ہم کیسے عجیب لوگ ہیں جن لوگوں کے وارث اور رشتہ دار بنتے ہیں جبکہ ہمارے اپنے کردار؟؟؟اپنے بڑوں کا تو ذکر ہی کیا کہ ہمارے تو نسبتاً گمنام بزرگ ہی مان نہیں۔غلیظ سیاست اور مردارمعیشت کے رونے تو روز روئے جاتے ہیں آج کچھ ایسے بزرگوں کے ساتھ اپنا موازنہ کرتے ہیں جن سے تعلق جتاتے ہوئے کم از کم مجھے تو شرم آتی ہے۔
یونس بن عبیدچادریں اور اوڑھنیاں وغیرہ فروخت کیا کرتے تھے لیکن جس دن آسمان ابر آلود ہوتا تو کاروبار بند کردیتے۔کسی نے ا س کا سبب دریافت کیا تو فرمایا … گہرے بادل چھائے ہوں تو خریدار کو معیوب شے صاف دکھائی نہیں دیتی“۔
سعید بن جبیر اکثرکہا کرتے تھے…”آدمی بہت سی نیکیاں کرے گا لیکن وہ اس کے اعمال نامے میں موجود نہ ہوں گی تو دریافت کرے گا“اے رب العالمین!میری نیکیاں کہاں ہیں تو حکم ہوگا کہ” تونے اپنی نیکیاں ان لوگوں کے پاس پہنچا دی ہیں جن کی توغیبت کیا کرتا تھا“۔
ابو مطیع بلخی نے ایوب بن خلف کے پاس اپنی اہلیہ کی شکایت کی تو جواباً فرمایا”جو عورت کی تکلیف دہی پر صبر نہیں کرسکتا وہ اس سے افضل ہونے کا کیونکر مدعی ہے“۔
صالح مریبہت سے لوگوں کی موجودگی میں کہا کہ…جو ہمیشہ دروازہ کھٹکھٹاتا رہے تو کسی نہ کسی دن ضرور اس کے لئے دروازہ کھلے گا“۔سامعین میں کچھ خواتین بھی تھیں جن میں سے ایک نے کہا”اے صالح!کیا رب العالمین بھی دروازے بند رکھتے ہیں؟”صالح سوچ میں پڑگئے اور کچھ دیر بعد سر اٹھاتے ہوئے بولے…”افسوس ایک عورت تو سمجھ گئی لیکن اس بوڑھے آدمی کو سمجھ نہ آئی“۔
حضرت وہب کہا کرتے تھے…”کھانا جس میں اسراف نہیں وہ ہے جس سے بھوک ٹھہر جائے اور شکم سیری سے کم ہو اور مومن آواز سے صرف اس وقت ہنستا ہے جب موت سے غافل ہو“۔کسی نے بکر بن عبداللہ کو بہت گالیاں دیں۔ آپ چپ چاپ سنتے رہے تو کسی نے کہا…”تم اسے جواب کیوں نہیں دیتے؟“تو فرمایا…”میں اس شخص کی کوئی برائی نہیں جانتا کہ اس کو برا کہہ سکوں اور بہتان لگانا جائز نہیں“۔
لیث بن سعدکے پاس ایک عورت آئی اور اک چھوٹے سے برتن میں اپنے بیمار شوہر کے لئے تھوڑے سے شہد کا مطالبہ کیا۔آپ نے اسے شہد سے بھرا مشکیزہ پیش کیا، وہ جاچکی تو کسی نے پوچھا کہ وہ عورت تو چھوٹی سی پیالی میں مانگنے آئی تھی۔ فرمایا…”اس نے اپنی ضرورت کے مطابق مانگا جبکہ میں نے اپنی حیثیت کے موافق پیش کیا“۔
محمد بن عباد اکثر یہ واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ان کے والد ایک مرتبہ خلیفہ مامون الرشید کو ملنے گئے جس نے آپ کو ایک لاکھ درہم نذرانہ پیش کیا جو آپ نے ملاقات کے فوراً بعد حاجت مندوں میں تقسیم کردیا۔اس کے بعد پھر جب کبھی مامون الرشید سے ملاقات کی نوبت آئی تو اس نے سارا مال ضرورت مندوں میں بانٹنے پر خفگی کا اظہار کیا اور کہا کہ اپنے لئے کچھ بھی نہ رکھا تو ان کے والد نے خلیفہ سے کہا…”امیر المومنین !موجود کے ساتھ بخل کرنا معبود کے ساتھ بدگمانی ہے کہ اس نے اس بار تو دے دیا، اگلی بار پھر دے نہ دے“۔
حضرت عباس بن دہقان کہتے ہیں کہ بشر بن حارث کے علاوہ کوئی شخص ایسا نہ ہوگا جو جس حال دنیا میں آیا، ایسا ہی دنیا سے گیا ہو ،یعنی خالی ہاتھ، ننگا بدن، اک ایسا شخص جس نے بستر مرگ پر اپنا لباس بھی اتار کر کسی سائل کے حوالے کردیا۔
ایک آدمی سعید بن العاص کے پاس کچھ مانگنے آیا اور ضرورت بیان کی آپ نے اسے پانچ سو…دینے کا حکم دیا۔نوکر نے پوچھا… درہم دوں یا دینار؟ توبولے”میرا تو درہم کا خیال تھا لیکن تجھے بھی شک ہوا ہے اور شاید سائل نے بھی سن لیا ہوگا اس لئے دینار ہی دیدے“
سائل یہ سن کر چیخ اٹھا تو جناب سعید نے پوچھا … ”تو کیوں روتا ہے“؟ تو بولا …اس لئے روتا ہوں کہ تیرے جیسا سخی بھی زمین میں اترے گا اور مٹی اسے کھائے گی“۔
مطرف بن عبداللہ کہا کرتے تھے…”اگر کسی کو میرے متعلق کوئی ضرورت ہو تو لکھ کر مجھے بھیج دے ۔ میں مسلمان کے چہرے پر سوال کی ذلت کو برداشت نہیں کرسکتا“۔
موسیٰ بن طلحہ فرماتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے میرے پاس تین توڑے چاندی کے بھیجے کہ اسے ضرورت مندوں میں تقسیم کردوں۔میں نے اس میں سے کچھ ابوذر بن عقیل کے پاس بھیجے آپ فاقہ میں رہتے تھے لیکن انہوں نے فوراً واپس کردئیے گویا میں نے توڑوں کی بجائے بچھو بھیجے ہوں۔
امیر المومنین نے ابی زر کے پاس غلام کے ہاتھ رقم بھجوائی اور ساتھ ہی غلام کو کہا کہ اگر انہوں نے یہ رقم قبول کرلی تو تو غلامی سے آزاد ہوا۔غلام روپیہ لے کر پہنچا آپ نے انکار کردیا تو غلام نے دست بستہ عرض کیا…”آپ اس مال کو قبول کرلیں تو یہ میری آزادی کا باعث ہوگا ”آبدیدہ ابی زر بے بسی سے بولے…”کیا کروں کہ اگر تیری آزادی ہے تو میری غلامی بھی ہے“۔
قارئین !
ایسے لوگوں کے ساتھ رشتے ،تعلق،نسبت کے دعوے کرتے وقت اپنے اپنے گریبانوں میں بھی جھانک لینا چاہئے اور یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ قومیں اور قبیلے ”کیریکٹر“کے سبب سربلند ہوتے ہیں اور یہ بالکل غلط ہے کہ معاشی غلبہ ہی اصل غلبہ ہے۔مکہ اور مدینہ کی اولین معیشت کیا تھی؟اقتصادی استحکام بھی دراصل ”کیریکٹر“کے پیچھے جاتا ہے یہ علیحدہ بات کہ ہم لوگوں نے ”کیریکٹر“کی تعریف میں بھی ڈنڈی ماری ہوئی ہے۔
مختصراً یہ کہ جب تک کردار تھا…اقوام عالم میں بھی ہمار کردار تھا ،کوئی رول تھا اور جیسے جیسے ہم اس معاملہ میں ”رول بیک“ کرتے گئے ہمارا عروج بھی”رول بیک“ ہوتے ہوتے صفر رہ گیا۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=412975
Related posts:








Recent Comments