منوبھائی
پنجاب کے وزیر اعلیٰ یا خادم اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف واجب تعبیر خواب دیکھنے میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ اپنے صوبے میں پولیس فورس کی کارکردگی کو لندن پولیس کی کارکردگی جتنی موثراور نتیجہ خیز بنا کے خواب کی تعبیر تلاش کرنے کے شوق میں انہوں نے لندن کے سابق پاکستانی نژاد پولیس کمشنر جناب طارق غفور کی سرکردگی میں پولیس کی تربیت کے ماہرین کی ایک ٹیم کو پنجاب کے پولیس افسروں کے ساتھ تفصیلی ”انٹرایکشن“ کے لئے انگلینڈ سے پنجاب آنے کی دعوت دی ہے اور ان دنوں یہ ”انٹرایکشن“ بڑی سرگرمی سے جاری ہے۔
گزشتہ روز سات کلب روڈ میں وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کے دوران مجھے اور امتیاز عالم کو بھی اس انٹرایکشن کے ایک سیشن میں بطور ”نمائندگان سول سوسائٹی“شریک ہونے کی دعوت دی گئی۔ وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اس تقریب میں پنجاب کے سابق آئی جی پی جہانزیب برکی اور موجودہ آئی جی پی جناب طارق سے لے کر موٹر وے پولیس کے کرنل احسان تک پنجاب پولیس کے تمام قابل ذکر اور اہم پولیس افسران موجود تھے۔ پولیس کے تربیتی اداروں سے تعلق رکھنے والے افسروں کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ طارق غفور نے بتایا کہ لندن پولیس کے شعبہ کے پیچھے 180سالوں کے تجربات کام کر رہے ہیں۔ لندن یا برٹش پولیس کو جدید آلات اور ضروریات سے لیس کرنے پر ڈیڑھ ارب پاؤنڈز خرچ کئے گئے ہیں۔ پولیس کیمروں کی تعداد پانچ لاکھ سے بھی زیادہ ہے جس پر پندرہ لاکھ لوگ کام کرتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے بتایا کہ گزشتہ سال پنجاب پولیس کو فراہم کی جانے والی مراعات کی مالیت 80لاکھ روپے سے زیادہ تھی۔ پولیس ملازمین کی تنخواہیں، تقریباً دوگنی اور بعض معاملات میں دوگنی سے بھی زیادہ کر دی گئیں مگر ان مراعات کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔ پولیس کی کارکردگی اور استعداد میں نمایاں اضافہ دکھائی نہیں دیتا۔ پنجاب پولیس کے افسروں نے پولیس کے صوبائی نظام میں کسی بہتری کی عدم موجودگی کی بیشتر ذمہ داری پولیس ملازمین اور افسروں کے پروفیشنل معیار اور بددیانتی کے رجحان کو قرار دیا۔ کچھ افسروں نے پولیس میں بھرتی کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ عوام کے دلوں میں پولیس کا احترام پیدا کرنے کی ضرورت بھی ہے مگر یہ احترام پولیس ملازمین اور افسروں کو اپنے طرز عمل میں مثبت تبدیلی لانے اور قانون کا احترام کرنے سے لانا پڑے گا۔ پولیس کے طرز عمل سے لوگوں میں خوف پیدا کرنے سے زیادہ احترام پیدا کرنے کے لئے قانون پرعملدرآمد کے سلسلے میں کسی رو رعایت سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ پولیس سے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش قانون، پولیس، حکومت اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کرنے میں انتہائی نفی اور بہت ہی زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ قانون کو قابل احترام اور انصاف کو واجب عزت بنانے کے لئے سرونسٹن چرچل کو فرش پر سگار کی راکھ جھاڑنے کا جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے اور وزیراعظم ٹونی بلیئر اپنے بچوں کو تھانے سے چھڑانے کے لئے قرار واقعی جرمانہ ادا کرنے پر بخوشی تیار ہوتے ہیں جبکہ ہمارے ملک میں پولیس افسر کسی ایم پی اے کی گاڑی کے کالے شیشے ہٹانے کا حکم دینے کی جرات نہیں کرسکتا اور ٹریفک چالان کرنے پر اپنی پیٹی کے اتر جانے کے اندیشے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسے اسمبلی کے معززرکن کو ان کے کسی جرم پر روکنے کی پاداش میں جسمانی سزا سے بھی گزرنا پڑے۔ سب سے زیادہ ضروری ہے کہ پولیس کو سیاسی وفاداریاں بدلنے کے لئے استعمال نہ کیا جائے۔
