گزشتہ روز ایک محفل میں بھولے سے ملاقات ہوئی جس کسی نے لاہور نہیں دیکھا اور وہ لاہور آئے بغیر لاہور دیکھناچاہتاہے تو وہ بھولے کو اپنے پاس بلالے، اسے اس شخص میں لاہور چلتا پھرتا نظر آئے گا۔بھولا ایک مجلسی آدمی ہے، بذلہ سنج ہے، کالم نگاروں سے زیادہ تیکھا جملہ بولتا ہے،سیاست پر گہری نظر رکھتا اور اس حوالے سے ایک مخصوص سوچ کا حامل ہے۔لاہوری سیاستدانوں کے ساتھ اس کے گہرے مراسم ہیں ،چنانچہ مسلم لیگ کے تمام دھڑوں اور پی پی پی کے جیالوں کے ساتھ اس کا اٹھنا بیٹھنا ہے۔وہ میاں نواز شریف کے پاس بھی نظر آئے گا اور وہاں سے اٹھ کر چودھری شجاعت حسین کے پاس چلا جائے گا۔ اس کے ایک پاؤں میں تھوڑی سی خرابی ہے، چنانچہ وہ ہلکا سا لنگڑا کے چلتا ہے لیکن اس کے مد مقابل کو یہ حسرت ہی رہتی ہے کہ اس کی گفتگو میں بھی کہیں ”لنگڑاہٹ“آئے تاکہ وہ اسے چت کرسکے لیکن اس کی یہ خواہش اس لئے بھی پوری نہیں ہوتی کہ بھولے نے دلیل کی کمی جگت سے پوری کرلینی ہوتی ہے۔بھولا صرف سیاستدانوں ہی کا لاڈلا نہیں ہے ہمارے ملک کے جید کالم نگاروں کے ساتھ بھی اس کے گہرے مراسم ہیں، چنانچہ اس کی بیشتر شامیں انہی کے ساتھ گزرتی ہیں۔کشمیری ہونے کی وجہ سے وہ سرخ و سفید رنگت کا حامل ہے۔ ویسے میں نے کچھ کشمیری خاصے کالے بھی دیکھے ہیں اس کی وجہ کبھی بھو لے سے پوچھوں گا۔مجھے یقین ہے ،وہ اس کی بھی کوئی ا نوکھی وجہ ہی بتائے گا۔ میں جب بھولے کو دیکھتا ہوں تو مجھے ایک اور کشمیری میاں یوسف صلاح الدین یاد آجاتے ہیں۔دونوں کی ”کلاس“اگرچہ مختلف ہے مگر لاہور ان دونوں میں بولتا ہے۔ یوسف صلاح الدین میرے مرشد علامہ اقبال کے نواسے ہیں اور بھولا ماضی کے عظیم فلم رائٹر ریاض شاہد کا چھوٹا بھائی ہے۔یوسف کی اڑان امریکہ تک ہے جبکہ بھولا لاہور شہر پر نیچی پرواز کرتا رہتا ہے ،تاہم میرے خیال میں لاہور کی مکمل شکل ان دونوں کی یکجائی ہی سے سامنے آتی ہے۔ ان دونوں کو اگر لاہور میوزیم میں رکھ دیا جائے تو ٹورسٹوں سے کافی نوٹ کمائے جاسکتے ہیں تاہم بہتر ہوگا کہ اس تجویز پرعملدرآمد سے پہلے میوزیم میں پہلے سے موجود عجائبات سے بھی پوچھ لیا جائے۔
بھولے سے گزشتہ روز جس ضیافت میں ملاقات ہوئی تو وہاں اتفاق سے یوسف صلاح الدین بھی موجود تھے اور یوں سمجھ لیں اس محفل میں پورا لاہور موجود تھا۔ ضیافت کی نوعیت بھی خاصی لاہوری تھی یعنی یہاں ”راوی کے کھگے“شرکاء کے لئے خصوصی طور پر تیار کروائے گئے تھے اور تیار کروانے والا بھی ایک ٹیپیکل لاہوریا نعیم بٹ تھا جس کی حس مزاح کا تبلیغی جماعت بھی کچھ نہیں بگاڑ سکی، چنانچہ وہ ریش و دستار سمیت اس شگفتہ محفل کا حصہ تھا اس محفل میں سیاستدان بھی موجود تھے لیکن یہاں کھانا بھی تو تھا ،چنانچہ یہاں سیاست کی زیادہ ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔صرف بھولے نے کہا کہ قاف لیگ کو پرے دھکیلنے کی بجائے مسلم لیگ(ن)کو چاہئے کہ اب وہ اس کی ساری خطائیں معاف کرکے اسے گلے لگالے لیکن اس کی حمایت میں کوئی آواز بلند نہیں ہوئی، حالانکہ کسی بڑے سیاسی بحران کے وقت اس رائے پر جزوی طور پر ہی سہی مگر عمل کرنا پڑے گا۔محفل میں لبھا پہلوان بھی موجود تھا یہ لبھا پہلوان مسلم لیگ (ن)کا متوالا ہے۔ اب بوڑھا ہوچکا ہے لہٰذا اکھاڑے کے باہر بیٹھ کر اکھاڑے والوں کو داؤ پیچ بتلاتا رہتا ہے۔ یہی کام ہمارے کچھ کالم نگار اور اینکر پرسن بھی کرتے ہیں۔ ایک بے حد اہم شخصیت نے لبھے پہلوان کو مخاطب کیا اور کہا”پہلوان جی تہانوں جدوں وی ویکھیا ٹھٹھ دیا ہی ویکھیا“(پہلوان جی آپ کو جب بھی دیکھا کشتی کے مقابلوں میں چت ہوتے ہی دیکھا)چنانچہ لبھا پہلوان کے داؤ پیچ سے پہلوانوں اور کالم نگاروں کے مشوروں سے سیاستدانوں کو محتاط ہی رہنا چاہئے۔
کھانے کے بعد لاہوریوں کو”کگھی“چڑھ جاتی ہے، چنانچہ اس کے بعد عقل کی بات کی زیادہ توقع نہیں کرنا چاہئے، چنانچہ میں نے دیکھا کہ بھولا خاموش ہوگیا ہے۔ بس دم رخصت اس نے مجھ سے صرف یہ پوچھا کہ ایک بھولا تو میں ہوں اور ایک بھولا ڈنگر ہے جس کا آپ اپنے کالموں میں ذکر کرتے رہتے ہیں کیا وہ کوئی حقیقی کردار ہے یا آپ کے دماغ کا اختراع ہے؟میں نے اسے بتایا کہ وہ صرف ان معنوں میں حقیقی کردار ہے کہ اس جیسے بہت سے لوگ ہمارے درمیان موجود ہیں جن کی صاف گوئی کو ان کے ڈنگر پن پر محمول کیا جاتا ہے، ورنہ اس نام کا کوئی شخص میرا جاننے والا نہیں۔ میں 1970سے آج 2010تک یعنی چالیس برسوں سے مختلف مواقع پر اپنے اس کردار سے کام لیتا چلا آرہا ہوں پھر میں نے بھولے سے پوچھا کہ آپ یہ بات مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟بھولے نے ہنستے ہوئے کہا”بس ایسے ہی لیکن آئندہ آپ جب بھی بھولے ڈنگر کا ذکر کریں تو احتیاطً یہ وضاحت کردیا کریں آپ کی مہربانی ہوگی“
میں نے گزشتہ دنوں اپنے کالم میں اپنی ایک غزل کے چند اشعار درج کئے تھے، حیدر آباد سے م ش عالم صاحب نے اس غزل کی پیروڈی کی ہے آپ بھی اس سے لطف اندوز ہوں۔
”کوئی چھوٹا یہاں کوئی بڑا ہے“
مگر لنگر کی لائن میں لگا ہے
محبت ہے مجھے ان کاغذوں سے
کہ جن پر قائد اعظم چھپا ہے
”اندھیری رات ہے سب سورہے ہیں“
پر اک الو سا عاشق جاگتا ہے
”زمین تو کھینچتی ہے اپنی جانب“
غبارہ گیس کا کب مانتا ہے
کبھی ہوتی تھیں”شبنم“ کی بہاریں
پر اب”میرا“ کا طوطی بولتا ہے
میں دبلا ہوں یا موٹا ہوں تمہیں کیا
یہ میرا اور غذا کا مسئلہ ہے
”کدھرسے آئے ہو اے لیڈرو تم“
کہ سارا ملک اب دہشت زدہ ہے
ہجوم ایسا ہے چینی پر…کہ جیسے
یہاں داتا کا لنگر بٹ رہا ہے
پرائے روزنوں سے جھانکتے ہو
عطا حق یہ تمہیں کس نے دیا ہے
”عطا صاحب! ذرا یہ تو بتادیں“
ہمیں جمہوریت نے کیا دیا ہے
Related posts:








Recent Comments