اے این پی کے معزز رکن اسمبلی حاجی عدیل کی کل ایک ٹی وی چینل پر گفتگو سن کر میرا جی چاہا کہ اس موضوع پر لکھوں ورنہ تو آج شیخ رشید پر لکھے گئے کالم پر اتنے رنگا رنگ تبصرے بذریعہ ایس ایم ایس موصول ہوئے ہیں کہ شاید میں ایک بار پھر لال حویلی کا مسافر بن جاتا۔ بہرحال اس پر پھر کبھی لکھوں گا کیونکہ شیخ صاحب تو سدا بہار موضوع ہیں فی الحال تو مجھے حاجی عدیل صاحب کے ایک دعویٰ کی تصدیق کرنی ہے۔ آپ کو علم ہے کہ آج کل آئین میں ترامیم تجویز کرنے کے لئے پارلیمانی کمیٹی محترم رضا ربانی صاحب کی سربراہی میں مصروف کار ہے اور قوم اڈیاں چک چک کر اس کمیٹی کے کارنامے کا انتظار کررہی ہے تاکہ آئین کو جمہوری تقاضوں کے سانچے میں ڈھالا جائے اور اسے فوجی آمروں کے لگائے گئے چرکوں اور زخموں سے پاک کیا جائے۔ اسی حوالے سے ایک موضوع غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا ہے، کیونکہ وہ سب سے زیادہ فوجی آمروں کی محبت اور تقویت کا باعث رہا ہے اور وہ ہے صوبائی خود مختاری کا مسئلہ ۔تحریک پاکستان کے محرکات اور قائد اعظم کی حکمت عملی پر غور کیا جائے تو مجھے اس ساری جدوجہد کا سنگ میل صوبائی خود مختاری نظر آتا ہے۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا تجزیہ کروں تو مجھے مضبوط مرکز کی فلاسفی اور صوبائی خود مختاری سے محرومی اس سانحے کا ایک بڑا سبب دکھائی دیتا ہے۔موجودہ پاکستان کی باطنی کمزوری، اکائیوں کی محرومیاں اور بلوچستان میں سلگتے ہوئے نفرت کے انگاروں کی تہہ میں اتروں اور ان مسائل کے حل پر غور کروں تو کئی اور باتوں کے علاوہ ایک اہم نقطہ صوبائی خود مختاری ذہن میں ابھرتا اور سوچ کے افق پر چھا جاتا ہے۔ میں ہرگز کمزور مرکز کا حامی نہیں، کیونکہ خوفناک خطرات میں گھرا ہوا موجودہ پاکستان کمزور مرکز کا متحمل ہوسکتا ہے نہ کمزور مرکز کے ساتھ ان کا مقابلہ کرسکتا ہے۔فوجی آمر چونکہ آمر ہوتے ہیں اس لئے وہ اپنی ذات کو اقتدار و اختیارات کا منبع سمجھتے ہیں اور ان کے لئے آئین محض فیصل آباد کا گھنٹہ گھر ہوتا ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ ان کے لئے آئین محض ان کے گھر کی لونڈی ہوتا ہے جسے وہ جس طرح چاہیں استعمال کرتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارا فیڈرل طرز کا آئین واحدانی طرز کا آئین بن گیا ہے جس میں صوبے اتنے مقتدر نہیں جتنے وفاقی طرز حکومت میں ہوتے ہیں۔میں پاکستان کی تاریخ و سیاست پر طالبعلم ہونے کے ناطے خلوص نیت سے محسوس کرتا ہوں کہ موجودہ پاکستان کو اندرونی طور پر مستحکم کرنے اور سیاسی حوالے سے مضبوط بنانے کے لئے صوبوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دینی ناگریز ہے اور یہ خود مختاری وسائل پر خاطر خواہ کنٹرول دئیے بغیر ایک ادھورے خواب کی مانند ہوگی جو طعبیت میں بدمزگی پیدا کرتا ہے اور آنکھوں میں تشنگی کے احساس کو بھڑکاتا ہے، چونکہ اس آئینی کمیٹی کا مینڈیٹ1973ء کے آئین کو اپنی اصلی شکل میں بحال کرنا اور آئین میں مناسب ترامیم تجویز کرنا ہے اس لئے آج کل سترہویں تر میم کے ساتھ ساتھ صوبائی خود مختاری کا مسئلہ بھی زیر بحث رہتا ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ کچھ عرصے سے بحث کا سب سے بڑا فورم میڈیا بن چکا ہے۔ میڈیا میں ماشاء اللہ نظر بددور بڑے بڑے عالم و فاضل حضرات اپنے اپنے علم کے شگوفے کھلاتے رہتے ہیں جبکہ کچھ حضرات تو محض صحت مند حلق اور بلند آہنگ سے ناظرین کو ڈراتے ہیں اور سیاستدان کامل آغا اور اقبال جھگڑا کی صورت میں یوں دنگل کا سماں پیدا کرتے ہیں کہ جی چاہتا ہے کہ ٹی وی چینل سے گزارش کروں کہ حضرت کرسی میز کو چھوڑئیے اینکر پرسن کے قدموں میں ایک عدد اکھاڑہ بنوا دیجئے جہاں یہ پہلوان کھل کر زور آزمائی کرسکیں۔ یہ تو محض کل کی تازہ مثال تھی ورنہ آپ جس چینل کے بھی علم کے بہتے دریا سے چند گھونٹ پینا چاہیں وہاں عام طور پر علمی بحث کی بجائے مقابلہ حسن یا آوازوں کا مقابلہ اور کبھی کبھار دنگل کا سماں دکھائی دیتا ہے اور ناظرین گھر بیٹھے بغیر ٹکٹ کشتی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر مجھے اکثر یاد آتا ہے کہ فاضل کے معانی جہاں عالم کے ہوتے ہیں وہاں فالتو کے بھی ہوتے ہیں، یعنی ماشاء اللہ ہمارے بعض تجزیہ نگار اور شرکاء فاضل بہ وزن فالتو بھی ہوتے ہیں۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران اکثر ٹی وی چینلوں پر صوبائی خود مختاری پر بحث سنتے ہوئے میں اس وقت لطف اندوز ہوا جب محض عالم حضرات نے یہ تک دعویٰ کردیا کہ آئین میں کنکرنٹ لسٹ یعنی مشترکہ مضامین کی فہرست کو دس برس بعد ختم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا جو بالکل بے بنیاد ہے۔ آئین میں ایسی کوئی شق موجود نہیں کہ اس فہرست کے خاتمے سے صوبائی خود مختاری کا خواب شرمندہ تعبیر ہوجائے گا۔ میری ذاتی رائے میں کنکرنٹ لسٹ کا مکمل خاتمہ تو بے حد احتیاط کا متقاضی ہے کیونکہ بعض مضامین مرکز کو منتقل کرنا پڑیں گے لیکن اس کے خاتمے سے یہ مسئلہ خاصی حد تک حل ہوجائے گا۔ اسی بحث میں یہ نقطہ بھی بیان کیا گیا جس کا اعادہ کل محترم عدیل صاحب نے کیا کہ آئین بناتے وقت ہم سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ مشترکہ فہرست کو دس سال بعد ختم کردیا جائے گا جبکہ میں نے بعض ا وقات بعض”مفکرین“اور دانشوروں کو اس دعوے کی ببانگ دہل تردید کرتے بھی سنا ہے ا ور بعض”زور آور“تو اس دعوے کی یوں نفی کرتے ہیں جیسے وہ حرف آخر ہوں۔ میرے نزدیک یہ عقل کل کا رویہ علم و تحقیق کا دشمن ہے اور اصلاح ،معلومات میں اضافہ اور اختلاف رائے کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھنا چاہئے۔
میں اس نقطے پر تھوڑی سی تحقیق کرکے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ حاجی عدیل صاحب کا دعویٰ درست ہے۔ رفیع رضا ذوالفقار علی بھٹو کے ان ساتھیوں میں سے تھے جو بھٹو حکومت میں روز اول سے نہ صرف شامل تھے بلکہ اس دور کے عینی شاہد اور راز دان بھی ہیں۔وہ نہ صرف آئین سازی کے لئے حزب مخالف سے گفتگو اور سمجھوتوں میں مصروف رہے بلکہ بھٹو صاحب کے بھی معتمد اور نہایت قریب تھے۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی چھاپی ہوئی اپنی کتاب ”ذوالفقار علی بھٹو“ (1967-77)میں صفحہ نمبر180پر لکھا ہے کہ بھٹو نے دس برس بعد کنکرنٹ لسٹ پر نظر ثانی کا وعدہ کیا تھا اور نیب نے آئین سازی میں بہت فراخدلی کا مظاہرہ کیا تھا۔ یہ امید کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ اب اس موضوع پر بحث ختم ہوجائے گی، کیونکہ حاجی عدیل صاحب کا دعویٰ بے شک درست ہے اور پی پی پی کے لئے یہ موزوں موقع ہے کہ وہ بھٹو صاحب کے دعوے کو عملی جامع پہنائے۔
Recent Comments