کیا جنوبی وزیرستان میں کئے جانے والے فوجی آپریشن کے علاوہ ، دیگر قبائلی علاقوں اور سوات میں کئے گئے فوجی آپریشنز نے ملک کی عسکریت پسندی کے خلاف، جاری جدوجہد میں کوئی اسٹریٹیجک لمحہ تخلیق کیاہے؟؟
کیا 2010ء میں، ہم عسکریت پسندی کے اس سیلاب کو روکنے میں کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرپائیں گے۔ گزشتہ برس تو ہم تعداد دہشت گردی کے حملے اور قتل و غارت گری کے مظاہرے دیکھ چکے ہیں۔ کیا ملٹری ایکشن کے نتیجے میں مقامی طالبان منتشر ہوچکے ہیں اور کیا ہم نے طالبان تحریک کو کمزور کردیا ہے؟؟ ان سوالات کا جواب بہرکیف آسان نہیں ہے جب کہ افغانستان میں جنگ کا دائرہ بھی پھیل کر وسعت اختیار کرتا جارہا ہے۔ فوجی حملوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والے فائدوں کو مضبوط اور مستحکم کرنے کا، دارومدار راہ میں موجود رکاوٹوں کا ہٹانے اور گورننس کے مسئلوں کو حل کرنے پر ہوگا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تصادم اور جنگ سے، قبل کے ماحول میں جانے کے لئے فوجی اقدامات کی نسبت سیاسی اقدامات کو زیادہ موثر بنانے کی ضرورت ہے۔
اگرچہ ملک کے سرموی اور قبائلی علاقوں میں، جنگجو، عسکریت پسندوں سے بڑی کامیابی کے ساتھ نمٹا گیا ہے، لیکن اب بھی ان عناصر پر کاری ضرب لگانے کی ضرورت موجود ہے۔ اگرچہ اس ضمن میں، عسکریت پسندی کا رخ موڑنے کی غرض سے کافی اور ساز گار حالات، اور ماحول پیدا نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود بھی چھ ماہ کے اندر دو بڑے طالبان لیٹروں بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود دونوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ ان دونوں اہم طالبان لیڈروں کی ہلاکت نے تحریک طالبان پاکستان کو خاصا نقصان پہنچایا ہے اور وہ کنفیوژن کا شکار ہو کر اپنی سمت سے محروم ہوچکی ہے۔
جنوبی وزیرستان میں تحریک طالبان کے مضبوط ٹھکانوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں اس تحریک کی صلاحیت کافی حد تک متاثر ہوئی ہے۔ تاہم تحریک طالبان کے پاس اب بھی کافی صلاحیت موجود ہے اور وہ اپنے حملوں میں دیگر گروپوں سے اپنے تعلقات کو بھی استعمال کررہی ہے۔ چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان جنگجو عسکریت پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کو منہدم کرکے اسکے مالی ذرائع اورسپلائی لائن کو منقطع کردیا جائے۔ اس کے علاوہ تحریک طالبان کے انٹیلی جنس ذرائع کا خاتمہ بھی نہایت ضروری ہے۔ پاکستانی طالبان کی صفوں میں بھرتی کے سلسلے کو بھی روکنا ہوگا جسے زمینی گنجائش سے محروم ہونے کے بعد کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔تحریک طالبان پاکستان کے بڑے لیڈروں کے ہلاک کردیئے جانے کے باوجود تحریک کی بقیہ لیڈر شپ اب تک فرار ہے۔ ان میں سے اکثر محقہ علاقوں کی جانب منتقل ہوچکے ہیں تاکہ وہاں اپنی محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرسکیں چنانچہ اورک زی، خبیر ایجنسی اور اس سے آگے کے علاقوں کی ناکہ بندی کرکے وہاں سرچ آپریشن شروع کیا جانا اشد ضروری ہے۔ کہاجاتا ہے کہ سوات میں طالبان کا لیڈر مولوی فضل اللہ افغانستان فرار ہوچکا ہے۔ تاہم اس سے ابتک ہونیوالے واقعات کی اہمیت میں کوئی کمی ہر گز واقع نہیں ہوتی۔ آج پاکستان کی مسلح افواج شمالی وزیرستان سمیت، سات کی سات قبائلی ایجنسیوں میں موجود ہیں۔ ان علاقوں میں وہ عسکریت پسندی کے مختلف مظاہر سے نمٹنے میں مصروف ہے۔ گزشتہ اکتوبر میں جنوبی وزیرستان میں سرکشی اور بغاوت کو کچلنے کی غرض سے جو سب سے بڑا فوجی آپریشن کیا گیا تھا اس نے تقریباً اپنا کام مکمل کرلیا ہے۔ محسود علاقے میں فوج کے پانچ بریگیڈ موجود ہیں، اور اس کے مشرقی اور مغربی علاقوں میں، فضائیہ کی قوت کو بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اس آپریشن کے ذریعے تحریک طالبان پاکستان کے مرکز کو کمزور کردیا گیا ہے۔
