سال 1997ء اور 2007ء کے درمیانی دس سالوں میں ہندوستان کے دو لاکھ کاشتکاروں نے اجتماعی خودکشی کی ہے جس کی دو بنیادی وجوہات بتائی جاتی ہیں ایک زرعی پیداوار کی بہت زیادہ کمرشلائزیشن اور دوسری کسانوں کا ناقابل برداشت قرضے کا بوجھ۔ ہندوستان کے کثیر الاشاعت اخبار ”ہندو“ کے مطابق کسانوں کے قرضے معاف کرنے کی شہرت رکھنے والے سال 2008ء کے دوران بھی ہندوستان میں سولہ ہزار ایک سو چھیانوے کاشتکاروں نے خودکشی کی۔ نیشنل کرائمز ریکارڈ بیورو انڈیا کے مطابق خودکشی کی یہ وارداتیں اس سے پچھلے سال 2007ء کی خودکشی کی وارداتوں سے صرف چار سو 36کم تھیں گویا 2007ء میں سولہ ہزار چھ سو بتیس کاشتکاروں نے موت کو زندگی پر ترجیح دی تھی۔ اس کے باوجود کہ سال 1991ء اور 2001ء کی مردم شماریوں کے درمیانی عرصے میں 80لاکھ سے زیادہ ہندوستانی کاشتکاروں نے زراعت کا پیشہ ترک کرکے شہری علاقوں کی جانب مراجعت کر لی تھی۔ جینے سے مرنے کو بہتر سمجھنے والے لوگوں کی تعداد میں بھی ہولناک اضافہ ہو رہا ہے۔ اگلے سال 2011ء کی مردم شماری سے پتہ چلے گا کہ گزشتہ دس سالوں کے دوران زراعت کا پیشہ چھوڑنے والوں میں کتنا اضافہ ہوا ہے مگر یقین کیا جاتا ہے کہ دیہات سے شہروں کی جانب مراجعت کی رفتار میں بہت زیادہ تیزی آچکی ہے۔
کسی بھی معاشرے میں خودکشی لوگوں کی بے چارگی، بے بسی اور بے کسی کا سب سے زیادہ عملی ثبوت فراہم کرتی ہے اور ہندوستان کی پانچ بڑی ریاستوں (صوبوں) مہا راشٹر، آندھرا پردیش، کرناٹک، مدھیہ پردیش اور ستیش گڑھ میں سب سے زیادہ خودکشی کی وارداتیں ہوتی ہیں۔ سال 2006ء ، 2008ء کے درمیانی عرصہ میں مہاراشٹر صوبہ کے بارہ ہزار چار سو تریانوے کاشتکاروں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی جانیں لے لیں جبکہ سال 1997ء سے 1999ء تک کے دو سالوں میں چھ ہزار سات سو 45کسانوں نے موت کو زندگی سے بہتر جانا تھا اور یوں اس عرصے میں اس نوعیت کی وارداتوں میں 85فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہوگیا تھا۔
ہندوستان کی دیہی آبادی اور زراعت سے تعلق رکھنے والے گھرانوں کی تعداد میں کمی ہونے کے باوجود کاشتکاروں کی خودکشی کی وارداتوں کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ ہندوستان کے مذکورہ بالا پانچ بڑی ریاستوں میں سال 1997ء اور 2002ء کے عرصہ میں قومی سطح پر خودکشی کرنے والے بارہ لوگوں میں سے ایک کاشتکار ہوتا تھا مگر سال 2003ء اور 2008ء کے درمیانی عرصہ میں یہ تناسب دس اور ایک کا ہوگیا ہے۔ گویا غیر کاشتکار ہندوستانیوں کی بے چارگی، بے بسی اور بے کسی کاشتکاروں سے دس گنا زیادہ ہے۔ سال 2006ء کے بعد حکومت نے کاشتکاروں کے قرضوں کا بوجھ ہلکا کرنے کی بعض کوششیں کیں مگر وہ ناکافی ثابت ہوئیں۔ ا سی سال وزیراعظم من موہن سنگھ نے ریلیف پیکیج کے طور پر تین ہزار سات سو پچاس کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا۔ چیف منسٹر دیش مکھ نے ایک ہزار 75کروڑ روپے کا وزیراعلیٰ کا پیکیج دیا۔ اس کے علاوہ ستر ہزار کروڑ روپے کے قرضوں کی معافی کا اعلان کیا گیا مگر یہ تمام قرضے سرکاری بینکوں اور دیگر حکومتی مالیاتی اداروں کے تھے جبکہ سب سے زیادہ کاشتکار نجی ساہو کاروں کے قرض دار تھے اور جن کے تقاضوں کے دباؤ میں وہ خودکشی پر مجبور ہو رہے تھے۔
غور کرنے والی حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے سب سے زیادہ خودکشی کرنے والے کاشتکاروں کا تعلق اناج کاشت کرنے والے طبقے سے نہیں نقد آور (کیش کراپس) فصلیں اگانے والے طبقے سے ہے اور ہندوستان کے کارپوریٹ سیکٹر نے ہندوستان کی زرعی آبادی کی توجہ نقد آور فصلوں کی طرف مبذول کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ فصلیں ہندوستان کی ماحولیاتی آلودگی میں تیز رفتاری سے ہونے والے اضافے کی وجہ سے بے شمار بیماریوں کی زد میں آجاتی ہیں اور یہ بیماریاں کاشتکاروں کو خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیتی ہیں جبکہ اناج پیدا کرنے والے کاشتکاروں کو اس نوعیت کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
ہندوستان کے کارپوریٹ سیکٹر نے کاشتکاروں کو زیادہ نفع کا لالچ دے کر نقد آور فصلوں کی ترغیب دی ہے مگر اس کے ساتھ ہی زراعت کے بیشتر شعبوں پر اپنی اجارہ داریوں کا تحفظ بھی کیا ہے چنانچہ وہاں کے کاشتکاروں کو کھاد سے لے کر بیجوں تک اور زرعی آلات کے استعمال تک بہت زیادہ قرضوں کا بوجھ برداشت کرناپڑتا ہے جن کی ادائیگی کے تقاضے ان کی زندگیاں اجیرن کر دیتے ہیں۔ دس سالوں کے عرصے میں دو لاکھ سے زیادہ کاشتکاروں کی خودکشی کوئی چھوٹا حادثہ نہیں ہے۔ ہندوستان کی زرعی زندگی کا یہ بحران ہندوستان کے حکمرانوں کے اس خواب کو بری طرح متاثر کرسکتا ہے جو وہ ایشیا کی سپرپاور بننے کے سلسلے میں دیکھ رہے ہیں۔ خاص طور پر چند سالوں کے بعد جب ہندوستان کی آبادی چین کی آبادی سے بھی زیادہ ہو جائے گی اور یہ آبادی 80فیصد سے زیادہ غریبوں کی نچلی سطح سے تعلق رکھنے والی ہوگی۔ مذکورہ بالا خواب کی تعمیر اور زیادہ مشکل دکھائی دینے لگے گی۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=406485

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks
  • Add to favorites
  • email

Related posts:

  1. اگلے چالیس سالوں میں کیا ہوگا؟
  2. ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں …گریبان … منوبھائی
  3. دستی فون اور اخبارات کی ترقی کی رفتار ….گریبان …منوبھائی
  4. کیا بددیانتی میں جرأت ہوتی ہے؟,,,,گریبان …منوبھائی
  5. مستقبل قریب کا ہندوستان….گریبان … منوبھائی

Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha