راجہ ذوالفقار علی

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

 

مسلم لیگ نواز نے شیخ رشید کے مقابلے میں ایک کارکن کو ٹکٹ دیا تھا

لیجیے سنہ انیس سو پچاسی کے بعد اب تک ہونے والی آٹھ انتخابات میں دوسری مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ راولپنڈی کے رہنے والوں نے اپنے ’فرزند‘ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔این اے پچپن سے شیخ رشید احمد پچھلی مرتبہ بھی ہار گئے تھے اور اس بار بھی جیت نہیں سکے۔

عوامی مسلم لیگ کے جنابِ شیخ شکست کا غم اپنے سگار کے دھوئیں میں اڑاتے ہوئے بھلے کہتے رہیں کہ انہیں ’ہرایا‘ گیا ہے لیکن ’رسوائی ہی کی سہی‘ بات تو یہی سچ ہے کہ پنڈی کے ووٹروں نے انھیں ابھی تک ’معاف‘ نہیں کیا۔

شیخ صاحب نے ایک سید (پرویز مشرف) اور دو چودہریوں (شجاعت اور پرویز الہی) سے رسمی طور پر سیاسی ترکِ تعلقات ایک سال پہلے کر لیا تھا۔ انھوں نے۔گزشتہ مارچ کے مہینے میں عوامی مسلم لیگ کی بنا ڈالی لیکن بقول شخصے ان کی پارٹی ساری کی ساری ’ایک موٹر سائیکل پر پوری آ جاتی تھی‘۔اپنی مقبولیت کے زعم میں انھوں نے پھر بھی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ مگر باتیں بنانے کے ماہر شیخ صاحب کی بات بن نہیں سکی۔

یہ درست کہ نواز لیگ نے اس الیکشن کو معرکے میں بدل دیا اور اپنے نسبتاً غیر مانوس امیدوار (شکیل اعوان) کو فتح دلانے کے لیے ہر طرح کا زور لگا لیا۔ یہ بھی درست کہ پنجاب کی مشینری ساری کی ساری شیخ رشید کے حریف کی حمایتی تھی۔

شیخ رشید اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرتے رہے ہیں

لیکن شیخ صاحب! ماضی میں آپ کو بھی تو اسی طرح کی سہولتیں ملتی رہی ہیں اور اس مرتبہ تو بقول شہباز شریف آپ ’آصف زرداری‘ کے امیدوار تھے لہدا پی پی پی کا ووٹ کسی نہ کسی حد تک آپ کو پڑ گیا۔ لیکن آپ یہ نہیں تسلیم کر رہے کہ آپ سے سیاسی غلطی ہوئی اور آپ نے جلد ہی ایوانوں کی طرف اپنا رخ موڑنا چاہا۔

جنابِ شیخ کیوں ہارے (گو سرکاری نتیجہ آنا ابھی باقی ہے لیکن میڈیا میں شیخ صاحب نے ایک میچور سیاست دان کا انداز اختیار کرتے ہوئے مان لیا ہے کہ وہ جیت نہیں سکے) اس کی وجہیں کئی ہیں لیکن جو وجہ زباں زدِ عام ہے وہ ہے لال مسجد پر فوجی کارروائی کے تناظر میں شیخ رشید کا کردار۔

شیخ صاحب کے حلقے میں جس سے بھی بات کریں وہ انھیں بے وفائی کا طعنہ دیتا ہے۔ کسی سے پوچھ لیں وہ یہی کہتا ہے کہ شیخ صاحب کی ہار کی اصل وجہ تھی نواز شریف سے بغاوت، پرویز مشرف سے ملنے والی وزارت، چودہریوں کی قیادت اور لال مسجد سے اٹھنے والی قیامت۔

شکیل اعوان بڑی اکثریت سے کامیاب ہوئے

خود جنابِ شیخ سے استفسار کیا جائے تو فرماتے ہیں کہ انھوں نے نواز شریف کو نہیں چھوڑا بلکہ نواز شریف انھیں چھوڑ کر (جدہ) چلے گئے تھے۔

شیخ صاحب جس بات کو زیرِ بحث نہیں لاتے وہ یہ ہے کہ کیا ایک ایسے وقت جب پاکستان میں سید پرویز مشرف کا ڈنکا نیا نیا بجا تھا، اور یہ ’مغالطہ‘ دور ہوگیا تھا کہ ’طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں‘ کیا نواز شریف کے لیے کسی بھی قسم کا ’تفویضِ اختیارات‘ ممکن تھا؟ کیا اس وقت انھیں آپ کی ضرورت تھی یا ان کا فرض تھا کہ آپ کی عاقبت سنوارنے کے لیے آپ کو کسی کے حوالے کر جاتے۔

آپ کہتے ہیں انھوں نے آپ کو چھوڑ دیا لیکن شیخ صاحب یہ بھی تو درست ہے نہ کہ خود آپ نے چودہدریوں کو پکڑ لیا۔ پھر پتہ نہیں آپ نے لفظوں کی کونسی جادوگری دکھائی کہ آپ کی آنکھ سید مشرف سے لڑ گئی اور اگر بیچ میں جسٹس نہ ہو جاتا تو جانے کب تک یہ آنکھیں لڑی رہتیں۔

لال حویلی کے باسی کو لال مسجد بھی راس نہیں آئی۔ مسجد سے اٹھنے والی چیخ و پکار، حویلی کے در و دیوار سے باہر ہی نہیں نکل سکی۔

آپ نے ’قلم دوات‘ سے نئی تاریخ تحریر کرنی چاہی لیکن شیخ صاحب! دوات میں روشنائی تو تھی ہی نہیں۔ بس اک سیاہی تھی جس کا داغ آپ کی جبین پر نشانِ ہزیمت بن گیا ہے۔

آپ کے مخالف کہتے ہیں کہ شیخ رشید کا دور ختم ہوگیا، لیکن شاید وہ اس پر غور نہیں کر رہے کہ پنڈی والے لاکھ غصہ نکال لیں، وہ اپنے ’فرزند‘ کو ’عاق‘ نہیں کرنے والے۔ اور یوں بھی ’آتے ہیں جادو تمھیں سارے‘۔ میڈیا آپ کا دوست، سیاست آپ کا پیشہ، پنڈی آپ کا شہر، راج نیتی کے بھیدوں سے آپ باخبر، لہذا سیاست کے کاروبار میں آپ کے دم سے رونق ابھی لگی رہے گی۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/02/100225_shekh_loses.shtml

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha