رؤف کلاسرا
اکتوبر 2006ء کو پہلے دن کلاس میں پہنچا تو میرے کلاس فیلوز سر جھکا کر کوئی چیز پڑھنے میں مصروف تھے۔ پتہ چلا کہ ہماری کلاس کے پروفیسر نے تمام طالبعلموں میں پورے ایک سال کا سلیبس اور اس کے ساتھ پوچھے جانے والے تمام سوالات پہلے دن ہی حوالے کر دیئے تھے۔ ہم سب کو بتایا گیا کہ آپ سے یہ فلاں فلاں سوالات پوچھے جائیں گے اور ان کے جوابا ت کیلئے فلاں کتابیں پڑھ لیں۔ میں بڑا خوش ہوا کہ چلیں یہ کام تو آسان ہوا۔ میں جس کلاس میں گیا وہاں کے ٹیچرز نے ایک سال پہلے ہی تمام سوالات، essay کے ٹاپک اور حتیٰ کہ ریسرچ تھیسز کے عنوانات بھی طے کر کے ہمارے حوالے کر دیئے۔ میں نے پورا ایک مہینہ بڑی خوشی میں گزارا کہ یہاں سے ماسٹرز کرنا تو دنیا کا آسان ترین کام تھا۔ ایک ماہ بعد میری دوست کیتھرین کو احساس ہوا کہ میں لیکچرز، کتابوں اور پڑھائی دلچسپی نہیں لے رہا تھا۔ وہ پریشان ہوئی اور میرا ہاتھ پکڑ کر کالج کے کیفے میں لے گئی۔ کافی کے دو مگ لیکر اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم پڑھائی کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ میں نے بڑے آرام سے جواب دیا کہ مجھے تو یہ پریشانی ہے کہ تم کیوں ہر وقت لائبریری میں گھسی رہتی ہو۔ آخر کیا ٹینشن ہے۔ کیتھرین بولی خدا کا خوف کرو اگر تم یہ ساری کتابیں نہیں پڑھو گے، کلاس میں دو گھنٹے پر محیط لیکچر کو غور سے نہیں سنو گے تو پھر کیسے ان سوالات کو لکھ پاؤ گے۔ وہ مجھے سمجھاتی رہی اور میں ہوں ہاں کر کے کافی کے سپ لیکر اسے سنتا رہا۔ آخر تنگ آ کر وہ بولی کہ رؤف اگر تمہارے پاس ان تمام مسائل کا حل موجود ہے تو مجھے بھی بتاؤ تاکہ میں بھی تمہاری طرح ریلیکس ہو کر پھروں۔ پتہ نہیں اچانک اسے کیا بات سوجی اور وہ بولی کہ کہیں تمہاری پڑھائی میں دلچسپی لینے کی وجہ یہ تو نہیں کہ تم ایک سکالر شپ پر یہاں پر آئے ہوئے ہو اور تمہیں ایک پاؤنڈ بھی اپنی جیب سے خرچ نہیں کرنا پڑتا لہذا تمہاری بلا سے تم پاس ہو یا فیل۔ لندن میں ایک سال گوروں کے پاؤنڈز پر عیاشی کر کے پاکستان واپس لوٹ جاؤ گے۔ چاہے ڈگری ملے یا نہ ملے۔ اس کے برعکس میں ایتھنز میں اپنا فلیٹ بینک کو گروی رکھ کر بیس ہزار پاؤنڈز کا قرضہ لیکر یہاں پڑھ رہی ہوں۔ واپس جا کر اپنی تنخواہ میں سے قسطیں ادا کرتی رہوں گی اس لیے مجھے ذرا سنجیدگی سے پڑھائی کرنی پڑتی ہے۔ میں کیتھرین کی بات سن کر پہلی دفعہ سنجیدہ ہوا اور بولا یار یہ گورے کس طرح کی تعلیم ہمیں دے رہے ہیں۔ یہی دیکھ لو کہ انہوں نے ایک سال پہلے ہی ہمیں امتحان میں پوچھے جانے والے تمام سوالات اور ان سے متعلقہ کتابوں کے نام تک بھی بتا دیئے ہیں۔ اتنی جلدی کیا ہے ابھی تو لندن کو بھی پوری طرح نہیں دیکھا۔ جب وقت آئے گا تو ان سوالات کے جوابات کتاب سے ڈھونڈ کر لکھ دیں گے اور پاس ہو جائیں گے۔ اگر مسئلہ ہوا تو رٹہ لگا کر ان سوالوں کے جوابات بھی رٹ لیں گے۔ کیتھرین پر ایک شدید ہنسی کا دورہ پڑا۔
میں بڑا حیران ہوا کہ آخر میں نے ایسی کونسی بات کہہ دی تھی جس سے وہ لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔ وہ بولی رؤف اپنے اوپر رحم کرو۔ اگر تم یہ سوچ کر پڑھائی نہیں کر رہے تو میری بات یاد رکھو تم یقیناً فیل ہوگے۔ یہ بات اپنے ذہن میں رکھنا کہ ہم نے ان سوالات کے جوابات اور essay لکھنے ہیں وہ کسی بھی طریقے سے کسی بھی کتاب سے کاپی کر کے نہیں لکھنے۔ تم وہاں سے ریفرنس یقیناً دے سکتے ہو لیکن اگر تم نے انہیں ہو بہو نقل کیا تو پھر تم فیل۔ ہم نے یہ سب کتابیں پڑھنی ہیں۔ اگر نہیں پڑھیں گے تو ہم ان سوالوں کے جوابات کبھی نہیں دے سکیں گے۔ اس خوش فہمی میں نہ رہنا کہ کیونکہ انہوں نے تمہیں پہلے سے ہی سارے سوالات اور ٹاپک بتا دیئے ہیں لہذا تم راتوں رات رٹہ لگا کر ان کے جوابات لکھ لو گے۔ میں نے پہلی دفعہ اسے سنجیدگی سے دیکھا۔
آج چار سال بعد یہ بات بڑے یقین سے کہہ رہا ہوں کہ اپنی ماسٹرز ڈگری کے تمام سوالات اور ٹاپکس کے ایک سال پہلے ملنے کے بعد بھی میں بڑی مشکل سے 53% مارکس لیکر پاس ہوا جبکہ 50% پر یہ امتحان محض پاس ہونا تھا۔ میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ اگر ارشد شریف پاکستان ہائی کمیشن کے ہمارے مشترکہ دوست عمران گردیزی کے وکٹوریہ سٹیشن کے قریب واقع فلیٹ پر چار دن اور راتیں لگا کر میرے ساتھ تھیسز تیار نہ کرواتا تو شاید میں یہ 50% بھی نہ لے سکتا۔ چاہے آپ کو ایک سال پہلے ہی اپنے پرچے کے سوالات اور ان سے متعلقہ کتابیں بتا دی جائیں پھر بھی آپ اس سسٹم میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک آپ نے وہ پوری کتابیں نہیں پڑھیں اور اپنے ذہن کی تمام تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لائے۔ میں آج بھی یہ سوچ کر کانپ سا جاتا ہوں کہ اگر میری دوست کیتھرین نے مجھے یہ وارننگ نہ دی ہوتی اور میرے دوست ارشد شریف نے میرے امتحان کے دنوں میں چار راتیں میرے ساتھ نہ لگائی ہوتیں تو شاید میں جہاں گوروں کے پچیس ہزار پاؤنڈ ضائع کرتا وہیں ساری عمر اپنے آپ سے اور دوستوں سے شرمندہ رہتا کہ میں لندن سے ڈگری حاصل نہ کر سکا۔
یہ ساری باتیں مجھے اس لیے یاد آ رہی ہیں کہ پنجاب میں شہباز شریف نے صوبے کے بجٹ میں سے کروڑوں روپے نکال کر پوزیشن ہولڈرز میں حوصلہ افزائی کے نام پر تقسیم کر دیئے ہیں۔ کوئی بیوقوف شخص ہی اس طرح کے انعامات اور حوصلہ افزائی پر اعتراض کرے گا لیکن مجھے یہ تھوڑی سی گستاخی کرنے کی اجازت دیں کہ کام تو بڑا اچھا کیا جا رہا تھا لیکن اس سے ہمارے تعلیمی معیار پر ہرگز کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ میں بڑا خوش ہوتا اگر شہباز شریف صاحب جو لندن کے تعلیمی معیار کو اچھی طرح جانتے ہیں وہ اسی طرح کی تعلیمی اصطلاحات اپنے صوبے میں متعارف کرواتے اور پھر اس طرح کے نظام میں سے پوزیشن لینے والوں پر انعامات کی بارش کرتے۔ یہ بات نہیں ہے کہ لندن کے سکولوں، کالجوں یا یونیورسٹیز میں پوزیشن ہولڈرز نہیں ہوتے وہاں بھی ارشد شریف کی طرح پاکستانی سٹوڈنٹس ماسٹرز ڈگری میں Excellent لے کر ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا شہباز شریف صاحب اپنے کسی بیٹے، پوتے، پوتیوں یا نواسیوں کو ان سکولوں میں بھیجنے پر تیار ہیں جن میں پڑھنے والے بچوں کو وہ بورڈ میں پوزیشن لینے پر انعامات دے رہے ہیں۔ جب وزیر اعلیٰ، وزیر اور بیورو کریسی ان رٹہ پر چلنے والے سکولوں کے ہاتھ میں اپنے بچوں کا مستقبل دینے کیلئے تیار نہیں ہیں تو پھر اس سب کا کیا فائدہ۔ ہمارے اس بوگس تعلیمی نظام میں جو جتنا بڑا رٹے باز ہے وہ اتنا ہی زیادہ نمبر لیتا ہے۔ ان سکولوں میں پڑھانے والے استاد بھی اپنے ذہن سے سوچنے اور لکھنے والے طالبعلم کو کبھی نمبر نہیں دیتے۔ انہوں نے جو کچھ رٹہ لگا کر پڑھا تھا وہ اپنے اسٹوڈنٹس کے امتحانی پیپر میں وہی کچھ پڑھنا چاہتے ہیں۔ اگر کسی نے بھی اپنی طرف سے ذہن استعمال کرتے ہوئے کوئی ایسی بات جوابی پرچے میں لکھ دی جو محترم استاد نے نہیں پڑھی ہوئی تھی تو وہ اس سے انتقام لینے کیلئے اکثر اس کا نِک نیم طنزیہ انداز میں افلاطون رکھ دیتا ہے اور سب کے ساتھ مل کر اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ جس ملک میں استاد اپنے طالبعلم کو اخبار، ناول، کہانی یا اس طرح کی دوسری کتابیں پڑھنے کی حوصلہ افزائی نہ کرتا ہو یا اس نے خود نہ پڑھی ہو ، وہاں بھلا کوئی طالبعلم بورڈ یا یونیورسٹی ٹاپ کرے تو بھی اس سے کیا ہو جائے گا۔
ایک بات پر ہمارے تمام سیاسی لیڈر متفق ہیں کہ عوام کے بچوں کو وہ تعلیم نہیں دلانی جو وہ اپنے بچوں کو انگش میڈیم اور لندن سے دلوا رہے تھے۔ شہباز شریف بھی صوبے بھر میں لندں کی طرز پر تعلیمی اصلاحات لانے کے بجائے وہاں رٹے کی بنیاد پر پوزیشنیں لینے والے بچوں میں کروڑوں روپے بانٹ کر خوش ہوتا ہے۔ یہ بچے رٹہ لگا لگا کر آخر پر چھوٹی موٹی نوکریاں کر کے خوش رہیں گے جب کہ انگلش میڈیم سکولوں سے او لیول کر کے غیر ملکی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں لیکر لوٹنے والے بڑے لوگوں کے بچے پوزیشن لینے والے ان بچوں پر ڈٹ کر حکومت کرتے رہیں گے ۔
اگر مقصد صرف سیاسی پبسلٹی نہیں، تو اپنے بچوں کو سابق برطانو ی وزیراعظم ٹونی بلییر کی طرح سرکا ری سکولوں میں پڑھائیں، تو بات بنے گی سر!!
Recent Comments