واشنگٹن (جنگ نیوز/خبر ایجنسیاں) امریکی نائب صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ پاکستان کی صورتحال ان کیلئے افغانستان اور عراق سے زیادہ تشویشناک ہے انھوں نے امریکہ پر 9/11 جیسے حملوں کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ القاعدہ چھوٹے مگر تباہ کن حملے کی منصوبہ بندی کررہی ہے عراق سے موسم گرما کے آخر تک امریکی فوج کی واپسی ہو جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے امریکی ٹی وی سی این این کو انٹرویو میں کیا ۔امریکی نائب صدر نے کہا کہ پاکستان ایک بڑا ملک ہے اور پاکستان میں ایٹمی ہتھیار اور شدت پسندی ان کیلئے تشویش کا باعث ہے جبکہ پاکستان میں فی الحال جمہوریت بھی مکمل اور فعال نہیں ہے جس طرح ہم سمجھتے ہیں پاکستان میں ایک بااثر طبقہ انقلابی خیالات رکھتا ہے۔ لہٰذا ان کے نزدیک پاکستان کی صورتحال افغانستان اور عراق سے زیادہ تشویشناک ہے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ امریکہ پر 9/11 جیسے حملوں کا امکان نہیں ہے ان کا یہ بیان امریکی انٹیلی جنس سربراہ کے بیان کے برعکس سامنے آیا ہے جنہوں نے کانگریس کمیٹی کے سامنے کہا تھا کہ آئندہ مہینوں میں القاعدہ کی جانب سے نئے حملے ہوسکتے ہیں جوبائیڈن نے کہا کہ ان کے نزدیک 9/11 جیسے حملوں کا کوئی امکان نہیں ہے تاہم القاعدہ مختلف ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کی وجہ سے اب چھوٹے اور تباہ کن حملے کررہی ہے وہ کرسمس کے موقع پر امریکی طیارے کو بم سے اڑانے کی ناکام کوشش کا حوالہ دے رہے تھے ایران کے حوالے سے امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ایٹمی منصوبے پر تشویش برقرار ہے ایران اگر ایٹمی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے تو سعودی عرب ، مصر اور ترکی بھی ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کیلئے کوششیں تیز کریں گے جو تشویشناک ہوسکتا ہے اور خطہ میں عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے عراق کے حوالے سے اچھی توقعات کا اظہار کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ وہاں صورتحال بہتر ہورہی ہے اور یہ آخر میں موجودہ انتظامیہ کی بڑی کامیابی ہوگی موسم گرما کے اختتام تک 90ہزار امریکی فوجی عراق سے وطن واپس آجائیں گے اور وہاں ایک مستحکم حکومت سامنے آئے گی جو بائیڈن نے کہا کہ انھوں نے گزشتہ دو سے تین ماہ میں عراق کے 17 دورے کئے ہیں اور وہاں کی صورتحال سے متاثر ہیں۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=410227

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha