گزرے دنوں کی بات ہے۔ میں ملتان سے اسلام آباد نیا نیا آیا تھا۔ رپورٹنگ کی کوئی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ ملتان میں جمشید رضوانی کے ساتھ گھنٹوں بیٹھ کر اپنے اس اندرونی خوف پر کئی راتیں ریڈیو پاکستان ملتان کے سامنے واقع ایک کھوکھے پر رات گئے چائے کے کپ پی پی کر قابو پانے کی کوشش کی۔ جمشید رضوانی ان دوستوں میں سے تھا جن سے میں نے واقعی جرنلزم سیکھی تھی۔ تاہم جمشید کو بھی سمجھ نہیں آتی تھی کہ اسلام آباد میں کس طرح کی رپورٹنگ کی جا سکتی تھی۔ نذر بلوچ نے کہا تھا کچھ بھی ہو جائے اسلام آباد سے واپس نہیں آنا۔ یہ شہر پہلے چھ مہینے کوشش کرتا ہے کہ یہاں آنے والا ہر شخص تنہائی کی وحشتوں سے فرار ہو کر واپس لوٹ جائے۔ اگر چھ مہینے گزار لیے تو پھر یہ شہر آپ کو کہیں اور رہنے کے قابل نہیں چھوڑتا۔ نذر بلوچ کی یہ بات صحیح نکلی۔
یہ میں ہی جانتا ہوں کہ اس اجنبی شہر میں ملتانی دوستوں کے بغیر یہ دن کیسے گزرے۔ وہ پہلے چھ مہینے واقعی ایک عذاب تھے۔
ایک دن مختار پارس مجھے وزارت قانون میں تعینات ایک افسر سے ملانے لے گئے۔ سید سلطان شاہ ایک ایسے افسر نکلے جو اپنی گفتگو سے لوگوں کو چند لمحوں میں اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں۔ ان دنوں تازہ تازہ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ارشاد حسن خان کی زیر صدارت فل بنچ نے جنرل مشرف کے اس ملک اور جمہوریت پر مارے گئے شب خون کو قانونی شکل دی تھی۔ میں نے شاہ صاحب کی خوبصورت گفتگو کے دوران طنزیہ انداز میں اعلیٰ عدلیہ کے زوال پر ایک فقرہ کسا تو وہ مسکرائے اور بولے برخوردار اس ملک میں کیونکہ پڑھنے کی عادت کسی کو نہیں ہے اور نہ ہی یہاں کتابیں لکھی جاتی ہیں جن میں تاریخ کو آنے والی نسلوں کیلئے قلمبند کیا جائے۔ کبھی تمہیں وقت ملے تو جا کر 1962ء میں جنرل ایوب کے ایک رشتہ دار کرنل یوسف اور ایک سول بیورو کریٹ کے درمیان چھڑنے والی ایک قانونی جنگ کو بھی پڑھ لینا کہ کیسے اس دور کی عدالتوں نے جنرل ایوب کے زیر سایہ رہتے ہوئے بھی ایک سول سرونٹ کو انصاف دلایا تھا۔ میری دلچسپی بڑھتے دیکھ کر وہ بولے کہ دراصل یہ کرنل یوسف اور ایک سول سرونٹ کی غیر ملکی بیوی کے درمیان شروع ہونے والے ایک ایسے لوّ آفیئر کی کہانی ہے جس نے اس دور کے فوجی حکمرانوں، سول سرونٹس اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ برخوردار اس کیس کی چالیس سالہ پرانی روداد پڑھ کر تمہیں اندازہ ہوگا کہ عورت کی محبت اور بے وفائی کیا چیز ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر جب کسی مرد کی انا مجروح ہوتی ہے تو پھر کیسے ایک سول سرونٹ اپنا کیریئر اور زندگی داؤ پر لگا کر ایک پوری فوجی حکومت کے خلاف اپنی عزت اور وقار کیلئے جنگ لڑتا ہے۔ یہ کیس پڑھ کر تمہیں یہ بھی اندازہ ہوگا کہ ماضی میں کچھ ایسے جج عدالتوں میں بیٹھتے رہے ہیں جنہوں نے انصاف کیا تھا۔
سید سلطان شاہ کی محسور کن آواز نے میرے اوپر ایک ایسا سحر باندھا کہ کئی ہفتوں کی تلاش کے بعد میں نے 1962ء میں اس جنگ کی روداد ڈھونڈ نکالی۔ ایک مرد یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ اس کی بیوی اور تین بچوں کی ماں ایک فوجی افسر کے رومانس میں اس کا گھر چھوڑ کر چلی جائے ۔
جب میں نے وہ پورا عدالتی کیس کھنگالا تھا تو میں نے اسی وقت سوچ لیا تھا کہ کسی دن میں ان تین کرداروں پر ضرور کوئی کہانی لکھوں گا۔ کئی برس گزر گئے وہ کہانی میرے ذہن سے نہ اتری۔ میں بھی ایک روایتی اور سست صحافی کی طرح محض ایک دن کی خبر ڈھونڈنے کیلئے سرگرداں رہا۔
یہ لوا سٹوری 1962 مجھے لندن کے بڑے بڑے بک سٹورز پر اکثر شدت سے یاد آتی۔ میں جس کتاب کو بھی ہاتھ لگاتا تو پتہ چلتا کہ وہ وہاں کے صحافی نے لکھی تھی۔ یورپین صحافی کیلئے ریسرچ اور کتاب لکھنا اس کے پروفیشن کا لازمی حصہ ہے۔ میری حیرانی کی انتہاء نہ رہی جب میں نے وہاں پاکستان کے بارے میں لکھی ہوئی غیر ملکی صحافیوں کی درجنوں بیسٹ سیلنگ بُکس دیکھیں۔ حالیہ دنوں میں امریکہ میں دو صحافیوں نے پاکستان کے بارے میں دو تہلکہ خیز کتابیں لکھی ہیں۔ ان صحافیوں نے ہی یہ انکشافات کیے تھے کہ بینظیر بھٹو کو کس طرح مارا گیا تھا اور کیسے جنرل مشرف نے محترمہ کو یہ دھمکی دی تھی جسے ٹیپ کر لیا گیا تھا کہ پاکستان میں اس کی سیکیورٹی کا انحصار جنرل مشرف کے ساتھ تعلقات پر تھا۔ میں ان صحافیوں کی کتابیں پڑھ کر اکثر حیران ہوتا ہوں کہ یہ کتنی محنت کرتے ہیں۔ کتنے ہزاروں صفحات پر پھیلی دستاویزات پڑھ کر ان میں سے کہانی ڈھونڈتے ہیں اور بڑے خوبصورت انداز میں اس کہانی کو پیش کرتے ہیں۔ یہ کہانیاں ہمارے ملک کے بارے میں ہوتی ہیں اور ہمیں ان کا پتہ ان غیر ملکی صحافیوں سے لگتا ہے۔
یہی وجہ تھی جب میں سپریم کورٹ میں دس دن تک ایل این جی کیس کے حوالے سے پیش ہوتا رہا تو میرے ذہن میں یہی بات آتی رہی کہ ان کہانیوں اور سکینڈلز کو محض اخبار کے ایک دن کی زندگی میں دفن نہیں ہو جانا چاہیے۔ ایل این جی سکینڈل پر ایک پوری کتاب لکھی جانی چاہیے۔ اس کہانی میں اتنا کچھ مواد ہے کہ یہ پڑھنے والے کو اپنے سحر میں لے لے گی۔
اس کتاب میں میں تین باب شامل کر رہا ہوں۔ ایک میں ایل این جی سکینڈل، دوسرے میں لوّ سٹوری 1962 اور تیسرے میں ایک ڈیڑھ سو ملین ڈالر کے سکینڈل کی ایک نئی کہانی سامنے لائی جائے گی جو اب تک کہیں نہیں چھپی۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک ایسا سکینڈل تھا جس میں نیب نے ایک چینی ملٹی نیشنل کے نائب صدر اور اس کے پاکستانی پارٹنرز کو کیسے خفیہ کیمروں کی مدد سے 20 ملین ڈالر کی رشوت آفر کرتے ہوئے پکڑا تھا۔ سترہ کیسٹوں پر محیط ان ویڈیو فلموں میں بڑے بڑے شرفاء شامل تھے۔ یہ رشوت ایک پاکستانی کمپنی کے ایماندار شخص کو پیش کی گئی تھی جس کی فرم نے کئی ملین ڈالرز کا ایک کنٹریکٹ جیتا تھا۔ چینی فرم کے نائب صدر یہ چاہتے تھے کہ وہ بیس ملین ڈالر لیکر وہ کنٹریکٹ انہیں دے دیں کیونکہ وہ حکومت کے اعلیٰ عہدیداران سے مل کر اس کنٹریکٹ میں سے پچاس ساٹھ ملین ڈالر کمانے کا منصوبہ بنا چکے تھے۔ اس سے پہلے کہ نیب کے اس وقت کے چیئرمین کوئی کارروائی کرتے جنرل مشرف کے بڑے قریبی رشتہ داروں اور ان کے دفتر میں موجود ایک بڑے فوجی جنرل نے اس معاملے کو وہیں دبا دیا تھا۔ اس کیس کی فائل اب کہیں سے نکل آئی ہے۔ سوچ رہا ہوں اس کو محض ایک خبر میں ظاہر نہ کروں۔ جب ایل این جی کیس اور لوّ اسٹوری 1962 پر کتاب لکھ رہا ہوں تو وہاں ایک باب اس اسکینڈل کے نام کیا جائے۔ سپریم کورٹ میں گزارے گئے اپنے دس دنوں سے لیکر لوّ اسٹوری 1962 اور سترہ ویڈیو فلموں پر موجود ان سکینڈلز کو ایک زبان دی جائے۔ اگرچہ اس ملکمیں کتاب پڑھنے کا رواج نہیں ہے لیکن پھر بھی مجھے اپنے جنگ کے کالموں کے مجموعے ”آخر کیوں؟“ کے چھپنے پر ملنے والے رسپانس نے ایک حوصلہ دیا ہے کہ شاید ابھی بھی کچھ قاری بچ گئے ہیں جن کیلئے یہ کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ ایل این جی سکینڈل، لوّ اسٹوری 1962 اور چینی کمپنی کے نائب صدر کا 17 ویڈیو فلموں پر موجود سکینڈل پر چھپنے والی کتاب ان چند پڑھنے والوں کیلئے ہوگی !

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=429362

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha