اصل موضوع خاصا عجیب ہے اور اس پر مضبوط گرفت کیلئے ضروری ہے کہ پوری طرح وارم اپ ہونے کیلئے پہلے کسی انتہائی عوامی موضوع پر قلم اٹھایا جائے تو بھلا بجلی کی اووربلنگ سے زیادہ عوامی موضوع کون سا ہو گا؟چند روز قبل میں ”جیو “ کے کسی پروگرام میں اووربلنگ پر تبصرہ سن رہا تھا کہ اپنے زخم ہرے ہو گئے۔ میں گزشتہ کئی ماہ سے اس لعنت کا شکار ہوں اور اس ماہ تو کمال ہو گیا ۔ بجلی کا بل نوے ہزار (90000) روپے ہے ۔ تین بچے، میاں بیوی اور والدہ یعنی اہل خانہ کی کل تعداد 6اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ”بیلی پور “ میں بجلی آتی بھی کم کم ہے اور ”لیسکو“ سے کہیں زیادہ ہمارا انحصار اس ہیوی ڈیوٹی ذاتی جنریٹر پر ہے جس سے ہم بجلی حاصل کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے بھی کوئی ایسا ہی بل آیا تو علاقہ کے SDOکو بلا کر کہا ”اتفاق سے گھر میں کوئی نہیں، آپ گھر کے اندر گھومیں پھریں اور دیکھیں کہ ہم نے کوئی انڈسٹری تو نہیں لگا رکھی “ بھلا آدھی تھا، شرما سا گیا تو میں نے اسے ساتھ لیجا کر جنریٹر دکھاتے ہوئے اپنے منیجر سے کہا کہ اس میں استعمال ہونے والے ڈیزل کی رسیدیں بھی لاؤ، ایس ڈی او صاحب مزید شرمندہ لیکن نتیجہ ؟؟؟ہمیشہ یہی نکلا کہ گدھی چکر کاٹ کر پھر بوڑھ کے نیچے کہ جی ہمارا میٹر تو ٹھیک ہے جبکہ میری منطق بہت ہی سادہ ہے کہ اول تو بجلی آتی کم ہے اور پوری بھی آئے تو 6افراد پر مشتمل کنبہ زیادہ سے زیادہ کتنی بجلی خرچ کر سکتا ہے ؟ادھر ”واسا “ اور ”لیسکو“ میں بھی پھڈا شروع ہے ۔ شاہدرہ ، ٹاؤن شپ و دیگر علاقوں میں زائد بل ڈالے گئے اور شنید ہے لیسکو نے 5کروڑ ریفنڈ بھی کر دیا لیکن کہاں ادارے کہاں افراد … سمجھ نہیں آ رہی کہ ”لیسکو“نامی اس عذاب سے نجات کیلئے کیا کیا جائے ؟لے دے کے اک عدالت ہی رہ گئی ہے لیکن یہ سوچ کر شرم آتی ہے کہ آدمی ایسے مسئلہ کیلئے عدالت کا وقت ضائع کرے ۔اگلا آپشن ملی بھگت اور بے ایمانی، بھیڑیوں کا غول ہے جو عوام کو ہر طرف جھنجھوڑ رہا ہے اور اس زہریلی حقیقت سے مکمل طور پر بے خبر ہے کہ ردعمل کا ٓتش فشاں پھٹ پڑا تو حشر بپا ہو جائے گا۔بل تو میں Under Protestجمع کرا رہا ہوں مزید کوئی لطیفہ پیش آیا تو وہ بھی عرض کردوں گا ۔
اور اب چلتے ہیں اصل موضوع کی طرف جس پر شاید ہی کبھی سنجیدگی سے سوچا گیا ہو ۔ اس ملک کے نالائق اور سفاک حکمران طبقات نے روز اول سے عوام کے افقی اور عمودی استحصال کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس کے بیشمار بھیانک نتائج میں سے ایک انتہاؤں کو چھوتی ہوئی توہم پرستی بھی ہے کالے جادو، ٹونے، تعویز گنڈے، عملیات، اور شیطانی قسم کے وظائف کی وبا نے پورے معاشرے کو جن جھپا ڈال رکھا ہے ۔ گلی گلی اس مذموم کاروبار کے اڈے ہیں۔ زہر فروشی کے اس دھندے کی اشتہار بازی پر بھی کوئی پابندی نہیں۔پچھلے دنوں لاہور کے علاقہ گلشن راوی میں قبرستان سے 3ماہ کے معصوم بچے کی نعش غائب کرنے والے بدبخت ”ملنگ“ اور ”سائیں لوک“ کو گرفتار کیا گیا ۔ پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بعد انسانی اعضاء فروخت کرنے والے گروہ اور کالے جادو، عملیات اور تعویز گنڈوں کا دھندا کرنے والے کئی عاملوں کو مختلف علاقوں سے حراست میں لیا ہے لیکن کیا اس ایکسرسائز کے نتیجہ میں لعنت ختم ہو جائے گی؟
ذرا اندازہ لگائیں کہ جب بچے کی نعش وصولنے اس کے زخم خوردہ والدین تھانے پہنچے ہوں گے تو اس ماں پر کیا گزری ہو گی جس نے چیخ چیخ کر کہا کہ میں تو اسے 14جنوری کو رخصت کر چکی تھی لیکن آج ایک بار پھر اس کی نعش دیکھ کر میں زندہ درگور ہو گئی ہوں۔
ایک مختاط اندازے کے مطابق شہر میں جادو ٹونے کے پانچ ہزار سے زیادہ ٹھکانے دن رات کا م کر رہے ہیں اور ان کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور ہونا بھی چاہئے کہ جہاں آئین، قانون، اصول، قواعد، میرٹ ضوابط ناپید ہوں وہاں یہی کچھ پیدا ہوتا ہے۔
یہ معاشرہ ہمارے اندازوں سے کہیں زیادہ رفتار کے ساتھ گل سڑ رہا ہے خودکش معاشرہ نے خودکشی کی ایسی ایسی صورتیں ایجاد کر رکھی ہیں کہ الامان الحفیظ اعلیٰ ترین سطح سے لیکر عاملوں کے آستانوں تک جرائم اور لوٹ مار کے اڈے ہیں لیکن اس ملک کے کرتوں دھرتوں کو اپنے سروائیول کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا۔
یہ کیسے ملاح ہیں جو اتنا بھی نہیں جانتے کہ بادبان پھٹ چکے، تیوار دیمک زدہ اور کشتی میں جا بجا سوراخ ہیں لیکن نہیں …یہ سب جانتے ہیں اور اسی لئے ان کی خفیہ جیبوں میں بے حد اعلیٰ کوالٹی کی لائف جیکٹس (LIFE JACKATS) موجود ہیں جنہیں پہن کر یہ سمندر پار اتر جائیں گے جہاں ان کی جائیدادیں بھی ہیں،بنک بیلنس بھی ہیں اور اولادیں بھی 

 http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=409457

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha