حسن نثار
یہ وہ لوگ ہیں جن کا ذکرکرنے کے بعد قلم کو تیزاب سے غسل دینا چاہئے ۔ ملک بدترین مہنگائی اور خوفناک ترین بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے اور یہ ایک دوسرے کے پتلے جلا کر جلتی پر تیل ڈالتے ہوئے بھول رہے ہیں کہ آگ در آگ کا یہ کھیل کیا کچھ جلا کر راکھ کرسکتا ہے۔کیا منیر نیازی مرحوم کی خواہش تکمیل پانے کو ہے۔
اس شہر سنگ دل کو جلا دینا چاہئے
پھر اس کی راکھ کو بھی اڑادینا چاہئے
ملتی نہیں امان ہمیں جس زمین پر
اک حشر اس زمیں پہ ا ٹھا دینا چاہئے
کل تک مشرف کے پتلے جلانے والو!مبارک ہو
جمہوریت آگئی
باقی سب کچھ جاتا رہا
نہ روٹی ،نہ بجلی نہ پانی ،نہ امن امان اور نہ دور دور تک ان میں سے کسی شے کا امکان اور گڈ گورننس بھی سستی روٹی کے تندوروں میں جھلسی بیٹھی ہے اور اگر کسی کو سستی روٹی مل بھی جائے تو وہ اسے آئینہ بنا کر سامنے سجا کر خود سے پوچھتا ہے۔……”مہنگا سالن کہاں سے لاؤں؟“دوسری طرف بینظیر انکم سپورٹ جیسے ڈھونگ ڈرامے ایک دوسرے کو پھول بھیجنے اور عوام کی بجھی ہوئی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا ناپا ک اور دیرینہ دھندا عروج پر ہے اور عوام … یہ عوام جن کی یادداشت کمزور لیکن قوت برداشت بہت مضبوط ، یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اس ملک کے حکمرانوں کو آزاد عدلیہ ہضم کیوں نہیں ہوتی۔ کھربوں ڈالر ہضم کرجانے والے آہنی معدوں پر آزاد عدلیہ اتنی گراں کیوں گزرتی ہے کہ گزشتہ سے پیوستہ”جمہوری حکومت“ نے باقاعدہ سپریم کورٹ پر چڑھائی کردی تھی۔ اس کے بعد والی غیر جمہوری باوردی حکومت نے عدلیہ کو باقاعدہ یرغمال بنایا اور پھر جو اک ”جمہوری حکومت“آئی اس کی پرفارمنس تاحال تابڑ توڑ جاری ہے۔
واقعی جمہوریت بہترین انتقام ہے
عوام سے انتقام
ایسے لوگوں کے رحم و کرم پر تو پتنگ نہیں چھوڑی جاسکتی لیکن لوگوں نے پورا پاکستان ان کے حوالے کردیا تو پھر اللہ کے حوالے۔ سوچ کی سفاکی اور بے ستری پر غور فرمائیے کہ فرمایا…سوئس اکاؤنٹس کے ساتھ ساتھ لندن کے مہنگے ترین فلیٹس کی بات بھی ہوگی”یعنی اگر تم ہمارے معاملہ میں مٹھ نہیں رکھو گے تو ہم تمہارے حوالے سے مٹھی کھول دینگے، تم ہمیں بے نقاب کروگے تو ہمیں بھی تمہیں بے حجاب کرنا ہوگا، ورنہ وہ جو پنجابی محاورہ ہے…”ونڈ کھاؤ تے کھنڈ کھاؤ“
خدا جانے انہوں نے اتنا پیسہ کرنا کیا ہے۔ مزہ توتب ہے کہ پلاٹینم کا انڈہ کھاؤ جس میں بائیس کیرٹ سونے کی زردی ہو اور پراٹھے یا سلائس پر ہیرے جڑے ہوں اور مرنے کے بعد مریخ پر دفن ہونا ہو اور وہ بھی ایسے کفن میں جو کرنوں سے تیار کیا گیا ہو، ایسا کچھ ممکن نہیں تو دوچار ارب بہت سے بھی بہت زیادہ ہے۔(خصوصی رعایت دے رہاں ہوں)لیکن نہیں کیونکہ پیٹ تو بھرجاتے ہیں گندی اندھی نیت کبھی نہیں بھرتی۔
نوحہ لمبا ہوگیا اسے روک کر نیلم احمد بشیر کی پنجابی نظم پڑھتے ہیں جسے احمد بشیر مرحوم جیسے جنگجو کہ یہ بیٹی”نواں ترانہ“کہتی ہے۔
”پاکستانی حکمرانو سیاستدانو
رہنماؤ ،رہزنو، نامہربانو
دیس دے ٹوٹے ٹوٹے کرکے
قوم دے تکے بوٹے کرکے
آکڑ آکڑ پھروتسی
اپنے جثے موٹے کرکے
لڈی بھنگڑے پاندے جاؤ
واری واری آندے جاؤ…کھاندے جاؤ کھاندے جاؤ
کنا اج ہنیرا اے
روشن تہاڈا ڈیرہ اے
لوکی پھاہے لگے نیں
تہاڈا باہر دا پھیرا اے
محل تے محل بناندے جاؤ …واری واری آندے جاؤ کھاندے جاؤ
بجلی ہے نہ پانی ہے
بنادوا دے نانی ہے
کرن ترقی دوجے دیس
ساڈی ہور کہانی ہے
ساہنوں تھک لگاندے جاؤ، واری واری آندے جاؤ کھاندے جاؤ کھاندے جاؤ
وچ اسمبلی رشتے دار
پھپھی ،چاچا، پتر، یار
لوکاں دے سرعیش کرو
بنکوں کولوں لوؤ ادھار“
سکھ دی بین بجاندے جاؤ واری واری آندے جاؤ، کھاندے جاؤ
کھا کھا تسی رج دے نئیں
ڈھڈوی تہاڈے پھٹ دے نئیں
لٹ مار ہے شغل تہاڈا
ووٹ فیروی گھٹ دے نئیں
لماں مال بناندے جاؤ
بنک نو ں ہسدے گاندے جاؤ
گند وی رج کے پاندے جاؤ
واری واری آندے جاؤ
کھاندے جاؤ تے کھاندے جاؤ
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=411397
No related posts.








Recent Comments