اس وقت سب سے اہم اور بنیادی سوال یہ ہے کہ ہر طرف سے ہر قسم کی اذیتوں میں گھرے ہوئے پاکستانی کیا کریں ؟تو اس سوال کا فوری جواب تو یہ ہے کہ فوراً یہاں سے ہجرت کر جائیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انہیں قبول کون کرے گا؟ کیونکہ متمول برادر اسلامی ممالک تو منہ نہیں لگاتے اور اہل مغرب بھی جو کبھی خوشدلی سے اکاموڈیٹ کر لیا کرتے تھے ، ہم میں سے کچھ کی حرکتوں کے سبب چوکنے ہو کر ننگی تلاشیوں پر اتر آئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہمیں یہیں رہ کر کچھ کرنا مرنا ہو گا … کیا کریں؟ تو آیئے میں کچھ کاموں کی اک ادھوری سی لسٹ مرتب کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ بیچارے بخت ہارے پاکستانی کیا کریں ؟ آپ بھی اس ذہنی کارخیر میں حصہ ڈالئے تاکہ فائنل فہرست مرتب کی جا سکے جسے گاہے گاہے ”اپ گریڈ “ کرتے رہیں گے ۔
سب سے پہلے تو اپنے اندر ایک باعزت زندگی گزارنے کی خواہش اور نیت پیدا کیجئے ۔ ایک ایسی زندگی جس میں چند مخصوص مراعات یافتہ ”بد…معاش“ طبقات انسانوں پر حیوانوں جیسی زندگیاں مسلط نہ کر سکیں ۔ پاکستانیوں کو اقتصادی جذباتی مذہبی غرضیکہ کسی طرح بھی ایکسپلائٹ نہ کر سکیں ۔ اک ایسی زندگی جس میں معاشی انصاف سے عدالتی انصاف اور احتساب تک عام ہو ۔ ایسی زندگی کی شروعات کے لئے پاکستانیوں کو قسم کھا کر محمود غزنوی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہر سیاسی بت پاش پاش کرکے پاکستان کے سیاسی برہمنوں سے اس ”سومناتھ“ کا قبضہ چھیننا ہو گا کیونکہ عملاً یہ ملک چند خاندانوں کی جاگیر کے سوا کچھ نہیں ۔اس ہیر کو کیدوؤں سے بچانے اور عوام کے رانجھا تک پہنچانے کے لئے ان کے دماغ درست کرنا ہوں گے جن کا تکیہ کلام ہی یہ ہے کہ ہم کھمبے یا گدھے کو بھی ٹکٹ دیں تو وہ جیت جاتا ہے جب تک شخصیت پرستی کی شکل میں یہ بدترین بت پرستی جاری رہے گی ، قدرت کی طرف سے بھیانک سزاؤں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا کبھی امریکہ ناطقہ بند کرے گا کبھی انڈیا پانی بند کرے گا ، روٹی، چینی، بجلی غائب رہے گی بارشیں روٹھی رہیں گی ، ایک دوسرے کو نوچنے کا کلچر پھلتا پھولتا رہے گا تو کبھی IMFجیسی مالیاتی رکھیل اس ملک کو نکیل ڈالے رکھے گی اور حکمران طبقات تمہارے ہمارے وسائل لوٹ لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں خریدتے رہیں گے ، ہماری بوٹیوں سے سوئس بینک بھرتے رہیں گے جب تک ان سیاسی بتوں کو پاش پاش نہیں کرتے مزید قلاش ہوتے جائیں گے اور یہ لوگ ہماری آئندہ نسلوں کا مستقبل بھی نگل جائیں گے ۔
پاکستانیوں کو چاہئے کہ کھوکھلی لفاظی سے اوپر اٹھ کر اپنے غیور اور باشعور ہونے کے عملی ثبوت پیش کریں، غیرت اور شعور صرف کہنے سے نہیں کرنے سے ثابت ہوتے ہیں … کچھ کرکے دکھاؤ مثلاً تمہارا کوئی پالتو ”وی آئی پی موومنٹ“کے نام پر تمہارے ہی کچھ پالتوؤں کے ذریعے تمہارے ہی راستے روک کر تمہیں ، تمہارے بچوں اور تمہارے مریضوں کو جانوروں کی طرح روکنے کی کوشش کرے تو سو دو سو غیرت مندوں اور باشعوروں کو آگے آ کر اس کی مزاحمت کرنی چاہئے اور یہ جائز سوال اٹھانا چاہئے کہ اگر یہ سڑک تمہارے باپ کی ہے تو اس سڑک کی رجسٹری پیش کرو ۔
راستے بند کئے دیتے ہو دیوانوں کے
ڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کے
میں یقین دلاتا ہوں کہ دوچار شہروں میں اس طرح کے ”میچ“ پڑ گئے تو ”ہماری جوتیاں ہمارے سر“ کا یہ تو ہین آمیز دھندا بند ہو جائے گا ۔ کیا مذاق ہے کہ نمائندہ بلکہ نوکر بھی ہمارا ،سڑک بھی ہماری ، رستہ روکنے والی پولیس بھی ہماری کمائی پر پلنے والی …اور رکشے میں پیدا ہونے والا بچہ بھی ہمارا۔
یہ سب کچھ تبھی ہو گا جب لوگ اپنے اندر ایک باعزت زندگی کی خواہش اور نیت پیدا کریں گے ۔ اپنی توہین و تذلیل پر سمجھوتہ کر جانے والوں کی کوئی عزت نہیں کرتا ، ذرا کرکے دیکھو تو پھر کیسے کیسے معجزے رونما ہوتے ہیں کیا خوبصورت قول ہے کہ …
“YOU ARE NEVER GIVEN A WISH WITHOUT THE POWER OF MAKING IT COME TRUE”
اللہ پاک جب کوئی خواہش عطا کرتا ہے تو اس کی تکمیل کی طاقت بھی عطا فرماتا ہے۔
یہ کام ”پیشہ ور سپورٹر“ اور ”پیشہ ور ووٹر“ کبھی نہیں کریں گے کیونکہ ان میں سے بیشتر کا اپنا اپنا ایجنڈا اور مفادات ہوتے ہیں ، نئے لوگوں کو متحرک ہونا ہو گا ۔
سیاسی بت پاش پاش کرنے اور اپنے بنیادی حقوق پر مزاحمت کے ساتھ ساتھ ”حرام خوری“ اور ”کام چوری“ پر لعنت بھیج کر محنت کو اپنا شعار بناناہو گا۔کام کے دوران سگریٹ پینے اور فون سننے کو بھی حرام سمجھنا ہو گا اور خواہ کوئی خاکروب ہی کیوں نہ ہو …اسے اپنے کام پر فخر کرنا سیکھنا ہو گا کہ دیانتداری سے جوتا گانٹھنے والا موچی راشی منصف اور کام چور استاد سے کروڑوں گنا زیادہ محترم ہے اور پیشے نہیں پرفارمنس مقدس ہوتی ہے ۔
بچے اتنے ہی اچھے جن کے ساتھ تم انصاف کر سکو ۔ اپنے بہت سے معصوم بچوں کو کرائے پر چلانے(RENT A CHILD)سے بہتر ہے کہ اتنے ہی ہوں جتنوں کو تم مناسب تعلیم اور توجہ دے سکو۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=414184

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. بیچارے پاکستانی کیا کریں؟ (قسط 3) حسن نثار
  2. بیچارے پاکستانی کیا کریں؟ حسن نثار…(قسط2)
  3. سعیدہ وارثی، لاوارث پاکستانی

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha