جنیریٹر جمہوریت نے جمہور کی چولیں ہلا دی ہیں۔ حکمران بالوں میں جیم اور ڈبل روٹی کے سلائسوں پر جیل لگانے میں مصروف ہیں۔ وہ زمانے گئے جب محبوب کو گلاب اور موتیئے کے پھول مار کر جگایا جاتا تھا۔ اب محبو ب عوام کو مہنگائی کے میزائل اور گرانی کے گملے مار مار کر جگایا جاتا ہے۔ میگا واٹوں میں اضافہ ہو نہ ہو لیکن الو باٹوں کی تعداد میں زبردست اضافہ جاری ہے۔ کسی کا سر تو کسی کا پاؤں بھاری ہے لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ جعلی ڈگریوں کا کھراناپنا دراصل کس ایڈونچر کی تیاری ہے۔ کاروباری مراکز 8بجے بند کرنے کی بجائے مستقلاً ہی بند کردئیے جائیں تو انرجی کرائسز مکمل کنٹرول ہوسکتا ہے۔ گلوں میں رنگ بھرنے پر گلشن کا کاروبار چل بھی پڑا تو گامے ماجھے کا کاروبار کون چلائے گا؟کوئی چھج بتاشے بانٹ رہا ہے کوئی چھوہارے تقسیم کررہا ہے جبکہ عوام کو صرف برقی روکاانتظار ہے جن سے امید تھی کہ ستاروں پر کمندیں ڈالیں گے حالات نے انہیں کنڈے ڈالنے پر مجبور کردیا ۔اندھیرے کے خوف سے مرغیاں بھی انڈے دینے کی بجائے ڈائریکٹ چوزے دینے کا سوچ رہی ہیں ، بھوک کا یہ عالم ہے کہ کتیا چوں کئے بغیر چب چاپ ٹرک کے نیچے آکر مرگئی۔ تحقیق کرنے پرمعلوم ہوا کہ چوں اس لئے نہیں کی کہ کئی دنوں سے بھوکی پیاسی تھی۔ کسی میں خون کی کمی کا سنتے تھے تو کسی میں پانی کی کمی کا لیکن حکومت میں اخلاق اور احساس کی کمی ہے، باقی سب کچھ پورا ہے۔ سنا ہے ترقی یافتہ ممالک میں بجلی کی مصنوعات بنانے والی کمپنیاں بغیر بجلی سے چلنے والی”الیکٹرانکس“ بنا کر پاکستان کو ایکسپورٹ کرنے کا سوچ رہی ہیں۔
مہنگائی کا طوفان ہے…بجلی کا بحران ہے ، یہ کس کا پاکستان ہے جس میں عوام بدحال اور حکمران خوشحال ہیں اور کمال تو دیکھو کہ… عوام کو طاقت کا سرچشمہ قرار دینے والی پارٹی کا وزیر اعظم اس بات پر فخر کررہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ حکومت کے ساتھ ہے۔ واقعی عوام ساتھ ہوں نہ ہوں اسٹیبلشمنٹ کو ہر قیمت پر ساتھ ہونا چاہئے کہ اس طرح حکومت محفوظ بھی ہوجاتی ہے اور مضبوط بھی… سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ عوام کے لئے کچھ کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی بلکہ چاہو تو پورے اعتماد کے ساتھ عوام کو نچوڑتے بھنبھوڑتے رہو، کیونکہ اسٹیبلشمنٹ پشت پر کھڑی ہو تو عوام بھی کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے جس کا ثبوت سامنا ہے کہ عوام محو ماتم ہیں اورحکمران مسکراہٹوں کے تبادلے میں مصروف ہیں۔ ویسے تھوڑا سا کنفیوژن یہ ہے کہ وزیر اعظم نے جس اسٹیبلشمنٹ کے” ساتھ“ کی بات کی ہے وہ لوکل اسٹیبلشمنٹ ہے یا گلوبل؟قومی اسٹیبلشمنٹ ہے یا بین الاقوامی؟ اور اگر دونوں قسم کی اسٹیبلشمنٹ حکومت کے ساتھ ہے تو سمجھیں عوام کے ساتھ ہاتھ ہوگیا اور انہیں کسی قیمت پر کوئی ریلیف نہیں ملے گا بلکہ ان کی تکلیف میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
نجانے کس کی نحوست ہے بلکہ کس کس کی نحوست ہے کہ یہاں اچھی خبر بھی بری بن جاتی ہے ۔ کتنی اچھی خبر ہے کہ گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی اور کتنی بری خبر ہے کہ یہ اچھی فصل سنبھالے نہیں سنبھل رہی۔ گندم اور کسان دونوں ہی دھکے کھاتے پھر رہے ہیں اور میری حالت یہ ہوگئی کہ مارے خوف کے فون نہیں سن رہا کہ ہر طرف سے ایک ہی پکار ہے فصل اور کاشت کار دونوں ہی خوار ہورہے ہیں۔ میں نے کسی سے پوچھا کہ ”بھائی میرے! مجھے کیوں بتارہے ہو؟ میں تمہارے لئے کر تو کچھ بھی نہیں سکتا“ …تو زمیندارنے کہا کہ کم ا ز کم عوام کو تو بتاسکتے ہوکہ ہمارے ساتھ کیا بیت رہی ہے۔ آپ نے کاٹن انڈسٹری سے لے کر لیدر انڈسٹری تک کے مسائل پر جی کھول کے لکھا ہے تو چند سطریں اپنے کسان بھائیوں کے لئے بھی گھسیٹ دو کہ ہمیں تو نہ کوئی اخبار پوچھتا ہے نہ کسی چینل کو پرواہ ہے۔ ان سب کو چسکے دار کہانیوں یا سنسنی خیز خبروں کے علاوہ اور کسی بات سے کوئی دلچسپی ہی نہیں، ورنہ کوئی تو کسانوں سے بھی پوچھتا کہ ان کے ساتھ کیسی کیسی واردات ہورہی ہے۔
کالم یہیں تک پہنچا تھا کہ اخبارات کا ڈھیر بھی پہنچ گیا جس میں یہ خوشخبری جلی حروف میں موجود تھی کہ جنیریٹر جمہوریت نے عوام کے منہ پر مزید چند تھپڑ رسید کئے ہیں، یعنی پٹرول 1.94، ڈیزل3.41اور مٹی کا تیل4.08 روپے مزید مہنگا یعنی اوور آل مہنگائی کی ایک اور لہر … ایک اور ریلا…ایک اور راؤنڈ
قوم کو مہنگائی کے یہ مزید جمہوری تھپڑ مبار ک ہوں

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=429424

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha