سیاسیات اور سیاسی زندگی موجودہ دور کے حساب سے پوری دنیا میں تغیر اور تبدیلی کے عمل سے گزررہی ہے۔ ذرائع ابلاغ کی نشریاتی پہنچ، شہریوں کی جانب سے راست اقدام اور سول سوسائٹی کے زیر استعمال جو میڈیا اور مواصلاتی ٹیکنالوجی ہے اس نے آج کے عہد کی سیاسی سرگرمیوں کی نوعیت کو مکمل طور پر بدل کے رکھ دیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کا روایتی شعبہ بھی ان تبدیلیوں کی زد میں آچکا ہے جو سیاسی کھیل کا تعین کرنے والی واحد قوت تصور کی جاتی رہی ہیں۔ پاکستان بھی اس عالمی رجحان سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ نشریاتی میڈیا کو تیز رفتار ترقی اور ایک متنوع اور طاقتور سول سوسائٹی نے سیاسی منظرنامے کو ڈرامائی طور پر تبدیل کرنے میں ایک اہم اور نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ 80 فیصد سے زیادہ گھرانوں میں ٹیلیویژن دیکھا جاتا ہے۔ ملک میں فی الوقت اس خطے میں سب سے زیادہ موبائل فون موجود ہیں جن کی تعداد سو ملین کے لگ بھگ ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اب یہ سب کچھ بدل رہا ہے کہ لوگ سیاست کے بارے میں سیاسی جماعتوں اورگورننس کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں؟ اطلاعات اور معلومات کے ذرائع کی بڑھتی ہوئی تعداد نہ صرف عام آدمی کو بروقت اطلاع فراہم کردیتی ہے بلکہ ایسے اختیارات بھی تفویض کرتی ہے جن کی مدد سے وہ خود کو طاقتور محسوس کرکے حکومت کی مجموعی کارکردگی کو زیادہ بہتر اور موثر طریقے سے دیکھ سکتا ہے جس نے جمہوری عمل کو تقویت بخشنے میں بھی اپنا اہم کردار ادا کیا ہے تاہم اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتیں ہی وہ واحد ذریعہ نہیں ہیں جن کے توسط سے عوام سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں یا ان مسائل کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہیں جو ان پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس رجحان کا پاکستان میں خصوصیت کے ساتھ اس تناظر میں وقوع پذیر ہونا ہے جہاں سیاسی ادارے کمزوری اور عدم استحکام کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس کمزوری کے اثرات بعض نتائج کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں اور ایسے مخمصوں کو جنم دے رہے ہیں جو صرف پاکستان ہی سے مخصوص ہیں۔ نشریاتی ذرائع ابلاغ نے اب ایک زیادہ اہم کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے اور اس کے اثرورسوخ میں بھی یہاں معتدبہ اضافہ یوں دیکھنے میں آرہا ہے کہ وہ ایک ایسے سیاسی خلا کو پر کرنے میں مصروف ہیں جو کمزور جمہوری اداروں بشمول پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کا اپنا پیدا کردہ ہے۔ عام طور سے میڈیا اور سول سوسائٹی کی مختلف تنظیمیں باہم مل جل کر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے جمہوری اداروں کو استحکام بخشتی ہیں لیکن جب وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے آنکھیں چرانے لگیں تو مستقبل میں ان کے ارتقاء کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہونے لگتے ہیں۔
پاکستان نے حالیہ سالوں میں دیکھا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کا دائرہ اثر کتنی تیزی کے ساتھ پھیلا ہے اور اس نے ایک طاقتور اور موثر نگراں کی حیثیت سے حکومتی اور اپوزیشن کے رویوں کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے کرپشن کو بے نقاب کیا ہے اور معاشرتی خرابیوں اور برائیوں کے علاوہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی اجاگر کیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا نے سیاسی مذاکرات کے دائرے کو وسیع کرکے ایک ایسے کلچر کو فروغ دیا ہے جو بحث و مباحث، تبادلہ خیال اور گفت و شنید کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ اب آپ اپنے ٹیلیویژن اسکرین پر وہ تمام سیاسی بحث و مباحثہ ہوتا دیکھ سکتے ہیں جس کی اصل جگہ پارلیمنٹ ہونا چاہئے۔
ٹیلیویژن نیٹ ورکس نے عوام کے ایک بڑے حصے کو اظہار کے ذرائع مہیا کئے ہیں جو اس عملے کے ذریعے طاقت حاصل کرکے وہ خود اعتمادی حاصل کررہے ہیں جن کی مدد سے وہ مسائل کو زیادہ فعالیت کے ساتھ حل کرسکتے ہیں۔ ٹی وی نیٹ ورکس نے غریب اور نادار طبقے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے نچلے طبقات کو بھی زبان دے دی ہے۔
سول سوسائٹی کی وہ تنظیمیں جو ملک کے متوسط طبقے کی نمائندگی کرتی ہیں اپنے نظریات اور مفادات کو زیادہ بہتر طریقے سے پیش کررہی ہیں جو سیاسی جماعتوں کے فریم ورک سے باہر کی چیز ہے اور شہری نیز سیاسی مصروفیات کے مختلف راستوں کی نشاندہی کررہی ہیں۔ اس کی بہترین مثال 2008ء اور 2009ء کی وہ وکلاء تحریک ہے جو چیف جسٹس آف پاکستان کی بحالی کیلئے چلائی گئی تھی اور جس نے گزشتہ برس اپنا یہ مقصد کامیابی کے ساتھ حاصل بھی کرلیا۔ وکلاء تحریک اور وکلاء برادری کی یہ تنظیمیں مختلف مسائل کے بارے میں نہایت فعال ہو کر کام کررہی ہیں جن میں امور حکومت بھی شامل ہیں۔ وہ یہ سب کچھ میڈیا ہی کے ذریعے کرتی ہیں یا پھر ایسی تحریک چلاتی ہیں جنہیں ملک کے عوام کی بھرپور تائیدوحمایت حاصل ہو۔ نئے نئے شہری اور پیشہ ورانہ فورم قائم ہورہے ہیں جو عوامی بحث و مباحثے کی اطلاعات کی فراہمی کے ذریعے متاثر کرنے میں مصروف ہیں۔ مثال کے طور پر سابق سول سرونٹس کی تنظیم نے پبلک پالیسیوں کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے تاکہ وسیع تبادلہ خیال کی صورت گری ممکن ہوسکے۔
اس تمام تر صورتحال نے سیاسی کھیل کو تبدیل کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور تکثیریت کی رفتار کو تیز کردیا ہے۔ اب تو سیاسی ایجنڈا بھی میڈیا تشکیل دینے لگا ہے جبکہ بعض اوقات یہ کام سول سوسائٹی بعض دیگر تنظیمیں بھی انجام دیتی ہیں۔ ملک کی سیاسی جماعتیں نہ صرف میڈیا اور سول سوسائٹی کی ان کوششوں کا مثبت جواب دیتی ہیں بلکہ اس سے ان کی یہ کمزوری بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ ازخود کسی پالیسی بحث مباحثے کا آغاز کرنے کی اہلیت سے محروم ہوچکی ہیں۔ اس کی متعدد مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ رینٹل پاور پروجیکٹس ہوں یا بجلی کا بحران… نقل مکانی کرنے والوں کی بحالی کا مسئلہ ہو یا پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون طیاروں کے حملے یا اسٹیٹ انٹرپرائز کی بدنظمی کا معاملہ ہو، میڈیا کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ نے سیاسی پارٹیوں کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں مخصوص پوزیشن اختیار کرنے اور پارلیمنٹ میں اپنی آواز اٹھانے کے قابل بنادیا ہے۔
الیکٹرانک میڈیا نے مسائل کی نشاندہی، خیالات کی تبدیلی (حدود آرڈیننس کی تنسیخ) اور عوامی جذبات و احساسات کا رخ موڑنے میں اہم ترین قائدانہ کردار ادا کیا ہے جس کی ایک مثال وہ بھرپور عوامی تائید و حمایت ہے جس کی مدد سے ہماری بہادر مسلح افواج نے جنگجو عسکریت پسندوں کا خاتمہ کردیا۔یہاں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ میڈیا کی قیادت میں سول سوسائٹی کے بطن سے ایک ایسی موثر اپوزیشن نے جنم لیا ہے جس کا دائرہ کار یہ ہے کہ حکومت سے جوابدہی طلب کرے اور انتظامیہ کے اقدامات کو گہری نظروں نے جائزہ لیتے ہوئے متبادل پالیسیوں کی سفارش کرے۔ پاکستان کے سرحدی قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی اور انتہاپرستی کے خلاف جنگ کے حوالے سے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے میں بھی میڈیا نے سبقت حاصل کی تھی جس کے بعد سیاسی جماعتوں نے بھی اس کی تقلید شروع کردی۔ چیف جسٹس کی بحالی کے معاملے میں بھی سول سوسائٹی نے جو موقف اختیار کیا اس کی بھرپور حمایت بھی میڈیا ہی کی جانب سے کی گئی تھی جس کے نتیجے میں سیاسی جماعتیں بھی اس موقف کو اختیار کرنے پر مجبور ہوگئیں۔
بہرصورت میڈیا اور نئی وجود میں آنے والی سول سوسائٹی کی تنظیموں کے کردار کی بھی آخر کوئی نہ کوئی حد ضرور ہے۔ یہ سیاسی جماعتوں کا کام ہے کہ وہ اقتدار میں آکر اس ایجنڈے کو نافذ کرکے عملی شکل میں صرف سول سوسائٹی کی فعالیت ہی ملک کو ایک اچھی گورننس سے متعارف کرانے کیلئے کافی نہیں ہوتی۔ بسا اوقات نان ایشو گروپ عوامی دباؤ میں اضافے کا سبب بن جاتے ہیں تاکہ سیاسی جماعتوں سے اپنے مقاصد اور مفادات کی تکمیل کیلئے حمایت حاصل کرسکیں۔ کسی ایک مقصد کو حاصل کرنے کی غرض سے اتحاد تشکیل دیئے جاتے ہیں جس کی ایک مثال یہ ہے کہ جج صاحبان کی بحالی کیلئے سب اکٹھے ہوگئے لیکن جونہی یہ مقصد حاصل ہوگیا سب نے اپنی اپنی راہ لے لی۔ بہرنوع سیاسی سرگرمیوں کی ان نئی شکلوں سے جمہوریت کو جو فائدے حاصل ہوئے ہیں۔
ان سے قطع نظر سیاسی جماعتوں کا اپنا ایک بنیادی کردار ہے جو اقتدار میں آنے کیلئے انتخابات میں حصہ لیتی ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں کو اہم کردار ادا کرنا ہوتا ہے کیونکہ وہ واحد ذریعہ جن کے توسط سے حکومتی ڈھانچے کی تعمیروتشکیل ممکن ہوسکتی ہے۔
تاہم پاکستان میں، سیاسی جماعتوں نے اس تبدیلی کو قبول کرنے میں سستی کا مظاہرہ کیا ہے جو مواصلاتی انقلاب اور گزشتہ عشروں کے معاشرتی اور معاشی ترقی کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔ اس سست روی نے ان کی اہلیت اور صلاحیت کو کافی متاثر کیا ہے۔ سیاسی جماعتیں خواہ وہ برسراقتدار ہوں یا اپوزیشن میں وہیں ایک روایتی خول میں بند ہو کر رہ گئی ہیں۔ وہ پالیسیوں، سرپرستی کو فوقیت اور اولیت دینے کی عادی ہوچکی ہیں۔ مسائل کی جانب بھی ان کی توجہ بے حد کم ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ سیاسی اظہار کے نت نئے اور جدید ترین طریقوں کو اپنائیں وہ اپنی ساری توجہ سرپرستی کے نیٹ ورک پر مبذول کئے ہوئے ہیں۔ وہ اب تک اپنی روایتی حلقہ بندیوں اور حلقہ ہائے انتخاب کے سحر میں بری طرح جکڑی ہوئی ہیں اور انہیں یہ علم ہی نہیں ہے کہ عوام کی ضروریات، مطالبات اور تقاضے ہیں کیا؟ آج ہمارے ملک میں متوسط طبقے کی شرح مجموعی آبادی کا 30 فیصد ہے لیکن کیا آپ کسی ایسی قومی جماعت کی نشاندہی کرسکتے ہیں جو اس متوسط طبقے کے حلقہ انتخاب کی نمائندگی کرتی ہو؟ اگر متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے عوام بھی انتخابی عمل میں شرکت نہیں کرتے تو یہ جمہوریت کا بہت بڑا نقصان ہوگا۔
آج پاکستان کو جن غیرمعمولی چیلنجز کا سامنا ہے ان کے نتیجے میں ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ ان مسائل کے حل کی جانب بھرپور سنجیدگی کے ساتھ توجہ دیں جن کا تعلق اس ملک کے مستقبل سے ہے لیکن ہمارا سوال اپنی جگہ بدستور قائم اور موجود ہے کہ کیا وہ اس اہم کام کیلئے پوری طرح تیار ہیں؟ سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ نمائندگی کے بحران سے بچنے کی غرض سے عوام کی آواز سنیں۔ ان کے مسائل کے حل کی جانب بھرپور توجہ دیں۔ ان کی بدلتی ہوئی ضروریات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ انہیں اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ مستحکم پالیسیاں جو ایک عام آدمی کے مسائل کو حل کرسکتی ہوں اور تمام شہریوں کیلئے فیض رسانی کا سبب بن سکیں سیاسی کامیابی کی اولین ضمانت ہیں۔
جب تک پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو موجودہ چیلنجز کی اہمیت اور ان سے نمٹنے کی تدابیر کا علم نہیں ہوگا اس وقت تک پاکستانی جمہوریت گورننس کے اس معیار تک ہرگز نہیں پہنچ پائے گی جو اس ملک کے عوام کا ایک بنیادی حق ہے۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=411645

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha