رؤف کلاسرا
میرے پچھلے کالم ”دیس پردیس“ پر اپنے پڑھنے والوں نے جہاں تنقید کی ہے وہاں اس بات کو بھی سراہا گیا ہے کہ رٹے کی بنیاد پر چلنے والے ہمارے بوگس تعلیمی نظام میں اگر ہم یونیورسٹی اور بورڈز ٹاپ کر بھی لیں تو اس سے کوئی بہت بڑا فرق نہیں پڑنے والا۔
پاکستان مسلم لیگ نواز لندن سے تعلق رکھنے والی انتہائی قابل احترام بیرسٹر امجد ملک نے برطانیہ سے ایک بڑا تنقیدی خط لکھا ہے۔ میں امجد ملک کی اس وجہ سے بڑی عزت کرتا ہوں کہ وہ پی ایم ایل نواز کے ان چند خیر خواہ اور ہمدردوں میں سے ہیں جو شہباز شریف کو منہ پر بھی کھری اور صحیح بات کرنے کی جرات رکھتے ہیں۔ ان کا خط پڑھنے کے بعد آپ کو بھی محسوس ہوگا کہ بات وہ بھی وہی کر رہے ہیں جس کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا کہ رٹے کی بنیاد پر چلنے والے اس بوگس نظام کو شدید تبدیلیوں کی ضرورت تھی لیکن ان کا خیال ہے کہ شاید میں کوئی ذاتی وجوہات کی بنیاد پر شہباز شریف پر تنقید کر رہا ہوں۔ یہ بات پڑھ کر مجھے اس لیے بھی ہنسی آ گئی کہ جب میں لندن سے رپورٹیں کرتا تھا تو شیخ رشید جیسے جنرل مشرف کے وزیر مجھے شریف برادرز کیلئے بقول ان کے سافٹ کارنر رکھنے پر اسی طرح کے طعنے دیا کرتے تھے۔ آپ ذرا ملک صاحب کا خط ملاحظہ فرمائیں۔
رؤف بھائی میں بڑے عرصے سے آپ کے کالم پڑھ رہا ہوں۔ مجھے پہلی دفعہ آپ کا کالم پڑھ کر آپ سے شدید شکایت پیدا ہو رہی ہے۔ آپ نے شہباز شریف کے پوزیشن ہولڈرز کو انعامات دینے کے سلسلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور یہ بات مجھے پسند نہیں آئی۔ میں آپ کو یہ بتاؤں کہ میں نے 1988ء میں سرگودھا بورڈ سے پوزیشن لی تھی۔ حکومتی سطح پر ہماری کبھی کوئی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔ اگر شہباز شریف پوزیشن ہولڈرز کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں تو یہ بات آپ کو پسند نہیں آئی۔ میں مانتا ہوں کہ پرانا سلیبس اور رٹا سسٹم غلط ہے اور ہمارے سارے تعلیمی نظام کو شدید تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ تاہم یہ کام ایک رات کا نہیں ہے۔ یہ سب کچھ سیاسی و معاشی استحکام اور گڈ گورننس سے آئے گا۔ آپ کے دل میں شہباز شریف کیلئے کوئی ذاتی بغض ہو گا جو میری سمجھ میں آتا ہے۔ خیر آپ کے دل میں بغض آتا رہے۔ آپ ان پر تنقید ضرور کریں لیکن اس بات پر تنقید مت کریں جس سے عام پبلک کو فائدہ ہو رہا ہے۔ پنجاب میں پوزیشن ہولڈرز کی اکثریت کا تعلق مڈل کلاس سے ہے جو بمشکل اپنے بچوں کے اخراجات پورے کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ بھی کسی دن آکسفورڈ اور کیمبرج پہنچ جائیں۔ تمام پوزیشن ہولڈرز کو تو لندن نہیں بھیجا جا سکتا۔ جب میں نے پوزیشن لی تھی تو مجھے ایک میڈل ملا تھا اور اخبار میں ایک تصویر چھپی تھی۔ ٹاٹ کے سکولوں میں بیٹھ کر پوزیشن لینے والوں کو تو اس سے بھی زیادہ انعامات ملنے چاہیں۔ بڑے لوگوں کے بچے تو لمز، ایچ ای سن، بیکن ہاؤس وغیرہ سے تو اے او لیول کر ہی لیتے ہیں۔ مجھے یہ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ کو بھی صرف حکمرانوں کی برائیاں نظر آتی ہیں۔
اب ایک اور خط ملاحظہ فرمائیں۔
آج کل آپ کے کالم ریسرچ کی بنیاد پر نہیں لکھے جاتے۔ آپ زیادہ تر پی ایم ایل نواز اور شہباز شریف کے خلاف لکھتے ہیں۔ آپ کا کالم پڑھ کر بڑی مایوسی ہوئی۔ کسی کی اچھی کوشش کی تعریف کرنی چاہیے نہ کہ اس پر تنقید۔ آپ کو پتہ ہے پنجاب میں پوزیشن ہولڈرز کی اکثریت غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہے۔ اگر انہیں قابلیت کی بنیاد پر امداد مل گئی تو آپ نے اس میں بھی کیڑے نکالنے شروع کر دیئے۔ اگر پولیس نے انہیں گارڈ آف آنر دیا اور بھور بن کی سیر کرائی گئی تو آپ کو یہ بھی اچھا نہیں لگا۔ آپ کسی دوسرے کی اسکالر شپ پر پھر کیوں لندن گئے تھے۔ میں خود سندھ حکومت میں ایک لیکچرار ہوں۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ہمارے ہاں بورڈ کا امتحان کیسے ہوتا ہے۔ ساری بوٹی چلتی ہے۔ پیسوں کی طاقت سے بورڈ کا امتحان ہوتا ہے اور پیسہ ہی پوزیشن ہولڈرز کا تعین کرتا ہے۔ یہاں سر عام بوٹی چلتی ہے۔ میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ اگلے ماہ یہاں تشریف لائیں اور اپنی آنکھوں سے امتحان ہوتا دیکھیں۔ پنجاب کے حالات تو پھر بھی بہتر ہیں سکھر بورڈ میں جس نے ٹاپ کیا اسے صرف دس ہزار روپے دیئے گئے۔ آپ کو یہ سب کچھ نظر نہیں آتا کیونکہ آپ پنجاب میں رہتے ہیں۔ عمران شیخ۔ سندھ
مجھے آپ کا کالم دیس پردیس پڑھ کر خوشی ہوئی۔ میرا تعلق اوکاڑہ سے ہے اور آج کل میں برطانیہ میں ہوں۔ میں نے ابھی فارما سوٹیکل انیلسز میں ایم ایس سی کیا ہے۔ مجھے بھی کم و بیش وہی مسائل یہاں پیش آئے جو آپ نے کالم میں لکھے تھے کہ کیسے برطانیہ اور پاکستان کے تعلیمی نظام میں فرق ہے۔ جب میں نے یہاں داخلہ لیا تو مجھے اپنے امتحانات کے پیپرز پاس کرنے میں کوئی زیادہ مسئلہ نہیں ہوا لیکن میں آپ کو ایمانداری سے بتاتا ہوں کہ مجھے اپنی اسائنمنٹس اور ڈیزرٹیشن پاس کرنے میں بہت مشکل پیش آئی۔ میں نے دوسری دفعہ امتحان دے کر انہیں پاس کیا۔ جب میں پاکستان سے ایم ایس سی کیمسٹری کیا ہوا تھا لیکن مجھے برطانیہ میں یہ مضمون دوبارہ پڑھ کر بہت دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ضرور ہے کہ میں نے اس دوران بہت کچھ سیکھ لیا۔ میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہمارا تعلیمی نظام محض پروفیشنل ڈگری کیلئے داخلہ لینے کیلئے مددگار ثابت ہوتا ہے وگرنہ نالج نام کی کوئی چیز ہمارے تعلیمی نظام میں موجود نہیں ہے۔ دراصل ہمارے ملک میں جو بمشکل نمبر لیکر پاس ہوتا ہے تو وہی استاد بن جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کوالٹی آف ٹیچرز نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ ہمارے استاد اپنا نالج ریفریش نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے پاس محض ٹیکسٹ بک نالج ہے۔ شہباز شریف طالبعلموں کی حوصلہ افزائی کر کے اچھا کر رہے ہیں لیکن انہوں نے کوالٹی آف ٹیچرز اور تعلیم کیلئے کچھ نہیں کیا۔ ہمارے تعلیمی نظام میں کوئی تخلیقی سوچ نہیں ہے۔ آپ نے اپنے آرٹیکل میں اچھے پوائنٹس اٹھائے ہیں۔ آپ اپنا کام جاری رکھیں۔ آصف راؤ (یو۔کے)۔
اب ایک اور خط پڑھیں۔
میرا تعلق ضلع لیہ سے ہے۔ آپ نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ ہمارے شہر میں ستر کروڑ روپے کی لاگت سے ایک جدید ہسپتال بن رہا تھا لیکن شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ بنتے ہی وہ ستر کروڑ واپس لاہور منگوا لیے تھے۔ کہیں ہمارے ان ستر کروڑ روپوں میں سے ہی رٹہ لگا کر آنے والے ان پوزیشن ہولڈرز میں پیسے تو تقسیم نہیں کیے جا رہے تھے۔ اگر ہسپتال کا منصوبہ ختم کر کے اور اس میں سے ہمارے ستر کروڑ روپے نکال کر اس طرح کی فیاضی دکھانی مقصود ہے تو پھر رہے نام اللہ کا۔
محمد مشتاق۔
اب ایک اور خط پڑھیے۔
میں نے صرف اتنا کہنا ہے کہ جس حکومت میں سکولوں میں اساتذہ کو چیک کرنے کیلئے وہاں میٹرک پاس آرمی کے سپاہی کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہو وہاں کا تعلیمی نظام بھلا کیسے تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہ سب ڈرامے بازی ہے۔
غضنفر لاشاری۔ کراچی
یہ خطوط پڑھ کر بھی مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی کہ اگر ہمارے ٹاٹ سکولز کا تعلیمی نظام اتنا اچھا ہے جہاں سے اتنے بچے پوزیشن لے رہے تھے تو پھر برطانوی حکمرانوں کی طرح صوبے کا وزیر اعلیٰ، اس کے وزراء اور بیورو کریسی اپنے بچوں کو ان سرکاری سکولوں میں پڑھنے کیلئے کیوں نہیں بھیجتے ۔ رٹہ اور بوگس سلیبس پر چلنے والے ان سرکاری سکولز کا لالی پاپ صرف غریبوں کے لئے ہی کیوں؟
Recent Comments