حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے پارلیمانی اجلاس کے ساتھ کچھ دلچسپ حقائق سامنے لائے گئے ہیں جن کے مطابق پارلیمان کے ایک سو پندرہ ارکان قومی اسمبلی میں سے صرف 46 فیصد نے ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے کے لئے اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کی زحمت برداشت کی جبکہ 223 ارکان قومی اسمبلی دیگر ضروری کاموں میں مصروف ہونے کی وجہ سے اپنے اصل فرائض پر توجہ دینے کے لئے وقت نہ نکال سکے لیکن انہوں نے اپنے اصل فرائض کی ادائیگی کا سرکاری معاوضہ اور دیگر مراعات کی وصولی سے انکار نہیں کیا۔ بلاشبہ ہم پاکستانیوں کے پاس جو چیز بہت ہی وافر مقدار میں موجود ہے اور بے دریغ خرچ کی جا سکتی ہے بلکہ لٹائی جا سکتی ہے وہ وقت ہے جو ساری دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی سمجھا جاتا ہے لیکن اپنے ملک اور معاشرے میں اس کی کوئی قدر ہے چنانچہ وقت ضائع اور برباد کرنے کے مشغلے میں ہمہ وقت مصروف ہمارے منتخب نمائندوں نے آج تک ایوان پارلیمان کا کوئی ایک اجلاس بھی وقت پر شروع ہونے اور وقت پر ختم ہونے نہیں دیا۔ پارلیمان کا ہر اجلاس اوسطاً 28 منٹوں کی تاخیر سے شروع ہوا جبکہ پارلیمان کے پندرہ اجلاس میں مجموعی طور پر پچاس گھنٹے اور ایک منٹ کا عرصہ خرچ ہوا اور یوں اوسطاً فی اجلاس تین گھنٹے بیس منٹ خرچ ہوئے۔ پارلیمنٹ کا سب سے زیادہ وقت ”پوائنٹ آف آرڈر“ کے بہانے ہونے والی بحث میں خرچ ہوا۔ اس دوران 175 ایسے پوائنٹس زیر بحث لائے گئے اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پارلیمان نے بعض سنجیدہ معاملات کو بھی زیر بحث لانے کی ضرورت پر توجہ دی۔ اس دوران دس بلوں کی منظوری دی گئی لیکن یہ پارلیمانی ایجنڈے کا صرف 42 فیصد حصہ مکمل کرنے والی کارروائی تھی۔
پارلیمانی کارکردگی میں سب سے زیادہ نمایاں کردار وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا رہا جو سب سے زیادہ اجلاس میں شریک ہوئے اور ایوان کو سب سے زیادہ وقت دیا اور تقریباً ہر سیشن میں موجود رہے ان کے بعد ایوان میں سب سے زیادہ مصروفیت دکھانے والی قومی اسمبلی کی خواتین ارکان ہیں جو اگر تناسب میں 30 یا 33 فیصد ہیں مگر سب سے زیادہ حاضری کا مظاہرہ کرنے والی ثابت ہوئیں۔ ایوان میں جو 18 نجی بل پیش کئے گئے ان میں سے بارہ اسمبلی کی خواتین ارکان نے پیش کئے تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ہمارے بالغ ووٹرز اپنے ملک کی زنانہ آبادی، محنت کش طبقے اور اپنے آزمائے ہوئے لوگوں کو ان کے اصل میرٹ کے مطابق انتخابی ایوانوں میں لے آئیں تو ملک اور قوم کی قسمت بدلنے کی امید کی جا سکتی ہے۔
ملک کے ایک بڑے انتخابی ادارے کی کارگزاری کے پہلو میں وطن عزیز کی سیاست اور بیورو کریسی کے اعمال کی ایک ”دلچسپ“ جھلک بھی پیش کی جا سکتی ہے۔ ”بینظیر ٹریکٹر سکیم“ موجودہ حکومت کی ایک اچھی، عوام دوست، زراعت کی مدد گار اور غریب پرور سکیم ہے جس کے تحت ”کمپیوٹرائز دیانت داری“ کے مطابق پنجاب میں پانچ ہزار، سندھ میں دو ہزار، صوبہ سرحد میں بارہ سو اور بلوچستان میں 850 ٹریکٹرز بانٹے جائیں گے۔ فیصلہ یہ کیا گیا کہ 25 ایکڑ یا اس سے کم زمین رکھنے والے کاشت کاروں کو یہ ٹریکٹرز دیئے جائیں گے۔
ستمبر 2009ء کی وسط تک اس سلسلے میں تین لاکھ چالیس ہزار درخواستیں وصول کی گئیں جن میں سے دو لاکھ 77 ہزار ایک سو چھ درخواست گزاروں کو منتخب کیا گیا اور مستحق سمجھا گیا مگر جب ”کمپیوٹرائز بیلٹنگ کے نتائج سامنے آئے تو اس میں کچھ بہت ہی زیادہ مشکوک حالات و واقعات کی نشاندہی ہونے لگی کیونکہ ٹریکٹرز حاصل کرنے کے اہل کچھ ایسے بڑے زمیندار بھی پائے گئے جو سینکڑوں اور ہزاروں ایکڑ کے مالک تھے۔ غفلت، غیر ذمہ دذاری یا دھاندلی کی ایک مثال یہ پیش کی گئی کہ ضلع لیہ کے ایک واحد کاشتکار گھرانے کے 48 ارکان کو دو کروڑ نوے لاکھ روپے کی مالیت کے 63 ٹریکٹرز دے دیئے گئے۔ سب سے زیادہ پریشان کرنے والی بلکہ مضحکہ خیز حقیقت یہ بیان کی جاتی ہے کہ تقریباً تین کروڑ روپے کے 63 ٹریکٹرز حاصل کرنے والے یہ 48 ارکان قومی اسمبلی کے رکن بہادر احمد خاں سحر کے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ شاعر نے شائد کسی ایسے ہی موقع پر کہا ہو گا کہ
ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
کانپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں
Recent Comments