اس کاکریڈٹ بلاشبہ پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو جاتا ہے کہ انہوں نے آئین کے تحت ہونے والے ملک کے پہلے جمہوری عام انتخابات کے بعد 1971ء سے اب تک پاکستان کے بینکوں کے لوٹے گئے واجب الادا قرضوں کو واگزار کرانے کا حکم جاری کیا۔یہ اندازہ لگانا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ بینکوں سے قرضے لینے کی جرات اور حوصلہ دکھانے والا طبقہ کون سا ہوسکتا اور پھر یہ قرضے معاف کرانے کی ہمت اورطاقت کون سے طبقے کو ہوسکتی ہے ،کہا جاتا ہے اور بہت حد تک درست ہے،پاکستان جیسے ملکوں میں خوش نصیب کہلانے والا طبقہ تین بڑی چوریاں کرتا ہے، ایک بینکوں کے قرضوں کی چوری، دوسری واپڈا کی بجلی کی چوری اور تیسری حکومت کے ٹیکسوں کی چوری۔
ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری معافی کے ذریعے لوٹی گئی بینکوں کے قرضوں کی رقم کی مالیت 256ارب روپے یعنی دو کھرب56ارب روپے کی ہے مگر بینکوں کا یہ مال مسروقہ اجتماعی طور پر قومی سطح پر لوٹی جانے والی اصل رقم کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے اور اگر انتظامیہ کے نخروں،بیوروکریسی کے تاخیری حربوں، حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے ذریعے قومی خزانے اور ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کی مالیت کا احاطہ کیا جاسکے تو یہ رقم کرپشن اور بددیانتی کی زد میں آکر تباہ ہونے والے قومی وسائل کا عشر عشیر یعنی سوواں حصہ بھی نہیں بنے گا۔
بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والے حکم کی تعمیل میں مرکزی بینک نے اپنی پہلی رپورٹ میں 1999ء کے بعد معاف کئے جانے والے بینکوں کے قرضوں کا حساب دیا تھا۔مرکزی بینک نے شائد سوچا ہوگا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری صرف یہ معلوم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنے عہد حکومت میں کتنے لوگوں کے بینکوں کے کتنے قرضے معاف کئے ہیں چنانچہ بتایا گیا کہ جنرل پرویز مشرف کے عہد اقتدار میں ایک سو93ارب روپے کے قرضے معاف کئے گئے تھے۔
سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا کہ سال1971 ء کے بعد معاف کئے جانے والے بینکوں کے تمام واجب الادا قرضوں کی مالیت بیان کی جائے۔ اس پر مرکزی بینک نے بتایا کہ سال 1971ء کے بعد کے چالیس سالوں میں بینکوں کے256ارب روپے کے قرضے معاف کئے گئے ہیں۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ چالیس سالوں میں لکھ پتی سے کروڑ پتی اور کروڑ پتی سے ارب پتی اور ارب پتی سے کھرب پتی بننے کی سعادت حاصل کرنے والے کتنے پاکستانیوں نے اپنی خون پسینے کی کمائی میں سے بچائی گئی رقوم بینکوں میں جمع کرانے والے غریب محنت کشوں اور تنخواہ دار طبقے کا خون پی کر یہ توانائی حاصل کی ہوگی۔
ایک رپورٹ میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ مرکزی بینک نے اپنی پہلی رپورٹ میں صرف33کمرشل بینکوں اور چار مالیاتی ترقیاتی اداروں کے قرضوں کی معافی کا حساب دیا تھا۔ تمام ترقیاتی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے معاف کئے جانے والے قرضوں کی تفصیل اور مالیت نہیں دی گئی تھی، مثال کے طور پر اس رپورٹ میں زرعی ترقیاتی بینکوں کے وہ قرضے شامل نہیں کئے گئے تھے جو ملک کے بڑے زمینداروں، وڈیروں ا ور جاگیرداروں نے بطور سیاسی رشوت حاصل کئے اور پھر معاف کروالئے۔ امداد باہمی کے اداروں، کواپریٹو بینکوں اور حکومت کے تقاوی قرضوں کی معافی کا بھی ان رپورٹوں میں کوئی ذکر نہیں تھا۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے مالیات کے طور پر ڈاکٹر حفیظ پاشا نے پاکستان سینٹ میں ایک رپورٹ پیش کی تھی کہ سال1985ء سے مارچ1998ء تک کے تیرہ سالوں میں بینکوں کے ادا نہ کئے جانے والے(ڈی فالٹ) قرضوں کی مالیت ساڑھے 23ارب روپے سے بڑھ کر 184ارب پچاس کروڑ روپے تک پہنچ گئی تھی۔ ان میں سے اکیس ارب بیس کروڑ روپے کے قرضے زرعی شعبے سے تعلق رکھتے تھے اور98ارب تیس کروڑ روپے کے قرضے صنعتی شعبے کے تھے۔ اس عرصے میں ساڑھے سولہ ارب روپے سے بھی زیادہ مالیت کے قرضے معاف کئے گئے جن میں سے پانچ ارب روپے کے قرضے صنعتی شعبے سے تعلق رکھتے تھے۔
جس طرح جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے والے بعض لوگوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جابر سلطان سے پوچھ کر کلمہ حق کہتے ہیں اور یہ بھی معلوم کرلیتے ہیں کہ کون سا کلمہ حق کہنا ہے اور کون سے کلمہ حق کو بیان کرنے کی فی الحال ضرورت نہیں ہے۔اسی طرح بینکوں کے قرضے لینے والے بینکوں کی انتظامیہ یا حکمرانوں سے پوچھ کر”ڈیفالٹ“کرتے ہوں گے اور انہیں بینکوں سے قرضے لیتے وقت بھی معلوم ہوتا ہوگا کہ یہ قرضے واپس کرنے والے نہیں، ماں کا دودھ سمجھ کر پی جانے والے ہیں۔
بینکوں کے قرضوں کے”ڈیفالٹ“کی مالیت اور معاف کئے جانے والے قرضوں کی رقم کے منظر عام پر آنے سے پہلے بہت سے لوگ میری طرح اس غلط فہمی میں مبتلا ہوں گے کہ وطن عزیز سے لوٹی جانے والی تمام کی تمام رقم سوئس بینکوں کا رخ کرتی ہے۔ دنیا کے دوسرے ملکوں کے بینکوں میں جو رقوم جاتی ہیں وہ اس ملک کے حق حلال کی کمائی والے نیکوکار لوگوں کے خون پسینے کی کمائی ہے۔ یہ ان کی عقل مندی، ذہانت اور تعلقات عامہ اور تعلقات خانہ کی خوبیوں کا کمال ہے کہ جس کے ذریعے وہ بینکوں سے بھاری بھرکم قرضے حاصل کرتے ہیں اور پھر ان قرضوں کو معاف کروالیتے ہیں۔ رند کے رند رہتے ہیں اور ہاتھوں سے جنت کو بھی جانے نہیں دیتے، کیسے کمال کے لوگ ہیں۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=413342

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. دس سالوں میں دو لاکھ خودکشیاں- منوبھائی
  2. اندیشہ ہائے دور و دراز- منوبھائی
  3. قومی لیٹرے- ڈاکٹر صفدر محمود
  4. ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں …گریبان … منوبھائی
  5. بارہ سو روپے

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha