیں۔ راکھ کے ڈھیر میں ایک آدھ شعلہ یا چنگاری بھی باقی رہ گئی تو کسی بھی وقت الاؤ بلکہ آتش فشاں کا روپ دھار سکتی ہے۔ دارا شکوہ کی سزائے موت پر عملدرآمد کے بعد اس کا ایک بیٹا اورنگ زیب عالمگیر کے سامنے پیش کیا گیا تو مختصر سے مکالمہ کے بعد اورنگ زیب زیر لب بڑبڑایا……
”سانپ کا پھن کچلنے کے بعد سپولیئے کی پرورش کرنا دانش مندی نہیں۔“
عرض کرنے کا مقصد یہ کہ اگر اس ملک کی اشرافیہ کسی معاملہ اور مسئلہ میں سچ مچ سنجیدہ ہو تو اس کا حل نکال ہی لیتی ہے جس کی تازہ ترین مثال دہشت گردی کو نتھ ڈالنا اور ذرا پرانی مثال نامساعد ترین حالات میں بھی ملک کو ایٹمی طاقت بنانا ہے۔ دہشت گردی کو لگام دینا ایٹم بم بنانے سے کم چیلنج نہیں لیکن اس کارنامہ کی اہمیت اس لئے کچھ کم ہو جاتی ہے کہ اس مقصد کے حصول میں پوری مہذب دنیا مع سپر پاور ہمارے ساتھ تھی اور ہے جبکہ ایٹم بم بنانے کے معاملے میں مہذب دنیا منافق دنیا کا رول پلے کر رہی تھی اور کوئی قابل ذکر گلوبل پاور یہ نہیں چاہتی تھی کہ پاکستان ایٹمی اسلحہ سے لیس ہو جائے لیکن کیونکہ ہماری سول و ملٹری اشرافیہ نے ایٹمی طاقت بننے کا فیصلہ کر لیا تھا سو…”STEEL’ BORROW BEG” والے محاورے کی روشنی میں یہ غریب اور غیر ترقی یافتہ ملک ایٹمی طاقت بن گیا۔ ایٹمی طاقت بننے کی ”کاز“ کے ساتھ ہماری سول و ملٹری اشرافیہ اس قدر متحد و مخلص تھی کہ قاتل اور مقتول بھی اس پر متفق پائے گئے یعنی مقتول ذوالفقار علی بھٹو نے اسے سوچا اور شروع کیا، قاتل ضیاء الحق نے اسے جاری رکھا اور پھر دونوں کے ورثاء بے نظیر اور نواز شریف نے بھی کسر نہیں چھوڑی اور ہر نام نہاد اپوزیشن بھی ساتھ ساتھ تھی۔
اس تمہید کی سمری، باٹم لائن، گرینڈ ٹوٹل اور اس کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ اس ملک کی اشرافیہ کتنی ہی غیر ذمہ دار، نالائق اور خود غرض کیوں نہ ہو … لیکن جس کام کا فیصلہ کر لے اسے منطقی انجام تک پہنچانے میں کامیاب ہو ہی جاتی ہے۔
اور اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ یہ اشرافیہ عوام کی بہتری، بھلائی، فلاح و بہبود اور خوشحالی کے ایشوز پر اس بری طرح ناکام کیوں ہے؟ تو میں حلفاً عرض کرتا ہوں کہ انہیں ان موضوعات… ان ایشوز… ان مسائل کے ساتھ کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے اور یہ سب کچھ ان کے ایجنڈے میں ہی شامل نہیں ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایٹم بم بنانے اور دہشت گردی کو ٹھکانے لگانے والی ہماری سول و ملٹری اشرافیہ اپنے عوام کو معاشی ریلیف نہ دے سکے … بچوں کو یکساں اور بھرپور تعلیم نہ دے سکے … اپنے شہریوں کو اعلیٰ ترین علاج کی سہولتیں مہیا نہ کر سکے، تھانے اور پٹوار خانے سے ان کی جان نہ چھڑا سکے، ہر ٹیکس ایبل سے پورا ٹیکس نہ وصول سکے، ملکی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی نہ بنا سکے، ملاوٹ سے بھرپور خوردونوش کے سامان سے لے کر جعلی دواؤں تک کو فنا نہ کر سکے، قدم قدم پر رشوت کا کلچر ختم نہ کر سکے، لاؤڈ سپیکر کا مکروہ بدبودار استعمال نہ بند کرا سکے، بے تحاشہ بڑھتی آبادی کو کینڈے میں نہ لا سکے، معاشی اجارہ داریوں کا قلعہ قمع نہ کر سکے، معیشت کو جمپ سٹارٹ نہ دے سکے، قیمتوں کو کنٹرول میں نہ رکھ سکے، ٹریفک کو منظم نہ کر سکے، مختلف محکموں کو مخصوص دنوں کے اندر اندر فیصلے کرنے کا پابند نہ کر سکے علی ہذا القیاس
لیکن افسوس… افسوس صد افسوس طویل سوچ بچار اور غور و فکر کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس ملک کی اشرافیہ کو ان کاموں کے ساتھ کوئی دلچسپی ہی نہیں بلکہ کبھی کبھی تو گمان گزرتا ہے کہ یہ جان بوجھ کر ایک سوچے سمجھے منصوبے اور ڈیزائن کے تحت عوام کو رسواء و پسپا، ذلیل و خوار رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی ”خفیہ کوشش“ ہی یہ ہے کہ عوام کو ہر وقت اپنی پڑی رہے… صبح کی روٹی مل جائے تو یہ دوپہر کی کے چکر میں پڑجائیں… دوپہر کی نصیب ہو جائے تو انہیں شام کی پڑ جائے… عوام کے پاس کھانے کو ہو تو دوا دارو کی مصیبت نظر آئے … یہ سب کچھ ہو تو بچوں کی فیسیں مسئلہ بن جائیں … ان مسائل سے فارغ ہوں تو تھانے کی بدمعاشی، پٹوار کی عیاشی یا کچہری کی سنیاسی… یہ ہر قیمت پر عوام کو بنیادی مسائل میں الجھائے رکھنا چاہتے ہیں ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تمام دنیا کی مخالفت کے باوجود ایٹم بم بنانے اور آستین کے سانپوں کی صورت والے دہشت گرد بھگتانے والی اشرافیہ اپنے شہریوں بلکہ رعایا کو ایک آرام دہ اور باعزت زندگی بھی نہ دے سکے جو دو ٹکے کا بہت ہی معمولی کام ہے بشرطیکہ ہماری سول و ملٹری اشرافیہ اس کارخیر پر بھی اسی طرح یکسو اور متفق ہو جائے جیسے ایٹم بم بنانے یا دہشت گردی ختم کرانے پر تھی لیکن افسوس … صد افسوس عوام کا سکھ، سکون، عزت کسی کے ایجنڈے پر ہی نہیں!
غور سے سنو جھوٹے جعلی عزت دارو!
عوام رسوا و پسپا، ذلیل و خوار رہے تو آخر کار تمہارا انجام بھی عوام سا ہی ہو گا!!!
Recent Comments