یہ نہ کوئی پیشہ ور سٹریٹ فائٹرز تھے نہ اندرون شہر کے رنگ باز نہ جھنگ بازار لائلپور کے ٹکر مار، نہ مارشل آرٹس کے تند خو ماہرین اور نہ ہی یہ مونچھوں کی اونچائی نیچائی کا کوئی مقابلہ تھا کہ ہار جیت یا تھوک کر چاٹنے جیسے طعنے دیئے جائیں۔ دو محترم اداروں کے سربراہ تھے جنہوں نے تدبر، تحمل، تجمل اور توازن کا مظاہرہ کرکے ”یوم ہڑتال“ کو ”یوم تشکر“ میں تبدیل کر دیا۔ عوام کو بدترین ٹینشن اور ملک کو ایک بحران سے نکال لیا سو اسے ”چڑھائی اور پسپائی“…”چارج اور ری ٹریٹ“ کے تناظر میں دیکھنا مناسب نہیں البتہ پیپلز پارٹی کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ بولنے سے پہلے تولنے والے محاورے کو یاد رکھے۔ غلطی تسلیم کرلینا اچھی بات ہے لیکن غلطیوں کو شوقیہ عادت بنا لینا درست نہیں۔ یہ درست ہے کہ صدر مملکت پر اتنے بڑے منصب کا ملبہ اچانک اور ایک حادثہ کے نتیجہ میں آگرا اور وہ کسی طور بھی اس کے لئے ”گیر اپ“ اور تیار نہیں تھے لیکن اب تو دو برس ہوگئے، آپ کو یقین آجانا چاہئے کہ آپ صدرمملکت ہیں صدر پارٹی نہیں اور نہ ہی چیف جیالے۔ جس دن صدر صاحب کو اپنی صدارت کا یقین آگیا، اسی دن سے معاملات سلجھنے اور سنبھلنے لگیں گے بہرحال صدر صاحب، وزیراعظم اور چیف جسٹس صاحب کو مبارکباد کے ساتھ ساتھ یہ منت بھی کہ اب پوری یکسوئی کے ساتھ عوام کے لئے بھی کچھ کریں جو زندہ درگور ہو رہے ہیں، لاوارث ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔
اس موضوع پر آخری بات یہ کہ میں میاں نواز شریف کی اس منطق سے سو فیصد متفق ہوں کہ اس مثبت ڈویلپمنٹ میں ”خوشخبری“ والی کوئی بات نہیں کیونکہ اس طرح کے کاموں میں اس طرح ہوتا رہتا ہے۔ خوشخبری تو یہ ہوگی کہ حکومت مہنگائی کم نہ کرسکے تو کم از کم کنٹرول ہی کرلے اور اسے ٹوٹے ہوئے چھتر کی طرح بڑھنے نہ دے، روپے کی بے قدری رک جائے، فی کس آمدنی میں اضافے کی کوئی صورت نکل آئے، بے روزگاری کو لگام ڈالی جائے، شرح خواندگی میں اضافے کی کوئی سبیل ہو، آبادی میں بے تحاشہ اضافہ میں روک تھام پر غور کیا جائے، معاشی سرگرمیوں میں سرگرمی آئے، غیر ملکی سرمایہ کار ادھر متوجہ ہوں، بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے کہ ابھی تک تو ان میں سے ایک خوشخبری بھی دور دور تک کہیں دکھائی نہیں دیتی اور لاء اینڈ آرڈر کا وہ حال ہے کہ سڑکوں پر عملاً گدا گروں کا راج ہے یا ر اہزنوں کا۔ ملک بھی گھروں کی مانند ہوتے ہیں اور سب سے بدقسمت گھرانے وہ ہوتے ہیں جن کے سربراہ، بزرگ اور بڑے آپس میں ہی دست و گریباں رہیں۔ جس ”گھر“ کے ”والدین“کی آپس میں نہ بنتی ہو، اس کے ”بچوں“ کا مستقبل محفوظ نہیں رہتا اور یہی حال اس ملک کے کروڑوں عوام کا ہے سو اس کے بڑوں اور بزرگوں کو چاہئے کہ اناؤں کا کھیل ترک کرکے اصل ایشوز کی طرف آئیں جن کی طرف ابھی تک کسی کا دھیان تک نہیں۔
معمول کا ماتم کرنے کے بعد اب ایک اصل ایشو کی طرف چلتے ہیں جس کا براہ راست تعلق عوام کی صحت اور زندگی موت کے ساتھ ہے۔ بہت سی ایسی ”مشہور“ دوائیں ہیں جنہیں انسانی صحت کے لئے خطرناک ترین قرار دے کر مہذب دنیا میں بین کیا جا چکا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کی وزارت صحت بھی اس بات کا نوٹس لے چکی ہے یا نہیں؟ ان خطرناک بین شدہ دواؤں میں سے کتنی ہمارے ڈرگ سٹورز پر بک رہی ہیں؟ کتنی بین ہو چکیں؟ اور کتنی بین ہونے کے باوجود دستیاب ہیں؟ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں!
Vicks Actions500کھانسی نزلے وغیرہ کی دوا ہے جو اس لئے بین کی گئی کہ اس کے استعمال سے دل، دماغ سٹروک کی زد میں آجاتے ہیں۔
Navalgin کے برانڈنیم کے ساتھ بکنے والی دوا ایک Pain Killerہے جو اس لئے بین کی گئی کہ یہ ہڈیوں کے گودے میں ڈیپریشن کا باعث بنتی ہے۔
Cisaprideکے جینرک نیم سے بکنے والی دوا قبض اور معدے میں جلن ختم کرنے کے لئے تھی جو اس لئے بین کی گئی ہے کہ یہ دلوں کی دھڑکن کو بے ترتیب کر دیتی ہے۔
Droperidolکے جینرک نیم والی یہ دوا ڈیپریشن میں کمی کے ساتھ ساتھ دل کی دھڑکن کے لئے انتہائی خطرناک ہے ۔
برانڈ نیم Furoxoneاور Lomofenجبکہ جینرک نیم ہے Furazolidone۔ یہ اسہال کنٹرول کرنے کی دوا کینسر کے موذی مرض میں مبتلا کر سکتی ہے۔
پین کلر اور بخار کے لئے استعمال ہونے والی دوا کا برانڈنیم ہے Nimulidاور جینرک نام ہےNimesulideلیکن یہ جگر کو بری طرح متاثر کرکے Liver Failureکا سبب بن سکتی ہے۔
برانڈ نیم Furacin،جینرک نیم Nitrofurazomeیہ دوا ہے تو Anti Bacterial کریم لیکن یہ کم بخت بھی کینسر کو جنم دیتی ہے۔
Agarolکے برانڈ نیم اور Phenol Phthaleinکے جینرک نیم والی قبض کشا یہ دوا بھی اس لئے بین ہوئی کہ کینسر کا موجب بنتی ہے… علیٰ ہذالقیاس ۔
وزارت صحت کو چاہئے کہ ان کا بین یقینی بناتے ہوئے عوام کو بھی اس حوالہ سے انفارم اور ایجوکیٹ کریں۔ ہماری نرگسیت زدہ مہم جو اور نان ایشوز میں الجھی ہوئی حکومتیں اگر اتنا بھی نہ کرسکیں تو پھر کیا انہیں گونگلوؤں میں ڈالنا ہے یا ان کا اچار بنانا ہے۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=411960

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. قوم ،قیادت اور کردار کا بحران-حسن نثار
  2. تازہ ڈیل سے نئے بحران جنم لیں گے!۔۔۔۔ نجم سیٹھی

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha