حسن نثار
پورا ملک متوجہ تھا اور اصل نتیجہ بھی توقعات کے عین مطابق ہی نکلا۔ این اے 55 کے نتائج سے میری دلچسپی کی وجوہات ذرا مختلف تھیں۔ اندازہ تھا کہ شیخ رشید ہاریں گے لیکن میرا تجسس تھا کہ وہ گزشتہ کے مقابلہ میں اس بار سیاسی طور پر کتنا Recover کرتے ہیں تو اس حوالہ سے شیخ صاحب کی پرفارمنس بری نہیں جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ مشرف سے لے کر لال مسجد تک کے ملبے اتنے وزنی و بھاری ہیں کہ اتنے مختصر عرصہ میں ان سے سو فیصد جان چھڑانا ممکن ہی نہیں تھا اور اگر کسی کا خیال ہے کہ پیپلزپارٹی کے جیالے نے انہیں ووٹ دیا ہوگا تویہ احمقانہ بات ہے کیونکہ ٹاپ لیڈرشپ تو سمجھوتے، سودے بازیاں، کچھ لو کچھ دو جیسے کام کرلیتی ہے عام ورکر یہ جھک نہیں مارتا اور شیخ صاحب محترمہ بینظیر بھٹو کے بارے میں تقریری اور تحریری طور پر جو کچھ کرتے رہے تھے… جیالا کبھی بھولا نہ بھولے گا۔ شیخ رشید اور (ن) لیگ کے اس میچ سے بھی کہیں زیادہ دلچسپی مجھے اس بات سے تھی کہ تحریک ِ انصاف اور جماعت ِ اسلامی کے امیدواروں کے ساتھ کیا لوک ہوتاہے؟ یہ بہت اہم بات تھی کیونکہ ان بیچاروں کے ساتھ ہونے والا انتخابی سلوک دراصل اک خاص سوچ اور ذہنیت کے بارے میں عوام کے ردعمل کا اظہار سمجھا جاتا۔ عوام نے اک مخصوص مائنڈ سیٹ کو بری طرح مسترد کرکے اپنی سیاسی میچورٹی کا ثبوت دیا جو ایک نیک شگون ہے۔ اس ”تین ہزاری“ نتیجہ کے بعد بھی عمران خان سیاستدان کہلانے اور تحریک ِ انصاف کو سیاسی پارٹی سمجھنے پر مصر ہو تو اس کی مرضی کہ شوق دا کوئی مُل نہیں اور ویسے بھی یہ اس کاجمہوری حق ہے کہ جیسا چاہے اپنی انرجی اور وقت جیسی قیمتی متاع ضائع کرے۔ عمران خان کو سیاست یا سٹانس اور سٹریٹجی میں سے کوئی ایک چیز چھوڑنا ہوگی۔ اگر نہیں تو اسے ذہنی طورپر ایکشن ری پلے کے لئے تیار رہنا ہوگا کیونکہ اس کے لئے ہر حلقہ NA-55 اور ہر امیدوار اعجاز جازی ثابت ہوگا۔
اوراب چلتے ہیں محکمہ تعلقات ِ عامہ پنجاب کے ان 96 چھوٹے ملازمین کی طرف کہ اگر انہیں بھی صحافی کالونی میں اکاموڈیٹ کرلیاجائے تو کیا برا ہے۔ ”کم از کم سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم“والی بات توہونی چاہئے کہ اگر سنیٹر پرویز رشید جیسے ہمدرد اور انسان دوست… شعیب بن عزیز جیسے شاعر کے ہوتے ہوئے بھی یہ محروم ہی رہ گئے تو کچھ جچے گا نہیں۔ ان کی یہ اپیل بھلی سی دلیل کے ساتھ
