عبادات کا ”اصل“ اور ”مغز“ فراموش کر بیٹھنے کے حوالہ سے یا یوں کہہ لیجئے کہ ہم لوگوں میں روح عمل کے فقدان کو سمجھنے کیلئے مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ تبصرہ ہمیں جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہونا چاہئے۔ مولانا عبدالمجید سالک راوی ہیں کہ ایک دن تصوف پر گفتگو کرتے ہوئے ابوالکلام آزاد کہنے لگے کہ تصوف کی کتابوں اور اولیاء کے تذکروں میں اس قسم کے واقعات اکثر نظر سے گزرتے ہیں کہ خواجہ قطب الدین کاکی محفل سماع میں بیٹھے تھے۔ مطرب نے شیخ احمد جام کا یہ شعر پڑھا
کشتگان خنجر تسلیم را
ہر زماں از غیب جانے دیگر است
ترجمہ: ”تسلیم و رضا کے خنجر سے قتل ہونے والوں کے لئے ہر دور میں غیب سے نئی زندگی ہے“۔
حضرت کاکی نے نعرہ لگایا اور بے ہوش ہو گئے۔
ترجمہ: ”سوائے ایک کے کچھ بھی باقی نہیں“ حضرت بسطامی نے نعرہ مارا اور بے ہوش ہو گئے۔
اک اور بزرگ نے کسی طوائف کو تائب ہونے کی تلقین کی تو اس نے یہ شعر پڑھا…
در کوئے نیک نامی، مارا گزرندارند
گر تو نمی پسندی، تغییر کن قضارا
ترجمہ: ”انہوں نے ہمیں نیک نامی کے کوچے سے گزرنے نہیں دیا، اگر تجھے پسند نہیں تو تقدیر کو بدل دے“۔
حضرت نے نعرہ مارا اور بیہوش ہو گئے
پھر مولانا ابوالکلام نے کہا … ”ایک زمانہ تھا کہ مسلمان نعرہ مارتا تھا تو دشمن بیہوش ہو جاتے تھے۔ پھر ایسا زمانہ آیا کہ مسلمان خود ہی نعرہ مارتا ہے اور خود ہی بیہوش ہو جاتا ہے“
عرض کرنے کا مقصد یہ کہ اپنی عبادات کے اصل سے آگاہی کے بغیر تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ میں ذاتی طور پر ایسے ”نیک لوگوں“ کو جانتا ہوں جنہیں سرکاری طور پر بجلی مفت ملتی ہے اور انہوں نے نہ صرف اپنی بھینسوں کیلئے بھی اے سی لگائے ہوئے ہیں بلکہ اپنے لان اور برآمدے میں بھی کیبنٹ ٹائپ ایئر کنڈیشنر نصب کر رکھے ہیں۔ یہ ”عبادت گزار“ بھی ہیں اور راشی بھی نہیں لیکن عبادات کو رسومات سمجھنے کے باعث ریاست اور عوام کو لوٹ رہے ہیں اور ایک سہولت کو بری طرح Misuseکر رہے ہیں۔ ایسے ”نیک“ بیوروکریٹس کی بھی کمی نہیں جنہوں نے ”سکیورٹی“ کے نام پر اپنے گھروں میں ”کیمپ آفس“ بنا رکھے ہیں اور گھر کی 90فیصد بجلی کا بل ”آفس“ پر ڈال دیتے ہیں کہ یوں اس کی ادائیگی سرکاری کھاتے سے ہو جاتی ہے اور گھر کو برائے نام بل آتا ہے۔ عمرے، حج اور نمازیں ان کی بھی گنی نہیں جاتیں۔ اک اور نامی گرامی پرہیز گار جو کاروں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتا تھا، پچھلے دنوں حج کر کے آیا 20فروری 2010ء سے عوام کا 70بلین روپیہ لے کر غائب ہو چکا۔ اس کی ایک انویسٹر بیوہ خاتون کو اس کے بند شو روم کے سامنے ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ جوان بیٹیاں چھوڑ کر چل بسی۔ یہ ”نیک نام“ غائب ہے۔ اخباروں میں کہرام بھی مچا لیکن چند بارسوخ پرہیز گار اس کے پشت پناہ ہیں سو امید کی جاتی ہے کہ سینکڑوں خاندان برباد کرنے والے اس شخص کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ ہم میں سے جتنے لوگ بھی باقاعدہ عبادت گزار ہیں … اگر صرف وہی اپنی ہر عبادت کا اصل جان جائیں تو بدترین حکمران طبقات کے باوجود پاکستان بہت سی لعنتوں سے پاک ہو سکتا ہے اور سچ تو یہ کہ ان حکمران طبقات سے بھی بہ آسانی نجات مل سکتی ہے۔ اس تمام تر ”بصر خراشی“ کی باٹم لائن یہ ہے کہ اپنی ہر عبادت کی تہہ تک پہنچیں۔ اس کی گہرائی و گیرائی میں اتریں اور اسے پوری طرح سمجھ کر اختیار کریں۔
بیچارے پاکستانی کیا کریں؟ کی فہرست میں یہ بھی شامل کرنا ہو گا کہ ہم اپنی آدھی آبادی کی ”رہائی“ کا سوچیں اور عورت کو عورت کی بجائے فرد سمجھیں۔ صرف عورت سمجھ کر آدھی آبادی کو ان دیکھی زنجیروں اور ان دیکھے زندانوں میں جکڑ کر ہم اپنا بے تحاشہ نقصان کر رہے ہیں۔ المناک ترین صورتحال یہ ہے کہ یونیورسٹی سطح کی لڑکیاں بھی بھیڑوں بکریوں کی طرح سہمی سمٹی دکھائی دیتی ہیں۔ وہ خود اعتمادی دور دور تک دکھائی نہیں دیتی جو ان کے شایان شان ہے یا ہونی چاہئے۔ ان کی چال ڈھال، باڈی لنگوئج، بول چال میں اک ایسی بیچارگی، بے بسی اور لاوارثگی محسوس ہوتی ہے جو بیان سے باہر ہے۔ بیرون ملک کسی یونیورسٹی کو دیکھیں تو وہاں کی طالبات بھی طلبہ کے برابر بااعتماد، پر جوش اور پر عزم دکھائی دینگی جبکہ ہماری عظیم اور قدیم ترین درسگاہ کچھ اور ہی منظر پیش کرتی ہے اور میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے زمانے یعنی 70کی دہائی کی طالبات ان سے ہزارگنا زیادہ با اعتماد اور ڈیشنگ تھیں لیکن پھر انہیں اک مخصوص ذہنیت کا زنگ لگ گیا ۔ مختصراً یہ کہ ہیومن ریسورس، ہیومن ریسورس ہوتا ہے زنانہ مردانہ نہیں ہوتا۔
(جاری ہے
Mr Hassan Nisar Thank you for tour Comments in GEO Program on 23rd April. What ever you said was right. I am a person who has lost hope and say for every thing bad Only Pakistani nation should blame it self. I am sure on one area I will differ with you that is Musharaf. He was the great son of this land he made a great logical effort but the nation preferred Goof Nawaz.
I am living in Uzbekistan and do not want to return to my country inspite of the fact that I love Pakistan. I always offer to Pakistanis a great Model to follow. Uzbekistan is a country on the road to progress and prosperity. Uzbekistan Visa services, Hotels, Tours, and Business related activity I am offering. Uzbekistan Visa support is free.
visit our web site for more details about Uzbekistan ttp://www.harleytourism.com/uzbekistan-visa/uzbekistan-visa.shtml
The recent meeting of President Zardari in Sochi opens great opportunities for Pakistani Business Community and Pakistani nation, If it is left with some common sense, should take advantage of the opportunities. Every Body and specially the Patriotic minds are invited to write about Tajikistan business Opportunities