منوبھائی
امریکہ اور دیگر مغربی سامراجی دنیا خود اپنے مفاد میں اس حقیقت کو اب زبانی طور پر تسلیم کرنے لگی ہے کہ کابل کا راستہ کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے یعنی جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پرامن ہمسایہ ملکوں جیسے تعلقات قائم نہیں ہوں گے اور کابل میں کسی مستحکم حکومت کے قائم ہونے کا امریکی اور سامراجی خواب شرمندہٴ تعبیر نہیں ہوگا۔ یہی سامراجی دنیا ایک نہ ایک دن اس صداقت کو بھی زبانی طور پر قبول کرنے پر مجبور ہو جائے گی کہ عالمی دہشت گردی کے خلاف مغربی دنیا کی جنگ میں فتح کا راستہ بھی فلسطین میں سے ہو کر گزرتا ہے اور ان دونوں راستوں یا منزلوں کا کوئی ”بائی پاس“ نہیں ہے۔
ان حالات میں سے یہ سوال ابھرتا ہے کہ اگر سامراجی طاقتوں کو مذکورہ بالا حقائق اور صداقتوں تک پہنچنے اور ان کا زبانی اور تحریری اعتراف کرنے میں ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ خرچ یا ضائع کیا گیا ہے تو ان حقائق کو عملی طور پر تسلیم کرنے اور ان کے حل کرنے کے تقاضے پورے کرنے پر کتنی انسانی زندگیاں خرچ اور کتنے عالمی قومی وسائل ضائع اور تلف کرنے پڑیں گے۔
ایک عام نارمل، عقل و شعور رکھنے والا انسان جس حقیقت تک پہنچ چکا ہے۔ وہ کچھ یوں ہے کہ اشتراکیوں نے خوش فہمیوں میں مبتلا ہو کر اپنی تباہی اور بربادی کا جو فاصلہ طے کیا ہے۔ سامراجیوں نے بھی اپنی غلط فہمیوں کے بل بوتے پر اتنا ہی فاصلہ طے کیا ہے۔ اصل معروضی حالات اور زمینی حقائق جو مل کر ہی عالمی صداقت بنتے ہیں خوش فہمی اور غلط فہمی دونوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔
مغربی سامراجی ماہرین کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے پاس یہ بیان کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے کہ انہوں نے آنے والے حالات کے بارے میں جو اندازے لگائے تھے اور پشین گوئیاں کی تھیں وہ غلط کیوں ثابت ہوئیں جبکہ اشتراکی ماہرین کی یہ خوبی بیان کی جاتی ہے کہ وہ حالات و واقعات کو پسند اور ناپسند، خوف اور خواہش کی عینکوں کے ذریعے دیکھنے سے گریز اور پرہیز کرتے ہیں چنانچہ حقائق تک پہنچ سکتے ہیں مگر ان کی بدقسمتی سے تعصب اور تفاخر کی عینکیں اتارنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوتا ہے اور پھر نظریات کی نگاہیں بھی حقائق کو بہت حد تک دھندلا دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ سب لوگوں کی اجتماعی بدقسمتی ہے کہ سائنس نے ابھی تک کوئی ایسا کمپیوٹر ایجاد نہیں کیا جو اصل اور نقل، جھوٹ اور سچ، خوف اور خواہش میں تمیز کرسکے چنانچہ اصل حقائق اشتراکیوں سے بھی اتنے ہی فاصلے پر موجود ہیں جتنا سامراجیوں اور حقائق کے درمیان ہے۔
اپنے آپ کو اصل سوشلسٹ قرار دینے والے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان سے پہلے جن لوگوں اور عناصر نے اپنے آپ کو سوشلسٹ قرار دیا تھا وہ نقلی سوشلسٹ تھے اور سوشلزم کو بدنام کرنے کا سبب بنے تھے۔ ا بھی تک اصل سامراجیوں کا کوئی ایسا گروہ جود میں نہیں آیا جو سامراج کو نقصان پہنچانے اور بدنام کرنے والے نقلی سامراجیوں کو ”ایکسپوز“ کرنے کی کوشش کرے مگر عالمی سطح پر حالات اور واقعات نے شک و شبہ کی جو فضا قائم کر رکھی ہے اس میں اصل اور نقل کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے۔
پنجاب کے ایک سابق گورنر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کی غلط بیانیاں کچھ اتنی زیادہ مشہور ہوگئیں کہ وہ خود بھی ان کا اعتراف کرنے لگے اور کسی شخص کے بارے میں بتایا کہ ”وہ تو مجھ سے بھی زیادہ جھوٹ بولتا ہے“۔ ان کے عہد حکومت میں ان کالموں میں یہ خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ اگر جھوٹ بولنے والوں کے سر پر سینگ نکل آئیں تو ملک میں کیسی صورت حالات پیدا ہو جائے گی۔ ایک خیال یہ تھا کہ جھوٹ بولنے والے اپنی حفاظت کے لئے ہر وقت ”ہیلمٹ“پہنے رکھے گے۔ رات کو بھی ہیلمٹ پہن کر سوئیں گے۔ دوسرا خیال یہ تھا کہ جس طرح عہد حاضر میں ”فارغ البال“ ہو جانے والے لوگ بالوں کی ”وگ“ لگوائے یا بال کاشت کرواتے ہیں اس طرح جھوٹ بولنے والے روزانہ شیو کرنے کے علاوہ اپنے سینگ بھی کٹوائیں گے۔ مارکیٹ میں بغیر سینگوں کے کھوپڑیاں فروخت ہونے لگیں گے۔ سب سے زیادہ اندیشے اور خطرے والی بات یہ بتائی گئی تھی کہ جھوٹ بولنے والے غالب اکثریت میں آجائیں گے اور اپنے سینگوں کو سجانے لگیں گے جبکہ سچ بولنے والے اپنے سینگوں سے محروم سروں کو ویسے ہی چھپانے کی کوشش کرنے پر مجبور ہوں گے جیسے ”فارغ البال“ لوگ اپنے گنج چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ لوگ اپنے جھوٹے ہونے پر فخر کریں گے اور سچ پر معذرت طلب کریں گے
Recent Comments