آگے پہنچا دیں تو شاید ان کابھلا ہو جائے۔ حسن نثار صاحبملتمس ہوں کہ بندہ ناچیز محکمہ تعلقات ِ عامہ پنجاب میں بحیثیت آپریٹر مئی 1987 میں بھرتی ہوااور آج بھی 22 سالہ نوکری پوری کرنے کے بعد ہر سال سر پر تلوار لٹکتی ہے کہ ہمارا (آپریٹرز کا) اگلے سال کا بجٹ منظور ہونا بھی ہے یا نہیں، نوکری رہتی بھی ہے یا نہیں کیونکہ زندگی کا اتنا قیمتی وقت دینے کے بعد بھی عارضی نوکری کا طوق گلے میں پڑا ہوا ہے۔ بندہ نے اپنی اس 22 سالہ نوکری کے دوران پوری ذمہ داری سے نہ صرف وزیراعلیٰ پرویزالٰہی صاحب کے ساتھ Independently کیمرہ مین کی حیثیت سے کام کیا بلکہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف صاحب کے ساتھ پورے پنجاب میں کیمرہ مین کے فرائض انجام دیئے بلکہ ان کے ساتھ کوئٹہ بلوچستان میں اپنی ذمہ داری بہ احسن ادا کی۔
اپنی گزشتہ سروس کو سامنے رکھتے ہوئے اس امید کے ساتھ پچھلے سال کیمرہ مین کے لئے درخواست دی کہ محکمہ کاملازم اور ان خدمات کے صلے میں ضرور موقع دیا جائے گا لیکن بھرتی کئے جانے والی 17آسامیوں پر بھاری معاوضے (گرافک ڈیزائنر 80ہزار ماہانہ، کاپی رائٹر 60ہزار ماہانہ، کیمرہ مین 40ہزار ماہانہ، سوئچ آپریٹر 30ہزار ماہانہ) کے عوض اپنے من پسند افراد کو بھرتی کرکے مجھے اورایسے ہی کئی دوسرے محکمہ کے ملازمین کو نظرانداز کیاگیا جن کا تجربہ، جن کی تعلیم کو اگر مدنظر رکھا جاتا تو پہلے ضرور انہیں موقع دیاجاتا جبکہ بھرتی کئے جانے والے ملازمین جنہیں نہ تو کوئی کام آتا ہے اور نہ ہی تجربہ اور ان کا دفتر آنا بھی ایسا ہی ہے جیسے وہ یہاں پکنک منانے آتے ہیں حالانکہ ان کے آنے سے پہلے بھی سرکاری طور پر تمام کام احسن طریقے سے چل رہے تھے۔ اگر ان سیٹوں پر تقرری ضروری تھی تو پہلے سے موجود محکمہ کے ملازمین کو ان کا حق دیا جاتا تو شاید سینئر ملازمین کی حوصلہ شکنی نہ ہوتی۔جناب عالی! نا انصافی صرف یہاں تک ہی نہیں پچھلی حکومت میں صحافی کالونی میں دیئے جانے والے پلاٹوں میں پسند ناپسند اور نوازنے کی روایت کو برقرار رکھا گیا جس کی ایک مثال ایک اعلیٰ اسسٹنٹ کیمرہ مین کو پلاٹ دیا گیا جس کی مدت ِ ملازمت (کنٹریکٹ) نہ صرف دوسال تھی بلکہ کچھ ہی عرصہ بعد اس نے نوکری بھی چھوڑ دی اسی طرح دیئے جانے والے پلاٹوں کی تعداد 76بنتی ہے جبکہ دوسری طرف ایسے ملازمین ہیں کہ جن کی سروس 27,27سال ہوچکی لیکن وہ پلاٹ سے محروم ہیں۔ کیا پلاٹوں کی پالیسی ایسی نہیں ہونی چاہئے تھی کہ سینیارٹی کے مطابق جس کا نمبر بنتا اسے پلاٹ دے دیا جاتا تاکہ ہر ملازم کواس کا حق مل جاتا اورشکایت بھی نہ ہوتی۔
جناب عالی! ہم سمجھتے ہیں کہ آپ ہی کے ذریعے وزیراعلیٰ پنجاب تک ہماری داد رسی پہنچ سکتی ہے۔ متاثرین کے مع دستخطوں کے ساتھ کاپی لف ہے۔ شکریہ:مجیب اسلم و دیگر ملازمین (97کے دستخط) محکمہ تعلقات عامہ پنجاب، لاہور
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=413731
Related posts:








sir
i am a poor student.my father is a farmar.plz give me scohlar ship.i am very thankful to for kindness.i am study in 9thclass