امریکی صدر بارک اوباما نے گزشتہ ماہ تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ سے ملاقات کی تھی جس کے نتیجے میں عوامی جمہوریہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کے آثار نمایاں ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بیجنگ نے امریکی صدر کی دلائی لامہ سے ملاقات پر غم وغصے کا اظہار کیا کیونکہ چین کی نظروں میں دلائی لامہ کی حیثیت ایک علیحدگی پسند لیڈر کی ہے۔ واضح رہے کہ جنوری کے مہینے میں امریکی حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ چھ بلین ڈالر مالیت کا جدید ترین اسلحہ تائیوان کے ہاتھوں فروخت کیا جائے گا۔ غالباً یہی سبب ہے کہ بیجنگ نے واشنگٹن کے ساتھ اپنے فوجی روابط معطل کر رکھے ہیں۔ گزشتہ برس کے دوران متعدد مسائل نے امریکہ اور چین کے تعلقات کو پیچیدہ بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان مسائل کا تعلق کوپن ہیگن سربراہی کانفرنس میں نقطہ نظر کے اختلاف سے لے کر گوگل کے معاملات تک پھیلا ہوا ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ تجارت اور چین کی کرنسی کی قدروقیمت کے حوالے سے پائے جانے والے اختلافات کے علاوہ ان دونوں ممالک کے مابین ایران کے خلاف سخت امریکی موقف اختیار کئے جانے پر بھی واضح اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ تجارتی تنازعات ہی کے نتیجے میں، دونوں ممالک ”جیسے کو تیسا“ کی پوزیشنوں میں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوچکے ہیں۔ جس کا پہلا مظاہرہ ستمبر میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب اوباما انتظامیہ نے چینی ٹائروں کی برآمدات پر تعزیری ٹیرف کا نفاذ کرتے ہوئے یہ کوشش کی کہ امریکہ کی لیبر یونینوں کو مطمئن کیا جائے جس کا مقصد بڑھتے ہوئے حفاظتی جذبات کا اظہار تھا۔ بہرکیف یہ اقدام ان امریکی وعدوں کے برخلاف تھا جن کی چند ماہ قبل ہی تجدید کی گئی تھی اور جی20کی کانفرنس کے روبرو یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آئندہ چینی برآمدات کے خلاف ایسا کوئی حفاظتی اقدام ہرگز نہیں کیا جائے گا۔ بہرکیف اس امریکی اقدام کے جواب میں چین نے بھی ، امریکی برآمدات پر ڈیوٹی نافذ کرنے کا اعلان کردیا!! چینی کرنسی پر امریکہ کا یہ الزام ہے کہ اپنی کرنسی کی قیمت گھٹا کر درحقیقت چین یہ کوشش کررہا ہے کہ اپنی برآمدات کو سستا کرسکے۔ بیجنگ نے اس امریکی مطالبے کو بھی مسترد کردیا ہے کہ وہ اپنی کرنسی کی ساکھ اور قدروقیمت کی ڈالر کے مقابلے میں اوپر لانے کی کوشش کرے۔ بہرنوع کرنسی کا یہ مسئلہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی عدم توازن کا کلیدی مسئلہ ہے جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کشیدہ ہوئے اور چین کی فاضل پیداوار کے بارے میں متضاد خیالات گردش کرنے لگے۔ کیا یہ اس بات کا ایک اشاریہ ہے کہ دنیا کی دو انتہائی طاقتور اقوام باہمی تصادم اور ٹکراؤ کی راہ پر چل پڑی ہیں؟؟؟ کیا جی۔2 شراکت داری کا وہ تصور جس کے مطابق دو ممالک آپس میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے عالمی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے محض ایک بلند آہنگ جذباتی نعرہ تھا جس کی کوئی حقیقت نہ تھی؟؟؟ یا پھر دونوں ممالک معاشی اور اقتصادی اعتبار سے ایک دوسرے پر اتنا انحصار کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ سیاسی اور تجارتی مسائل پر پیدا ہونے والے اختلافات اور تنازعات کے باوجود ان دونوں کے باہمی تعلقات ازسرنو اپنی پرانی جگہ پر واپس آجاتے ہیں ۔ کیا بیجنگ کا یہ سخت رویہ جو اس نے مختلف مسائل کی بابت اختیار کیا ہے، اس بات کا غماز ہے کہ اب عالمی توازن طاقت میں تبدیلی آرہی ہے اور اقتصادی طور پر امریکی معیشت کی بدحالی کے مقابلے میں ابھرتا ہوا ملک چین، ڈرامائی بلندیوں کو چھونے کی کوششوں میں مصروف ہے؟؟؟
بہرحال مغرب کے تجزیہ کار ان سوالات کا مختلف جواب دیتے ہوئے اس بات سے تو اتفاق کرتے ہیں کہ چین اور امریکہ دونوں کی بھلائی ایک دوسرے کے معاشی اور اقتصادی مستقبل میں ہی مضمر ہے۔ امریکہ کے ساتھ چین نے مختلف مسائل کے ضمن میں جو سخت موقف اختیار کیا ہے وہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ یہ تمام تر علامات ایک نئے ”سپرپاور “ کی پیدائش کی بشارت دے رہی ہیں جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں کشیدگی کے آثار نمایاں ہوسکتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بڑھتے ہوئے قوم پرستانہ امریکی جذبات بیجنگ کو عالمی سطح پر سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے بقول چینی رویہ دراصل اس کی داخلی اور اندرونی سیاست کا ایک مظہر ہے کیونکہ وہاں 2012ء اور 2013ء کے عرصے میں قیادت کی تبدیلی متوقع ہے۔ بہرحال ان تجزیہ کاروں اور ماہرین نے اس تاریخی تناظر کو قطعاً نظرانداز کردیا ہے جس کی رو سے چین نے ان متنازع مسائل کی بابت اتنا سخت اور مضبوط موقف اختیار کر رکھا ہے۔ ان مسائل کا تعلق تائیوان اور تبت سے لے کر تجارت اور کرنسی جیسے معاملات سے ہے، یہ تمام معاملات ایسے ہیں جنہیں چین اپنی خودمختاری کی ضمانت تصور کرتا ہے اور ان مسائل پر اس نے ہمیشہ ہی ایسا موقف اختیار کیا ہے۔ بیجنگ نے ہمیشہ سے قومی اہمیت کے مسائل کے گرد دائرہ کھینچ رکھا ہے اور دنیا بھر کو خبردار کردیا ہے کہ اگر ان مسائل کو چھیڑا گیا تو اس سے برا کوئی نہ ہوگا۔ ایک طرح سے یہ بات سچ نظر آتی ہے کہ دنیا کی ایک ابھرتی اور بڑھتی معاشی قوت ہونے کے ناتے چین کا شمار دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کے حامل ملک کے طور پر کیا جاتا ہے چنانچہ اب وہ اس پوزیشن میں آچکا ہے کہ زیادہ قوت اور زیادہ مضبوطی کے ساتھ اپنا ردعمل ظاہر کرسکے چنانچہ جہاں کہیں اس کی خودمختاری اور سلامتی کے مفادات کو خطرہ درپیش ہوتا ہے وہ ایک مضبوط پوزیشن اختیار کرلیتا ہے جیسا کہ وہ ہمیشہ سے کرتا آرہا ہے۔ امریکہ نے ایران کے خلاف جوہری پروگرام کے حوالے سے جو سخت پابندیاں عائد کررکھی ہیں چین ان کی تائیدو حمایت میں تذبذب سے کام لے رہا ہے جو مغربی سفارت کاروں کے بقول ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کی مغربی کوششوں کو بے اثر بنانے کی ایک کوشش ہے تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بیجنگ سمجھتا ہے کہ اگر اس ضمن میں مزید تعزیری نوعیت کے اقدامات کئے گئے تو ان کے نتیجے میں مسائل کے حل کی راہ میں شدید رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ چنانچہ چین کا یہ خیال ہے کہ تہران کی پوزیشن ، امر یکہ کی جانب سے انتہائی سخت پابندیوں کے نفاذ کے بعد سخت سے سخت تر ہوتی چلی جائے گی لہٰذا اس تنازع کو سفارتی کوششوں کے ذریعے حل کرنا زیادہ صحیح اور مناسب ہوگا۔
چین کا یہ موقف اس بات پر مبنی ہے کہ آئندہ آنے والے حالات میں یہ سخت پابندیاں کس طرح تمام تر صورت حال کو قابو سے باہر کرسکتی ہیں جس کے نتیجے میں ایران کے خلاف امریکی فوجی اقدام کا بھی جواز پیدا ہوسکتا ہے جس کی چین دنیا کے دیگر ممالک کی طرح سختی کے ساتھ مخالفت کرتا آیا ہے۔ اگرچہ متعدد سیاسی معاملات و مسائل کے بارے میں چین اور امریکہ کے موقف میں واضح فرق اور اختلاف موجود ہے۔
اور دونوں ایک دوسرے کی فوجی قوت اور طاقت کو بھی مشتبہ نظروں سے دیکھتے ہیں اس کے باوجود متعدد معاشی اور اقتصادی وجوہ اور اسباب ایسے ہیں جو ان دونوں ممالک کے مابین تعاون کا تقاضا کرتے ہیں جس کے لئے ان کے باہمی تعلقات میں عدم استحکام کا پیدا ہونا ، ان دونوں ملکوں کے لئے نقصان کا باعث ہوسکتا ہے۔ اس بات کا اندازہ اس طریقے سے لگایا جاسکتا ہے جس کے ذریعے دونوں ممالک نے تجارت کے تنازع کو آپس ہی میں نمٹانے کی کوشش کی ہے اور ان تنازعات کو ایک تجارتی اور کاروباری جنگ میں بہرحال تبدیل نہیں ہونے دیا۔ چین اور امریکہ کے مفادت یکساں ہیں۔ دونوں کی معیشتیں ایک دوسرے پر گہرا انحصار کرتی ہیں چین ، امریکہ کو اشیاء برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ چین نے امریکی صارفین کے معیار حیات کو برقرار رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ چینی اشیاء کی کم قیمتوں نے امریکی قیمتوں کو بھی ارزاں رکھا ہے۔ چین امریکہ سے درآمدات کے مقابلے میں اسے کہیں زیادہ برآمد کرتا ہے تاہم ان دونوں ممالک کے مابین معاشی اور اقتصادی تعلقات میں بہت سی اہم چیزیں بھی داؤ پر لگی ہیں۔ چین کا مفاد اس میں ہے کہ امریکی ڈالر کی قدروقیمت میں کوئی کمی واقع نہ ہو کیونکہ اگر ڈالر کی ساکھ نیچے آگئی اور اس کی قدرو قیمت کم ہوگئی تو اس کے نتیجے میں چین نے ڈالروں کی صورت میں جو دولت جمع کر رکھی ہے اس کی قدروقیمت میں بھی خودبخود کمی واقع ہوجائے گی۔
بہرنوع ایک دوسرے پر اسی معاشی اور اقتصادی انحصار کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ ان دونوں ممالک کے مابین معاشی مسابقت کا سرے سے خاتمہ ہوجائے گا یا اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی مسابقت میں کوئی اعتدال رونما ہوسکے گا تاہم دونوں ملکوں کے لئے یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ ان کا مشترکہ مفاد اس کشیدہ صورت حال کو بہتر طریقے سے حل کرنے ہی پر منحصر ہے جو اس مسابقت کے نتیجے میں جنم لے سکتی ہے۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=414656
Related posts:








Recent Comments