پاکستان اور افغانستان کو ایک ہی پالیسی کی لاٹھی سے ہانکنے کا شوق رکھنے والا سامراجی میڈیا ان دونوں ملکوں پر مشتمل خطے کو ”پاک افغان“ خطہ قرار دیتا ہے چنانچہ اگر یورپی ملکوں اور امریکہ پر مشتمل سامراجی دنیا کو ”یوریکن“ لکھا جائے تو اسے کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے اور لندن کے اخبار ”گارجین“ نے پیش گوئی کی ہے کہ سال 2010ء سے سال 2020ء تک کا عشرہ عالمی تاریخ میں سادگی اپنانے کی مجبوری کا عشرہ کہلائے گا اور کچھ بعید نہیں کہ سادگی اپنانے کی مجبوری کا یہ عشرہ پھیل کر پوری اکیسویں صدی پر اپنا تسلط جمالے کیونکہ جس طرح ساون کی ایک رات کی جھڑی کئی راتوں تک چھتوں کو ٹپکاتی رہتی ہے اسی طرح مغربی دنیا کا مالیاتی بحران اگر کسی حد تک دور بھی ہوگیا تو پوری صدی کو نچوڑتا چلا جائے گا۔ تاریخ کے اس خوفناک ترین مالیاتی بحران کے اثرات اگلی صدی تک جاسکتے ہیں۔
”گارجین“ کے Larry Elliottلکھتے ہیں کہ سادگی کے عشرے کے لئے تیار ہو جائیں اور یہ بھول جائیں کہ گزشتہ تیس مہینوں میں عالمی مالیاتی بحران نے جو طوفان اٹھایا ہے اس کے اثرات کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ محض ایک خوش فہمی ہوسکتی ہے۔ عالمی مالیاتی بحران اپنے آپ کو سکیڑنے میں ہماری توقعات اور امیدوں سے ہی نہیں ہمارے اندیشوں سے بھی زیادہ عرصہ لے سکتا ہے۔ بینک آف انگلینڈ کے گورنر ماروی کنگ کے خیال میں اگلی صدی تک اپنے پا ؤں پسار سکتا ہے۔
بائیں بازو کے تجزیہ نگاروں کے مطابق سال 2009ء کے اختتام تک کے پورے سال میں امریکہ کی منڈی میں 42لاکھ نوکریاں (ملازمتیں) ختم ہو چکی ہیں اور بے روزگاری کی شرح 1983ء کے بعد پہلی مرتبہ دس فیصد سے بڑھی ہے۔ 2007ء کے آخری عشرے میں امریکی بے روزگاری کی شرح ساڑھے چار فیصد سے کم تھی۔ دسمبر 2007ء کے بعد 72لاکھ ملازمتیں غائب ہوئی ہیں جو کہ 1980ء سے 1982ء تک ختم ہونے والی ملازمتوں سے تین گنا زیادہ ہیں۔ دسمبر2009ء کے صرف ایک مہینے میں 85ہزار امریکی محنت کشوں کو روزگار سے نکالا گیا۔ اگر ان محنت کشوں کو اس شرح میں شامل کیا جائے جو پہلے سے کم تر اجرتوں پر روزگار حاصل کرنے پر مجبور کئے گئے تو بے روزگاری کی شرح سترہ فیصدی سے زیادہ ہو جاتی ہے۔2009ء کے آخر میں جو امریکی محنت کش چھ ماہ یا اس سے زیادہ عرصہ تک بے روزگار رہنے کے بعد پہلے سے کم اجرتوں پر ملازمتیں حاصل کرنے پر مجبور ہوئے ان کو شمار کیا جائے تو ان کی تعداد 56لاکھ سے زیادہ ہوگی جبکہ اس وقت امریکی معیشت کو ہر ماہ اپنی آبادی کے تناسب سے ایک لاکھ 25ہزار نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
بائیں بازو کے تجزیہ نگار ان حقائق کا بھی بھرپور انداز میں لطف اور مزہ لے کر ذکر کرتے ہیں کہ مغربی سامراجی دنیا اس کی بہت سخت مخالف تھی کہ ریاست کو بازاری معیشت کے معاملات میں دخل نہیں دینا چاہئے مگر اب مالیاتی بحران کی زد میں آنے کے بعد مغربی سامراجی معیشت دان بھی یہ تجویز پیش کر رہے ہیں کہ معیشت کے معاملات میں ریاست کو دخل دینا چاہئے۔
سامراجی دنیا کے ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی معیشت نے تین نمایاں ادوار دیکھے ہیں۔ ایک طویل ربع صدی (25سالوں) کا ابھار تھا جو 1973ء کی خزاں تک چلا، جب تیل پیدا کرنے والے ملکوں نے ایندھن کی قیمتوں میں تین گنا اضافہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد 1982ء تک کے 25سالوں کا ایک اور ابھار بھی تھا جو سال 2007ء تک چلا گیا مگر اس کے بعد عالمی مالیاتی بحران کا ” دھڑام“ شروع ہوگیا۔ مغربی ماہرین معیشت اس بحران کی کوئی معقول وضاحت نہیں کرسکتے ان کے مطابق اس بحران کی وجہ صارفین کے لئے قرضوں کی عدم موجودگی اور اس کے نتیجے میں مانگ میں آنے والی کمی تھی لیکن نقد کی کمی کی وجہ سے بحران پیدا نہیں ہوتا۔ بحران کی وجہ سے نقد کی کمی اور قلت پیدا ہوتی ہے۔
مغربی ماہرین کچھ سال پہلے تک یہ خیال ظاہر کرتے تھے کہ منڈی میں صارفین کی خرید و فروخت میں سرگرمی دکھائی د ے تو بازاری معیشت کا مستقبل محفوظ ہو جاتا ہے۔ اب یہی ماہرین مشورہ دے رہے ہیں کہ لوگوں، اداروں، حکومتوں کو زیادہ اخراجات اور فضول خرچی سے گریز کی عادت اپنانی پڑے گی۔ آنے والے حالات میں زیادہ سے زیادہ سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنے کی ضرورت ہوگی۔ حکومتوں کو بھی ضرورت سے زیادہ فضول خرچی سے گریز اور پرہیز کرنا چاہئے چنانچہ حکومتی اداروں، محکموں اور حکومتوں کے سائز اور خرچے میں کمی کی جائے۔
یہ اندیشہ بھی ہوسکتا ہے کہ مغربی معیشت دان محنت کشوں کی اجرتوں میں کمی کی ضرورت بھی محسوس کریں۔ یہ تجویز بھی پیش کریں کہ ہفتے کے اوقات کار میں مزید اضافہ کر دیا جائے۔ محنت کشوں کی پنشن اور گریجویٹی کی مراعات بھی واپس لے لی جائیں۔ یہ تجویز بھی منظر عام پر آسکتی ہے کہ دن کے علاوہ رات کو بھی دفاتر، کاروباری ادارے، فیکٹریاں اور کارخانے کھولے جائیں۔ اگر اس نوعیت کی تجاویز منظر عام پر آنے لگیں اور ان پر عملدرآمد کے مطالبات ہونے لگے تو پھر سادگی اور کفایت شعاری کا عشرہ عالمی سرمایہ داری نظام کا آخری عشرہ بن سکتا ہے۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=414923
No related posts.








Recent Comments