پنجاب پولیس کے رویے اور امیج میں ایک مثبت تبدیلی ”موٹروے“ کی تعمیر کے بعد کے حالات میں دیکھنے میں آئی۔ اس شکایت کے باوجود کہ غالباًہمارے قائد حزب اختلاف نے اپنے آبائی علاقہ چکری کو موٹروے میں شامل کرنے کی کوشش میں لاہور اسلام آباد موٹروے کے فاصلے میں سو کلو میٹر اور بہت سے گیس کے اضافی خرچے کا اضافہ کر دیا تھا۔ ”موٹروے“ نے ہماری پولیس کے رویے اور سلوک میں ایک مثبت تبدیلی پیدا کی ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو موٹروے پولیس کے حالات کار پولیس کے دیگر شعبوں سے بہتر ہیں اور دوسرے موٹر وے نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ جس میں ٹریفک رولز کی خلاف ورزی کرنے والا خود اپنی نگاہوں میں پریشان اور شرمسار ہو جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ موٹر وے اکیسوی صدی عیسوی کی علامت ہے اور پاکستان کی موٹروے کے نواحی علاقوں میں اگر چندر گپت موریہ کے زمانے کا کنواں چل رہا ہوتا ہے تو اسی راستے کے دونوں طرف موہنجوڈارو کے زمانے کی چکی اور ہڑپہ کے زمانے کا چرخہ بھی چل رہا ہوتا ہے اور چودھویں صدی عیسوی کے کیچڑ میں دھان کی فصل کی پنیری بھی لگائی جا رہی ہوتی ہے بلاشبہ اَن مل اور بے جوڑ ترقی کے ان ناہموار نمونوں سے ترقی کا سفر طے نہیں ہوتا مگر یہ یقین ضرور ہو جاتا ہے کہ اگر ترقی اور بہتری کا ماحول پیدا کیا جائے تو حالات تبدیل کئے جاسکتے ہیں۔
لندن کی کسی سڑک پر اگر کوئی گاڑی غلط جگہ پر پارک کرنے کی کوشش کرے گا تو ایک چھوٹا سا بچہ اسے گاڑی پارک کرنے سے صر ف منع ہی نہیں کرے گا اسے گاڑی وہاں سے ہٹانے پر مجبور بھی کردے گا۔ یہ قانون کے احترام کا ماحول پیدا کرنے والی بات ہے۔ مہاتیر محمد اگر دو پانچ سالہ منصوبوں کے دوران عوام کی خواندگی کی شرح 80فیصد تک لے جاسکتے ہیں تو شریف برادران کی تعمیر
کردہ ”موٹروے“ پاکستان کی تمام سڑکوں پر قانون اور سفر کے قواعد کی پابندی کا کلچر پیدا کرنے کی بنیاد رکھ سکتی ہے بلکہ بنیاد رکھ رہی ہے۔ کیا یہ حیران کر دینے والی بات نہیں ہے کہ ہنزہ بھی اسی ملک کا حصہ ہے جس میں پشاور ، سوات، وزیرستان اور کراچی بھی ہیں اورہنزہ میں جرائم کی شرح صفر کے برابر ہے اور قتل کی واردات لوگوں کی یادوں میں بھی نہیں ہوگی اور کیا یہ حیران کرنے والی بات نہیں ہوگی کہ ”موٹروے“ جیسا ماحول پیدا کرنے سے جی ٹی روڈ پر ٹریفک کی خلاف ورزی کا ارتکاب مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہو جائے گا اور اس تبدیلی کے زیر اثر جب کوئی شخص کسی قصبے میں غلط جگہ پر کار پارک کرنے کی کوشش کرے گا تو کوئی چھوٹا سا بچہ اسے گاڑی پارک کرنے سے منع ہی نہیں کرے گا اسے گاڑی وہاں سے ہٹانے پر مجبور بھی کر دے گا۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ یا خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف بھی شاید کوئی ایسا واجب تعبیر خواب دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ دعا ہوگی کہ وہ اس میں کامیاب ہو جائیں۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=413732
Related posts:








Recent Comments