کبھی نہ بھولنے اور ہمیشہ یاد رکھنے والی اک حسین حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی عبادات باقی مذاہب کی عبادات سے مختلف و منفر د ہیں۔ ہماری ہر عبادت کثیرالمقاصد، بامقصد اور بامعنی ہے اور ہماری کوئی بھی عبادت خود ENDنہیں بلکہA mean to achieve verious ends یعنی عبادت خود منزل نہیں بلکہ بے شمار منزلوں تک پہنچنے کا رستہ ہے بشرطیکہ ہم ہر عبادت کے”اصل“…”جوہر“…”روح“ کو سمجھ کر ادا کی گئی نماز مندرجہ ذیل تحائف عطا کرے گی۔
نمبر1۔وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
نمبر2۔پابندی اوقات کی عادت
نمبر3۔نظم و ضبط(جو زندگی کے ہر شعبہ میں نظر آئے)
نمبر4۔مساوات(کوئی کسی کا بندہ کابندہ ہیں صرف اللہ کا بندہ)
نمبر5۔رجیمنٹیشن کی انتہا
نمبر6۔انٹرایکشن، انٹرفیس آپس میں گہرا تعلق و رابطہ جسے مغرب میں کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کہا جاتاہے۔
نمبر7۔یکسوئی جیسی طاقت و دولت یعنی انسان کےConcentrationمیں بے پناہ اضافہ جو انسان کو زمین سے آسمان تک پہنچا سکتا ہے۔
نمبر8۔پاکیزگی و طہارت اوریاد رہے کہ یہ پاکیزگی صرف ہاتھوں، گردنوں، گٹوں گوڈوں اور پیروں کی صفائی نہیں کہ اگر آنکھ،زبان،نیت،روح اور عمل صاف نہیں تو سمجھ لو کچھ بھی صاف نہیں۔
نمبر9۔اہل علاقہ کی پانچ بار مشاورت اور اجتماعی سطح کی برین سٹارمنگ کہ کون بیمار ہے؟کون بے روزگار ہے؟اور کون سا سرکاری اہلکار خرکار ہے اور اسے مل جل کر راہ راست پر کیسے لانا ہے۔
یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ نما ز جو نظم و ضبط سکھاتی ہے اس کا مظاہرہ ٹریفک میں بھی ہونا ضروری ہے۔صفیں سیدھی رکھنے کا مقصد ہے کہ ہر معاملہ سیدھا ہو اور بس سٹینڈز پر بھی قطاریں دکھائی دیں۔ پبلک مقامات پر آوارہ جانوروں کی طرح کا مینرازم مومن کو زیب نہیں دیتا کہ اسے تو مسجد میں اس کے برعکس سکھایا جاتا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ اگر صرف نمازی حضرات ہی اس کی برکات سمجھ لیں تو دنوں میں انقلاب عظیم آجائے۔اصل لفظ تو”صلوة“جس کا مطلب ان خوبصورتیوں سے بھرپور وہ سسٹم ہے جس کی طرف میں نے اشارہ کیا اور پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ سوچ سمجھ کر پانچ بار اللہ پاک کے حضور سجدہ ریز ہونے والا سر کسی دو ٹکے کے گامے ماجھےVIPیا ظلم زیادتی کے سامنے جھک جائے۔ رب العزت کی قسم یہ ناممکن ہے بشرطیکہ بات سمجھ آجائے۔ دوران سجدہ تو جسم کے ساتھ وہ کچھ ہوجاتا ہے جس کے بعد تیر بھی جسم سے یوں نکل آتا ہے جیسے مکھن سے بال اور جو اقبال کہتا ہے…
تو جو سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کیا کیا کچھ نہیں ملتا نماز سے…اگر سمجھ سوچ کر ادا کی جائے اور اقبال کی آواز پر ہی کان دھر لئے جائیں۔ مغرب بیشتر طور پر آج جن باتوں کی وجہ سے مغرب ہے(پابندی اوقات سے لے کر پورے معاشرے میں مخصوص نظم و ضبط تک، صفائی جیسے نصف ایمان سے لے کر کمیونٹی ڈیویلپمنٹ اور اپنے لیڈروں کو ان کی اوقات میں رکھنے تک)یہ سب کچھ ہم مسلمانوں کو صدیوں پہلے سکھایا گیا ۔ یہ اور بات کہ ہم صرف ثواب کے چکر میں دیگر مقاصد نظر انداز کربیٹھے۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ہم اپنی تمام تر عبادات کی روح کو سمجھ کر…ان کے مکمل پیغامات کو سمجھ کر انہیں اختیار کرلیں تو مختصر ترین مدت میں ایک شاہکار معاشرہ جنم لے سکتا ہے۔
مخصوص ذہنیت اور کٹھ ملائیت کے وارے میں نہیں کہ دین مبین کے عملی اور انقلابی پہلوؤں پر توجہ دیں کیونکہ اس سے بڑے بڑے برج اور دکانیں الٹ سکتی ہیں۔ اس لئے مسلمان عوام کو چاہئے کہ…”یہ امت خرافات میں کھو گئی“کو سمجھ کر اپنے اصلی رستے اور حقیقی لیکن گمشدہ مفاہم کو تلاش کریں اور پیشہ وروں پر انحصار کرنے کی بجائے آقا کی عطا کردہ رسی کو دوبارہ مضبوطی سے جکڑ لیں، ورنہ جان لیں کہ دردناک اور فیصلہ کن ابتری و تباہی ان کی منتظر ہے۔ مختصراً یہ کہ اپنی ہر عبادت کا”اصل“ڈھونڈا جائے۔ (جاری ہے
Recent Comments