بہت کم موضوعات ایسے ہوتے ہیں جن پر پورے کا پورا کالم قربان کیا جا سکتا ہے ورنہ لسی، لڑائی اور کالم کا کیا ہے، جتنا چاہو لمبا کر لو لیکن مجھ سے ایسا نہیں ہوتا اس لئے اکثر ایک سے زیادہ موضوعات کو لپیٹنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک ہی موضوع کی تفصیلات میں جانے کی بجائے مختلف موضوعات کو چھیڑ کر گزر جانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ خود قاری کو بھی اپنے ذہن پر زور دینا اور تصور کو تحرک دینا پڑتا ہے اور یوں قاری بھی آپ کا ”سائیلنٹ پارٹنر“ بن جاتا ہے جس کے نتیجہ میں یہ ”جائنٹ ونچر“ کا روپ دھار لیتا ہے۔ سو آج بھی کالم ایک اور موضوعات کئی…….
فوج کی تنخواہوں میں 20 فیصد تک اضافہ کی خبر بہت بڑی خوشخبری ہے ۔ ملکی آبادی کے کم از کم ایک چھوٹے سے حصے کو تو ریلیف ملا۔ معروف محاورہ ہے کہ لاکھوں میل طویل سفر کا آغاز بھی ایک قدم سے ہوتا ہے تو 18کروڑ عوام بجا طور پر یہ توقع کر سکتے ہیں کہ تنخواہوں، اجرتوں اور معاوضوں میں اضافے کے ٹریکل ڈاؤن اثرات کبھی نہ کبھی ان تک بھی ضرور پہنچیں گے۔ غالباً اقبال نے ہی کہا تھا کہ ”پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ“ لیکن ”پیوستہ“ ہونے سے پہلے کامن سینس کا استعمال بھی ضروری ہے کیونکہ بہت سے اشجار ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر بہار کبھی نہیں آتی مثلاً کیکٹس کی بے شمار قسمیں ایسی ہیں جنہیں دیکھ کر بے ساختہ یہ محاورہ یاد آتا ہے کہ ساون سوکھے نہ بھادوں ہرے۔ مختصراً یہ کہ پیوستہ ہونے سے پہلے اچھی طرح چیک کر لیں کہ اس شجر پر بہار آتی بھی ہے یا نہیں۔ اشجار پر بات چلی ہے تو یہ بھی دھیان میں رہے کہ بہت سے درخت آدم خور بھی ہوتے ہیں۔
کئی درختوں کی شاخیں لہو پہ پلتی ہیں
مجھے تو خوف سا آنے لگا ہے چھاؤں سے
ایک بھارتی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر زرداری جادو سے بچاؤ کے لئے روزانہ ایک عدد بکرا صدقہ کرتے ہیں۔ صدقہ ردِ ّ بلا ہوتا ہے لیکن جو بلائیں آدمی خود پالیتا ہے ان کے بارے مصدقہ اطلاع ہے کہ صدقہ موٴثر نہیں ہوتا۔
کجھ شہر دے لوگ وی ظالم سن
کجھ مینوں مرن دا شوق وی سی
شدید قسم کی DEATH WISH اور صدقہ ہمارے سہیل وڑائچ والے ”تیضاد“ سے بھی کہیں زیادہ کھلا تضاد ہے جیسے کوئی جگر کی دوائی شراب کے ساتھ استعمال کرنا شروع کر دے۔ صدقہ تو نہیں البتہ بلاؤں کے حوالے سے عدیم ہاشمی مرحوم کے اس شعر کا بھی جواب نہیں
مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے
جو واقعہ، حادثہ یا سانحہ معمول یعنی روٹین بن جائے وہ خبر کی تعریف (DEFINATION) سے خارج ہو جاتا ہے اس لئے مختلف ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافے کی خبر خبر نہیں رہی بلکہ اب تو خبر کچھ یوں بننی چاہئے کہ ”آج پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا“ صرف اطلاعاً عرض ہے کہ یکم فروری سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دو سے چار روپے تک اضافے کا امکان ہے۔
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ جس کرسی نے وفا نہیں کرنی اسے کیوں بچائیں۔ اگر یہ سادہ سی بات ہمارے مختلف اقسام کے حکمرانوں کو سمجھ آ جائے تو پاکستان کے پونے مسائل حل ہو جائیں لیکن جہاں چند مرلوں کے لئے زندگی موت اور قتلوں کے سلسلے شروع ہو جاتے ہیں وہاں ”کرسی“ کے بارے میں ایسی سوچ پر عملدرآمدکسی امتحان سے کم نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ وقت پڑنے پر گیلان کے سید زادہ کا رویہ کیا ہو گا۔ ”وقت پڑنے “ پر ایک شعر یاد آیا جسے پریذیڈنٹ ہاؤس سے لے کر پی ایم ہاؤس تک عمدہ خطاطی میں آویزاں کیا جائے تو بہتر ہو گا۔
تمام عمر کا ہے ساتھ آب و ماہی کا
پڑے جو وقت تو پانی نہ جال میں آئے
دیکھتے ہیں وقت پڑنے پر ”آب“ کون ثابت ہوتا ہے اور ”ماہی“ کون بنتا ہے۔
فوزیہ وہاب کا بھی جواب نہیں جن کا کہنا ہے کہ میڈیا کالی بھیڑوں کو سفید کر رہا ہے۔ فوزیہ میڈیا کو بیوٹی پارلر کے ساتھ کنفیوژ کر رہی ہیں جہاں مختلف قسم کی بھیڑوں کی رنگائی، منجائی اور ڈائی وغیرہ کا کام ہوتا ہے حالانکہ میڈیا تو آئینہ ہے ….. ایک ایسا آئینہ جو چیزوں کو ذرا ”بلو اپ“ کرکے دکھاتا ۔ فوزیہ ایک بہت ہی اہم میڈیا گورو کا یہ قول بھی ہمیشہ یاد رکھیں کہ
”میڈیا “سٹوری کا آقا ہی نہیں غلام بھی ہوتا ہے“ سلیس زبان میں عرض کروں تو کچھ یوں ہو گا کہ میڈیا چاہے بھی تو ایک خاص حد سے زیادہ مبالغہ نہیں کر سکتا کیونکہ وہ کریڈیبلٹی جیسی بھاری قیمت ادا کرنا افورڈ ہی نہیں کر سکتا۔ یہ سہولت صرف اہل سیاست کو حاصل ہوتی ہے اس لئے خالص زنانہ انداز میں طعنے اور ”چھبیاں“ دینے سے بہتر ہو گا کہ اپنی پرفارمنس پر توجہ دیں۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=406484
Related posts:










Recent Comments