یہ 1998ء کا واقعہ ہے کہ میں یونیسکو کے ایک وفد کے سربراہ کی حیثیت سے سرکاری طور پر بنگلہ دیش گیا۔یہ دس دن کا دورہ تھا اور میرے وفد میں پانچ چھ ماہرین تعلیم شامل تھے۔ ایک روز ہ ہمیں بنگلہ دیش کی اہم اور ممتاز این جی او ”براک “ پر بریفنگ کی دعوت دی گئی ۔ ملاقاتوں، باتوں اور چائے کی تواضح کے بعد ہمیں بریفنگ روم میں لے جایا گیا ۔ روشنیاں بجھانے کے بعد جب براک کے ایک اعلیٰ افسر نے ویڈیو کا بٹن دبایا تو خوبصورت سکرین پر استقبالیہ خوش آمدید کے فقرے ابھرے اور پھر اچانک یہ فقرے سنائی دیئے۔ سنائی دینے والے فقرے سامنے سکرین پر بھی نمودار ہو رہے تھے ۔ یہ فقرے کچھ یوں تھے ۔16دسمبر 1971ء دشمن کو شکست دینے کے بعد اس کا صفایا کر دیا گیا اور دشمن کی فوج ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئی ۔ اس کے بعد پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے جنرل نیازی کو جوتے پڑنے اور دوسرے ایسے مناظر تھے جو میرے لئے قابل برداشت نہ تھے ۔ مجھے یوں لگا جیسے کسی نے میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ہوں ۔میں نے اپنے حواس پر قابو پاکر براک کے ایک افسر کو اپنے پاس بلایا اور اس سے کہا کہ آپ جانتے ہیں میں پاکستان سے ہوں۔ یہ الفاظ سن کر وہ اٹھا اور اس نے وڈیو بند کر دی اور زبانی براک کے قیام اور کارکردگی پر روشنی ڈال کر میٹنگ برخاست کر دی ۔ ہم باہر نکلے تو وہ شخص میرے ساتھ اردو میں باتیں کرنے لگا ۔ اس کا کہنا تھا کہ ”سر فوج نے مارچ 1971ء میں جو مظالم ڈھائے اور جس طرح بنگالیوں کا قتل عام کیا اس کا مغربی پاکستان میں رہنے والوں کو پوری طرح علم نہیں ۔ آپ کے لئے یہ وڈیو ناقابل برداشت تھی لیکن سر ! یہ ہماری جنگ آزادی کی کہانی بیان کرتی ہے ۔ آپ کے لئے 16دسمبر 1971ء یوم سیاہ ہے جبکہ یہ ہمارا یوم آزادی ہے ۔ آپ اسے نفرت کی داستان سمجھتے ہیں جبکہ یہ ہماری تاریخ ہے۔ یہ تاریخ خون، آنسوؤں اور آہوں سے لکھی جا چکی اب اسے بدلا نہیں جا سکتا۔ پھر اس نے مجھ سے چبھتا ہوا سوال کیا۔ کیا 1857ء اور 1947ء کی تاریخ کو بدلا جا سکتا ہے؟ کیا بنیادی حقائق پر پردہ ڈالا جا سکتا ہے؟ میں اسکی باتیں سنتا رہا، جواب بھی دیتا رہا لیکن ساتھ ہی ساتھ میں اپنے باطن کے سمندر میں ڈوبتا چلا گیا۔ ہم براک کے دفتر سے نکل کر گاڑیوں میں بیٹھ گئے لیکن اس شخص کا ایک فقرہ دن بھر میرا پیچھا کرتا رہا ۔”جسے آپ نفرت کی کہانی کہتے ہیں یہ ہماری تاریخ ہے، تاریخ کے حقائق پر پردہ ڈالا جا سکتا ہے نہ ان سے دامن چھڑایا جا سکتا ہے ۔“
منظرنامہ بدلتا ہے جس طرح اقوام میں سیکورٹی کونسل ہوتی ہے اسی طرح یونیسکو میں ایگزیکٹو بورڈ ہوتا ہے جو یونیسکو کی کارکردگی کی نگرانی کرتا ہے ۔ یونیسکو کے 186رکن ممالک اس کے ایگزیکٹو بورڈ کے اراکین منتخب کرتے ہیں۔میں بھی اس بورڈ کا منتخب رکن رہا ہوں۔1998ء میں ایک روز افریقہ کے ایک سیاہ فام رکن نے غلامی (SLAVERY) کے خاتمے کے حوالے سے ایک قرارداد پیش کی جس کی میں نے جوش وخروش سے حمایت کی تو وہ شخص اپنی کرسی سے اٹھ کر میرے پاس آیا اور محبت سے میرا ہاتھ چوم لیا۔ جب اس رکن نے اپنی قرار داد کے حوالے سے یورپی اقوام اور خاص طور پر امریکہ کے انسانیت سوز مظالم کا ذکر کیا جو کالوں پر ڈھائے گئے تو ایک گورے نے فقرہ کسا”اب نفرت کی داستانیں سنا کر زہر بھرنے کا کیا فائدہ؟“ اس شخص نے نظر کی عینک اتار کر میز پر رکھی اور یورپی رکن کو گھورتے ہوئے جواب دیا ”جسے تم نفرت کی داستان کہتے ہو وہ ہماری تاریخ ہے۔ تاریخ اٹل ہوتی ہے اور حقائق سے منہ نہیں موڑا جا سکتا۔ ہم نے صدیوں تک انسانیت سوز مظالم برداشت کئے تم انہیں چند منٹ بھی سننے کے لئے تیار نہیں “؟
ہر دور میں کچھ دانشور کچھ فلسفے بگھارتے ، نئی اصطلاحیں اور نئے الفاظ تصورات متعارف کراتے اور پرکشش نعرے ایجاد کرتے ہیں ۔پاکستان میں بھی میں گزشتہ چالیس برسوں سے مختلف مکاتب فکر کی آراء اور خیالات کی لہروں کو ابھرتے اور ڈوبتے ہوئے دیکھتا رہا ہوں ۔ آج کل ایک طرف لبرل ازم بروزن روشن خیالی کا چرچا ہے تو دوسری طرف کچھ لکھاریوں نے نفرت کا فلسفہ بگھارنا شروع کر دیا ہے ۔ انہیں اپنے اپنے ہم خیال میڈیا کی حمایت حاصل ہے اور ظاہر ہے کہ میڈیا رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار سرانجام دیتا ہے۔ میرے مہربان ڈاکٹر مبارک علی اور ان کے حامیوں کا فلسفہ حیات یہ ہے کہ ہمیں مذہب اور قرآن سے ماوراء یعنی بلند ہو کر سوچنا چاہئے جبکہ ہم جیسے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ روشن خیالی، تحقیق، سائنسی ریسرچ و ایجادات، فلسفہ و تاریخ اسلامی تاریخ و تہذیب کا حصہ ہیں لیکن مسلمان بشرطیکہ وہ صرف نام کا مسلمان نہ ہو ۔ قرآن سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اسلئے مذہب سے ماوراء نہیں سوچ سکتا ،بلکہ مسلمان کی زندگی ، سوچ اور فکر بہرحال قرآن کے تابع ہوتی ہے جس کی ایک روشن مثال علاقہ اقبال بھی ہیں جنہیں عالمی سطح پر ایک مفکر اور شاعر کا مرتبہ حاصل ہے ۔ اگر قرآن انکی عظمت فکر کے راستے میں حائل نہیں ہوا بلکہ انہیں ان بلندیوں پر پہنچانے کا ذریعہ بنا تو پھر آپ کو اس سے خطرہ کیونکر ہے ؟اسی مکتبہ فکر نے امن کی آشا سے روشنی حاصل کرتے ہوئے یہ کہنا شروع کیا ہے کہ ہماری نصابی کتابیں ہندوستان کی نفرت سے بھری پڑی ہیں ۔میرے مہربان ڈاکٹر مبارک علی اور امرجلیل کے علاوہ کچھ اور روشن خیال دانشور اور لکھاری بھی اس فلسفے کی حمایت کرکے روشن خیالی کی سند حاصل کرنے کی سعی کر رہے ہیں کہ یہ سکہ رائج الوقت ہے ۔میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ جن حقائق کو وہ نفرت کا نام دیتے ہیں وہ آزادی ہند، تقسیم ہند اور تحریک پاکستان پر لکھی گئی تمام تحقیقی کتابوں، پی ایچ ڈی کے مقالوں اور سوانح عمریوں میں موجود ہیں چاہے انکے مصنفین انگریز، امریکی ، فرانسیسی یا پاکستانی ہوں ۔ تھوڑی بہت کمی بیشی کے ساتھ بنیادی حقائق وہی رکھتے ہیں البتہ تجزیات میں کسی حد تک فرق ہوتا ہے اگر یہ لکھا جائے کہ سرسید، قائد اعظم، اقبال حتیٰ کہ ہر بڑامسلمان لیڈر آغاز میں ہندو مسلم اتحاد کا داعی تھا لیکن کانگریسی لیڈروں کے باطن میں جھانکنے کے بعد اسے ترک کر بیٹھا اور بالاخر اس نتیجے پر پہنچا کہ ہندو مسلمان الگ الگ قومیں ہیں تو یہ ہماری تاریخ، اور تحریک کی ایک بنیادی حقیقت ہے جسے ہمارے نام نہاد روشن خیال نفرت کی بنیاد کہتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق نفرت اور علیحدگی نے اسی مقام پر جنم لیا۔گویا تاریخ کو نفرت سے پاک کرنے کیلئے یہ لکھنا چاہئے کہ ہمارے یہ تمام رہنما ہندو مسلمان اتحاد کے پیامبر تھے اور ہندوؤں مسلمانوں کو ایک قوم سمجھتے تھے ۔ جو لوگ اس کے برعکس لکھتے ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔ مختصر یہ کہ نہ کبھی قائد اعظم نے کانگریس سے استعفیٰ دیا نہ کبھی نہرو رپورٹ کو راستوں کی علیحدگی (PARTING OF WAYS)قرار دیا ۔
کانگرس مسلمانوں سے بے پناہ محبت کرتی تھی اور ان کے تمام مطالبات کو نہ صرف تسلیم کرتی تھی بلکہ ان کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بھی بے تاب رہتی تھی حتیٰ کہ جسونت سنگھ نے بھی کانگریسی رویے کی مذمت کرکے نفرت پھیلائی ہے۔ خود گاندھی اور ان کے حمایتی شدت پسند ہندوؤں نے کبھی نہیں کہا کہ جو مسلمان ہندو دھرم میں واپس نہیں آتے انہیں بحرہ عرب میں پھینک دو، بٹوارے کے وقت مسلمانوں کے خون کی ندیاں نہیں بہائی گئیں بلکہ انہیں ہار پہنا کر رخصت کیا گیا۔ہندوستان نے مسلمان اکثریتی کشمیر کئی بار پاکستان کو دینا چاہا لیکن پاکستان لیتا ہی نہیں اور نہ ہی آج کل ہندوستان پاکستان کو آبی قحط کے ذریعے ریگستان میں بدلنے کی سازش کر رہا ہے۔ جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے اور لکھتے ہیں وہ نفرت کے پیامبر ہیں۔
یارو سچی بات یہ ہے کہ یہ لوگ جسے نفرت کی داستان کہتے ہیں وہ نفرت کی کہانی نہیں بلکہ ہماری تاریخ ہے اور یہ ہماری تاریخ کے بنیادی حقائق ہیں۔ تاریخ بدلی جا سکتی ہے نہ ان حقائق سے دامن چھڑایا جا سکتا ہے کیونکہ اقبال وحی کے بعد تاریخ کو علم کا اصلی ماخذ قرار دیتا ہے ۔ تاریخ قوم کا حافظہ ہوتی ہے اور ہمارا تو جغرافیہ ہی ہماری تاریخ کی پیداوار ہے ۔ بہت سی قوموں نے تاریخی مخاصمت کے باوجود دوستی کی منزلیں طے کیں اور اپنی تاریخ کو بدلے بغیر دوستی کے رشتے استوار کئے ۔ پاکستان ہندوستان بھی ایسا کرسکتے ہیں لیکن اسکی بنیادی شرط بنیادی مسائل کا حل ہے جن میں کشمیر سرفہرست ہے اور پانی کا مسئلہ بھی ہمارے لئے زندگی و موت کا مسئلہ بن چکا ہے ۔ اگر بنیادی شرط بنیادی مسائل کا حل ہے جن میں کشمیر سرفہرست ہے اور پانی کا مسئلہ بھی ہمارے لئے زندگی و موت کا مسئلہ بن چکا ہے ۔اگر بنیادی مسائل حل ہو جائیں تو یقین رکھیئے کہ تاریخ اس دوستی کی راہ میں حائل نہیں ہو گی۔ براہ کرم تاریخ کو نفرت سے پاک کرنے کی بجائے ہندوستان پر مسائل کے حل کے لئے زور دیجئے کیونکہ جسے آپ نفرت کی داستان کہتے ہیں وہ ہماری تاریخ ہے۔
Recent Comments