طالبان اپنے محفوظ ٹھکانے چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ علاقے کا کنٹرول ان سے چھین لیا گیا اور ان کے تربیتی کیمپوں کو مکمل طور سے نیست و نابود کردیا گیا ہے۔ اس طرح آپریشن ”راہ نجات“ کے تین بنیادی مقاصد میں سے دو کو حاصل کرلیا گیا ہے ریاست کی عمل داری قائم ہوچکی ہے اور دہشت گرد عسکریت پسندوں کے جہادی ڈھانچے کو تہس نہس کردیا گیا ہے۔ تاہم بہر نوع، تیسرا مقصد، جس کے تحت، سول اتھارٹیز کو یہ موقع دیتا تھا کہ وہ قبائلی علاقوں کے، بزرگوں سے مل جل کر ایک پائدار اور مستقل سیاسی نظام قائم کرسکیں، ابھی زیر تکمیل ہے۔ بہر کیف یہ موجودہ مرحلے کا ایک اہم ترین چیلنج ہے جس کے دوران قبائلی ملکوں کو اپنے اپنے متعلقہ علاقوں کو واپس آنے اور اپنی اتھارٹی کی تجدید کرتے ہوئے ایک ایسا عملی انتظام قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی جو فوج کی روانگی کے بعد علاقے کا انتظام و انصرام سنبھال سکیں۔ اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کے نتیجے میں کوئی دو لاکھ مقامی باشندے جو محسود علاقوں سے چلے گئے تھے واپس اپنے ان علاقوں کو آسکیں گے۔ تاہم یہ کام آسان اور جلدی کا نہیں ہے۔ اس کو عملی طور پر ممکن بننے کی غرض سے اہم اور نمایاں ترقیاتی سرگرمیاں جاری رکھنا ہوں گی تاکہ ایک ایسی فضا اور ماحول تخلیق کیا جاسکے، جو جنگجو عسکریت پسندوں کی واپسی کے لئے قطعاً ساز گار نہ ہو اور ایسے معاشرتی سماجی اور معاشی حالات پیدا کرنا بھی اشد ضروری ہیں جو سرکشی اور بغاوت کو ہوا نہ دیتے ہوں۔
قبائلی بزرگوں سے ضروری صلاح مشورے کے بعد، مقامی انتظامیہ اور فوج کا یہ مشترکہ منصوبہ صحیح سمت میں ایک قدم ہوگا اسی طرح یہ کوشش بھی کی جاسکتی ہے کہ محسود اور وزیری قبائلی ملکوں کی تائید و حمایت بھی ان علاقوں کی ترقی میں حاصل کی جائے۔ ہر فوجی آپریشن کے خاتمے پر اس کے نتائج کا جائزہ باریک بینی کے ساتھ لیتے ہوئے ایک قابل اعتماد حکومت اتھارٹی کے قیام کو ممکن بنانا ضروری ہوتا ہے۔ اگر اس حوالے سے ہم پیچھے رہ گئے تو ایسی صورت میں تمام فائدے جو فوجی آپریشن سے کہیں پہنچے ہیں نہ صرف اپنا مفہوم کھو بیٹھیں گے بلکہ ہم مقامی آبادی کی تائید و حمایت سے بھی محروم ہوجائیں گے۔
اس ضمن میں سوات کے تجربے کی مثال دی جاسکتی ہے اگرچہ وہاں فوجی ذمے داریوں کی منتقلی کا عمل توقع سے کہیں کم، اور سست رفتاری سے جاری ہے، جس کا سبب بعض محدودات ہیں تاہم تعمیر نو اور بحالیاتی کوششیں بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ عوام کے اعتماد کی بحالی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ وہاں حالات اپنے معمول پر آچکے ہں۔ نقل مکانی کرکے جانے والے سبھی افراد اپنے اپنے گھروں کو لوٹ آئے ہیں اور گزشتہ ماہ وہاں پرامن طور پر صوبائی اسمبلی کا ضمنی انتخاب بھی ہوچکا ہے۔
بہر نوع اس کے باوجود دہشت گردی کے حملے بدستور جاری ہیں۔ گزشتہ سال اس حوالے سے بہت تکلیف دہ تھا کہ سرحدی قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کا رد عمل ملک کے بڑے شہروں میں رو نما ہوا۔ روزانہ ہونے والے بم دھماکوں نے عوام کے صبر کا کڑا امتحان لیا، جو اس میں پورے اترے اور ثابت کردیا کہ وہ بہرصورت اور اس ملک سے دہشت گردوں کا صفایا کرکے ہی دم لیں گے۔2009ء میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات نے 2008ء کے واقعات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا جس کے دوران ایک تخمینے کے مطابق دہشت گردی، بغاوت اور فرقہ وارانہ نوعیت کے دو ہزار پانچ سو چھیاسی واقعات رو نما ہوئے جن میں ستاسی خود کش حملے بھی شامل تھے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2009ء میں ہونے والے ان واقعات میں مجموعی طور سے کل تین ہزار اکیس افراد لقمہ اجل بن گئے۔
تشدد اور دہشت گردی کی وارداتیں، اس سال بھی ہوئی ہیں جو قبائلی سرحدی علاقوں میں امریکی ڈرون طیاروں کے حملوں کا واضح رد عمل ہیں۔ بہرصورت، ”نرم اہداف“ پر دہشت گردوں کے یہ حملے ثابت کرتے ہیں کہ عسکریت پسندوں نے اپنے طور طریقوں میں تبدیلی کرلی ہے جس کا مقصد قومی اتفاق رائے کو حملوں سے ہلا کر رکھ دینا ہے۔ تاہم ان کے اس طرح کے حملوں نے عوام کے اس زم کو مزید پختہ کردیا ہے کہ وہ ہر حال میں دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔
بہرکیف ہمارے سرحدی قبائلی علاقے اب بھی خطرات سے محفوظ نہیں ہیں۔ باجوڑ اور مہمند علاقوں میں فوجی کارروائی کی شدت ظاہر کرتی ہے کہ وہاں سرحد پار سے ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آتی جا رہی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان کا موجودہ عدم استحکام، کس طرح پاکستان کی ان کوششوں کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہا ہے جو وہ سرکشی اور بغاوت کی روک تھام کے لئے کررہا ہے۔ اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ آپ جنگجویانہ عسکریت پسندی کو اس وقت تک شکست سے دو چار نہیں کرسکتے، جب تک آپ کے ہمسایہ ملک میں سیکورٹی کی صورت حال بہتر نہیں ہوجاتی… افغانستان کے جنوبی علاقوں میں امریکی اور نیٹو افواج کا حملہ پاکستان کو بری طرح متاثر کرسکتا ہے۔ جنگوں دہشت گردوں کو افغانستان سے پاکستان میں دھکیلنے کے بعد یہ توقع رکھنا کہ وہاں پاکستانی فوج ان سے نمٹ لے گی نہ صرف پاکستان کی فوجی صلاحیت، پر بوجھ میں اضافہ کرنا ہے بلکہ اس دہشت گردوں کے خلاف اپنی موجودہ کارروائیوں سے بھی منحرف کرنے کی مترادف ہوگا۔
جنگجویانہ عسکریت پسندی کے خلاف موجودہ مہم ایک نازک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو، بھاگنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ وہ اپنے تربیتی مراکز سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ اب وہ دوبارہ مجتمع ہو کر کاررئیاں کرنے سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ اس تمام صورت حال کے باوجود، اور اپنی پے در پے شکستوں کے باوصف…وہ اپنی کارروائیوں سے ہر گز ہر گز باز نہیں آئیں گے۔ ہمارے کمزور نیٹ ورک نے انہیں بہر کیف یہ موقع فراہم کردیا ہے کہ وہ اپنے اہم لیڈروں کی ہلاکت کے باوجود بھی، دوبارہ قوت پیدا کرسکیں اور اپنے اندرونی جھگڑوں اور تصادم پر قابو پاسکیں۔ اب وہ فاٹا سے باہر، اپنے ہمدرد گروپوں کی تائید و حمایت اور تعاوت سے موجودہ حکومت پر دباؤ میں اضافہ کرتے رہیں گے۔ ملک میں انتشار پھیلانے کے اس خطرے سے نمٹنے کے لئے فوجی اقدامات سے زیادہ موثر نفاذ قانون، بہتر پالیسیوں… اچھی انٹیلی جنس اور عوامی تائید و حمایت کی ضرورت پڑے گی۔ جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہمیں اپنی آگ بجھانے والی موجودہ کارروائی کو ایک جامع اور کثیر سطحی سٹریٹجی میں تبدیل کرنا ہوگا۔ جب پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی موجود مرحلے کو ایک عبوری مرحلہ قرار دیتے ہیں تو ان کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ ایک ایسا اپروچ اختیار کیا جائے جس میں ریاست کے سویلین ادارے قائدانہ کردار ادا کرنے کے قابل ہوسکیں۔
بہرنو کلیدی سوال یہ ہے کہ کیا ایسی کوئی تدبیر اختیار کی جاسکتی ہے جس کے تحت ملک کے سویلین ادارے آپس میں مل جل کر جنگجویانہ عسکریت پسند کارروائیوں کو روکنے کی کوشش کریں۔ بہرحال مستقبل میں عسکریت پسندی کے اس نیٹ ورک کے خاتمے کا تمام تر انحصار، اس بات پر ہوگا کہ کیا ہم، اس خطے کے ان تنازعات، اختلافات اور مسائل کو ختم کرسکتے ہیں، جنہوں نے عسکریت پسندی کے اس رجحان کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=413334

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. خطروں میں گزرا برس- ڈاکٹرملیحہ لودھی
  2. پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشتگردی کی اصل وجوہ!۔۔۔۔ ڈاکٹرشیریں مزاری
  3. سیاسی ایجنڈا کون تشکیل دیتا ہے؟ ڈاکٹرملیحہ لودھی
  4. نئے مذاکرات۔ پرانے خوف…ڈاکٹرملیحہ لودھی
  5. کیری لوگر بل اور ہماری حکومت-ڈاکٹرملیحہ لودھی

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha