سیانے کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے کہ دیگ کے دو تین چاولوں سے پتہ چل جاتا ہے کہ چاول تیار ہوئے ہیں یا نہیں۔ مانسہرہ اور سوات کے ضمنی عام انتخابات سے قومی سطح پر بالغ ووٹروں کی سیاسی ترجیحات کا پتہ چل جاتا ہے اور ان انتخابات کے نتائج بتاتے ہیں کہ بالغ ووٹروں نے گزشتہ پونے دوسالوں کے تجربات کی روشنی میں مسلم لیگ نون گروپ سے زیادہ ووٹ مسلم لیگ قائداعظم کو دیئے ہیں۔
عین ممکن ہے کہ مانسہرہ اور سوات کے ضمنی عام انتخابات کے نتائج کی خبر لندن بھی پہنچ گئی ہو اور پنجاب کی مسلم لیگ قائداعظم کے لیڈر نے نئے حوصلوں کے ساتھ لب و لہجے میں مثبت تبدیلی لانی شروع کر دی ہے۔ مسلم لیگ ق کے مرکزی لیڈر اور پنجاب کے سابق وزیراعظم چودھری پرویز الٰہی نے مانسہرہ اور سوات کے سیاسی رجحانات کو دیکھتے ہوئے اور راولپنڈی کی شیخ رشید کی نشست کو پیشگی طور پر جیت جانے کے یقین کو ظاہر کر دیا ہے اور لندن میں سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے قومی سیاست میں واپس آنے کا خواب دیکھنے ہی نہیں ان خوابوں کی تعبیر دیکھنی بھی شروع کر دی ہے۔
لندن سے ’اے ایف پی“ نے خبر دی ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے اشارہ کیا ہے وہ اپنے ملک کی سیاست میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کے مطابق وہ پاکستان کی سیاست میں حصہ لینے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہونگے۔ ”پورے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی یہ خواہش پوری کرنے کے لئے پاکستان میں پانچواں مارشل لاء نافذ نہیں کرسکتے کیوں وہ مارشل لاء نافذ کرنے والی فوجی وردی اتار چکے ہیں اور ظہیر کاشمیری مرحوم نے فرمایا تھا ق ”لیگ“ بھی جانتی ہے کہ:
خوشبو گئی تو پھول فقط رنگ رہ گیا
لیکن دکھائی دیتا ہے کہ پیچھے رنگ بھی نہیں رہ گیا صرف ماضی کی باتیں اور یادیں رہ گئی ہیں اور شاید ان کے لئے ان کی بنائی ہوئی مسلم لیگ قائداعظم میں بھی ان کی کوئی جگہ نہیں رہ گئی جس سیاسی جماعت کو انہوں نے اپنی کنگ پارٹی کے طور پر تیار فرمایا تھا اس میں ”کنگ“ کی گنجائش بطور ”پیادہ“ بھی نہیں رہ گئی۔
اے ایف پی کا کہنا ہے کہ سابق جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ”وہ اپنے ملک کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں“۔ گزشتہ صدر کے آخر ی دنوں میں وہ اپنی اس خواہش اور اپنے اس جذبے کا بھرپور مظاہرہ ملک کی جمہوری تاریخ میں سب سے بڑا (قائداعظم سے بھی بڑا) مینڈیٹ لینے والے حکمران کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہونے کا ثبوت دینے کے لئے اقدار میں آئے اور جب تک کچھ کرنے کی خواہش موجود رہی انہوں نے اقتدار پر قبضہ جاری رکھا اور نو سالوں تک جاری رکھا۔
برطانیہ کی ایک ”تھنک ٹینک“ سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ اب وہ فوجی جرنیل نہیں رہے اس لئے ملک کے اقتدار پر قبضہ نہیں کرسکیں گے لوگوں سے رابطہ قائم کرنے اور عوام کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور جمہوری ملک کی جمہوری انداز میں خدمت کریں گے۔ ان کالموں میں درجنوں مرتبہ لکھا جا چکا ہے کہ ہماری افواج کے مختلف شعبے اپنے اپنے فرائض خوبی سے انجام دے سکتے ہیں مگر کسی دوسرے شعبے کے معاملات میں دخل در مقولات نہیں کرسکتے، میڈیکل کور سے تعلق رکھنے والے ایجوکیشن کور میں خدمات منصبی ادا نہیں کرسکتے،توپ خانے والے ایم ایس سی میں کام نہیں کرسکتے، سگنل والے آرٹلری کے شعبے کے فرائض سرانجام نہیں دے سکتے، بحری فوج کے لوگ ایئرفورس میں بری فوج کے لوگ بحری اور ہوائی فوج کے فرائض سر انجام دینے سے گریز کریں گے مگر افواج پاکستان کے طالع آزما جرنیل اس خوش فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ وہ سب مل کر ملک کی معیشت، تجارت،زراعت، کمیونی کیشن، امور خارجہ، امور داخلہ، بیرونی تجارت، تعلیم، صحت اور سیاحت کے تمام معاملات کو بخوبی چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کا یہ مفروضہ ہر بار ناکام ثابت ہوا ہے۔ چاروں مرتبہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔
ایک مانیٹرنگ ڈیسک کے سامنے سابق صدر مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں میرا کردار عوام کی خواہشوں کے عین مطابق ہوگا۔ اپنے ملک سے پیار کرتا ہوں اس کے لئے کچھ بھی کرسکتا ہوں۔ اس بار عوامی طاقت اور جمہوری طریقوں سے عوامی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ طالبان کے ساتھ میری سیاسی سمجھوتوں کی پالیسی درست تھی۔ اتحادی ممالک بھی وہی پالیسی اپنانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
امریکی ٹی وی نیٹ ورکس سی این این نے ”فیس بک“ پر پاکستان کے ساتھ سابق صدر پرویز مشرف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے بعد انہیں کنیکٹر آف ڈے قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سابق صدر ”فیس بک“ کے مقبول ترین سٹار میں شامل کئے گئے ہیں ان کے ذاتی صفحے پر ان کے ایک لاکھ تیس ہزار کے قریب چاہنے والے موجود ہیں۔ گویا ”جنگ“ اور ”ٹائمز آف انڈیا“ کی ”امن کی آشا“ کے پہلو میں مسلم لیگ ق اور سی این این کی ”خواہشوں کا تماشا“ بھی چل رہا ہے۔
مانسہرہ، سوات کے ضمنی انتخابات کے حوصلہ افزاء نتائج اور شیخ رشید کی متوقع جیت سے حوصلہ، ہمت اور یقین پانے والے پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کے مرکزی رہنما اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے ایوان صدر، ایوان عدل اور ایوان حزب اختلاف کو جو مشورہ دیا ہے اس سے کوئی بھی ذی شعور پاکستانی انکار نہیں کرسکتا۔ چودھری پرویز الٰہی فرماتے ہیں کہ اتحادی حکمران آپس میں لڑنے کا ڈرامہ نہ کریں بلکہ دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت، کرپشن اور بدامنی جیسے مسائل حل کرنے پر توجہ دیں جن کی وجہ سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادران کی ڈبل (دوہری) پالیسی بے نقاب اور گوڈ گورننس کی تہمت ایکسپوز ہوچکی ہے جس کا ثبوت انہیں مانسہرہ اور سوات کے انتخابات کے نتائج کی صورت میں ملا ہے اور انشاء اللہ راولپنڈی میں شیخ رشید کی نشست سے بھی ملے گا۔
سیاسی مبصرین کا اندازہ ہے کہ ایوان صدر اور ایوان عدل کے درمیان نام نہاد سیاسی تناؤ سے اگر کوئی طاقت فائدہ اٹھا سکتی ہے تو وہ ملک کی تیسری سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ قائداعظم ہے جس کی مرکزی قیادت اور مرکزی عاملہ اپنے تازہ اجلاس میں چودھری شجاعت حسین کی زیر صدارت ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کو پیشکش کر سکتی ہے کہ اگر وہ اپنے ملک کے عوام کے اصل بنیادی مسائل حل کرنے کے مفاد میں ”چارٹر آف ڈیمو کریسی“ پر عمل درآمد کے لئے پارلیمینٹ کے دو تہائی ارکان کا تعاون چاہتے ہیں تو وہ ان کو اپنا سیاسی انتخابی تعاون پیش کرنے کو تیار ہیں مگر اس ”چارٹر“ پر عملدرآمد اس ملک کے غریب عوام کے حق میں ہونا چاہئے۔ اس ملک کے عوام اس ملک کی سب سے بڑی دولت ہیں اور سب سے بڑے ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری کے ذریعے سترھویں آئینی ترمیم سے نجات پانے کے بعد تمام پالیسیوں کارخ ملک کے غریب عوام کے مسائل حل کرنے کی طرف ہونا چاہئے۔
Recent Comments