ہمارے کچھ کالم نویس چیف جسٹس پاکستان کے اس فرمودے کوزیربحث لائے ہوئے ہیں کہ ”کرپشن سے داغدار شخص میں اتنی جرأت ہونی چاہئے کہ وہ کھل کر اس کااعتراف کرے“ یہ طے کرنے میں کچھ زیادہ علم اور قانونی قابلیت کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے کہ کرپشن یعنی بددیانتی سے داغدار شخص اور بددیانت شخص میں کچھ فرق اور امتیاز ہوتا ہے۔ وہی فرق اور امتیاز جو قانون کی نگاہوں میں ملزم اور مجرم میں ہوتا ہے۔ ملزم وہ ہوتاہے جس پر الزام یاالزامات لگائے گئے ہوں اور مجرم وہ ہوتا ہے جس پر عائد کئے جانے والا الزام یا الزامات درست ثابت ہوں اور جو اپنے جرم یاجرائم کی سزا کا مستوجب قرار پائے۔ عالمی سطح پر تسلیم کی گئی صداقت کے تحت عدالت ہر اس شخص کو بیگناہ تصور کرتی ہے جو گناہگار ثابت نہ کیاجاچکا ہو۔ ان بیگناہوں میں وہ اشخاص بھی شامل ہوتے ہیں جوکرپشن یعنی بددیانتی کے الزامات سے داغدار ہوں اور جن کو اس نوعیت کے داغوں اور الزامات سے لتھیڑ دیا گیا ہو ”بد اچھا بدنام برا“ والے اصول قانون اور انصاف کی کتابوں میں نہیں ہوتے اور یہ بات بھی سوچنے اور غورکرنے کی ہے کہ کرپشن سے داغدار کسی شخص میں اگر اتنی جرأت ہو کہ وہ کھل کر اس کرپشن کا اعتراف کرلے تو وہ کرپٹ یا بددیانت ہو ہی نہیں سکتا۔ جو شخص کرپشن کو کرپشن سمجھتا ہے وہ کرپشن سے گریز اور پرہیز کی جرأت بھی رکھتا ہے چنانچہ کرپٹ نہیں ہوتا۔ بدنامی کسی شخص کے بدکار ہونے کی دلیل تو ہوسکتی ہے مگر ثبوت نہیں بن سکتی۔ جب تک کہ تمام شواہداور دلائل سے ثابت نہ کردی جائے۔ تاریخ کے صفحات پر ایسی بے شمار شخصیتوں کی موجودگی پائی جاتی ہے جو نیک نامی اور بدنامی کی شہرت رکھتے ہوں مگر اس حقیقت سے بیشتر لوگ بے خبر ہوں گے کہ ان کا اصل کردار کیا اور کب تھا؟ تاریخ کی کتابوں میں نوشیرواں کو عادل قراردیا جاتا ہے مگر بعض شواہد انہیں ظالم اور مخاصب ثابت کرتے ہیں۔ خود ہماری پاکستان کی تاریخ میں ”مرد ِ مومن مرد ِ حق“ کے بارے میں متضاد تصورات اور تجربات پائے جاتے ہیں۔ عدل و انصاف کی بلند و بالا عمارتوں کی موجودگی میں دو قومی نظریئے اور ملک کی سالمیت کو دولخت کرنے والے حکمران ہسپتالوں کے آرام دہ بستروں پر سرکاری اخراجات کے تحت قدرتی موت سے دوچار ہوئے ہیں۔ بے شمار گریبان قانون اور انصاف کے ہاتھ کی پہنچ سے باہر رہے ہیں بلکہ بائیں بازو کے ایک مفکر ٹیڈگرانٹ کی یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ قانون مکڑی کا ایک ایسا جالہ ہے کہ طاقتور جس کو توڑپھوڑ کر نکل جاتے ہیں اور کمزور کیڑے مکوڑے، مکھیاں وغیرہ جس میں پھنس کر مکڑی کی خوراک بن جاتی ہیں۔ کبھی کبھی تو اس مفروضے پر بھی یقین کرنے کو جی چاہتا ہے کہ سب سے اچھا قانون جنگل کاقانون ہے کیونکہ جنگل کے قانون میں قدرت کی خلاف ورزی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ قدرت کے قانون کی خلاف ورزی ہو ہی نہیں سکتی۔ ہر عمل نیچر کاپابند ہوتا ہے۔ جنگل کے قانون کے تحت ایک بھوک اوردوسری بھوک کے درمیانی وقفے میں کسی کو کچھ نہیں کہاجاتا جب کہ تہذیب وتمدن کی نعمتوں سے فیض یاب ہونے والے انسانوں کی پیٹ بھرنے کے بعد دیگر تمام بھوکیں جاگ اٹھتی ہیں۔ وہ اگلی بھوکوں پر قابو پانے کے لئے اناج کا ذخیرہ کرنے لگتا ہے۔ چوری، ڈاکے اور قتل تک کی وارداتوں سے گریز نہیں کرتا۔ زیادہ سے زیادہ طاقت، دولت اور اختیار کا طلبگار ہوتا ہے اور دوسروں کے حقوق پر قبضہ غاصبانہ کواپنا جائز حق سمجھتا ہے۔ اپنے مخالفوں کو پھانسی پر لٹکاتا ہے۔ انتہائی غلیظ اور ناقابل یقین الزامات عائد کرتا ہے اوراس کی کوشش ہوتی ہے کہ ان الزامات کے بوجھ میں دب کر اس کے تمام مخالفین وفات پا جائیں۔
ہمارے چیف جسٹس نے جہاں یہ فرمایا ہے کہ ”کرپشن سے داغدار شخص میں اتنی جرأت ہونی چاہئے کہ وہ کھل کر اس کا (اپنے کرپٹ اوربددیانت ہونے کا) اعتراف کرسکے“ وہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ ”مہذب اور بربریت والے معاشرے میں فرق پیدا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ملک کو ایسا بنانا پڑے گا کہ یہاں کے لوگوں کو کرپٹ کہلوانے میں خوف آئے “تھوڑی دیر کے لئے سوچا جائے کہ اگر بفرض محال چیف جسٹس پاکستان کی مذکورہ بالا معنوی خواہشیں پوری ہو جائیں تو پھر ملک میں امن وامان قائم کرنے کے ذمہ دار ادارے اور پورا عدلیہ کا نظام کیا کرے گا؟ عدالتیں لگانے کی کیا ضرورت رہ جائے گی۔ ”نظریہ ٴ ضرورت“ کہاں جائے گا؟ ”نظریہ ٴ اشد ضرورت“ کا کیا بنے گا اور ”نظریہ ٴ مجبوری“ کہاں چھپتا پھرے گا۔
کون سا بھیس بدلے گا محتاج اب؟
اور کہاں سر چھپاتا پھرے گا غنی؟
شہر میں جب نہیں کوئی بھی اجنبی!
سال 2000 میں جب پاکستان کی قومی تاریخ کے سب سے بڑے انتخابی مینڈیٹ کے خلاف جنرل پرویز مشرف نے اپنے غیر آئینی اور ناجائز قبضے کے حق میں ملک کی سب سے بڑی عدالت سے قانونی جواز طلب کیا تھا تو عدالت نے جس میں ہمارے موجودہ چیف جسٹس بھی موجود تھے ملک کے چوتھے فوجی آمر کو تین سالوں کے اقتدار کے علاوہ آئین میں اپنی خواہش اور ضرورت کے مطابق مناسب اور موزوں ترامیم کی اجازت بھی مرحمت فرما دی تھی اور ان کالموں میں ایک شعر درج کیاگیا تھا کہ:
خورشید سا پیالہٴ مے بے طلب دیا
پیر مغاں سے رات کرامات ہوگئی
پیر مغاں کی کرامات یہ تھیں کہ آئین میں ترامیم اور تین سالوں کے اقتدار کی طلب بھی نہیں کی گئی تھی مگر یہ دونوں بے طلب عنایت کردی گئی تھیں اور انصاف پسندی کے ضمیر کے ماتھے پرپسینہ تو کیا ہلکی سی شکن بھی نہیں آئی تھی۔
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ہے کہ کرپشن کے داغدار شخص میں اتنی جرأت نہیں ہوتی کہ وہ کرپشن کے ان داغوں کی موجودگی کااعتراف کرسکے مگر فیض احمد فیض# نے اپنے کلام میں ان نظریاتی مجاہدوں اور جرأت مند لوگوں کاذکر کیا ہے جوبہت فخر سے اپنے اوپر عائد کئے گئے الزامات کو اپنے کردار کی سجاوٹ قراردیتے تھے۔
یہ ہمی تھے جن کے لباس پر سرراہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سربزم یار چلے گئے
JANAB THIS IS CORRUPTIONS WORLD RECORD AVIALABLE
IN OPF ISLAMABAD NO. 3014/02/2594/C.CELL.
IN PRIME MINISTER OVERSEAS PAKISTANIS C.CELL NO.287/2004.
IN GOVERNMENT PUNJAB NO.DOP/OPCC/178/2004.
IN SUPREME COURT OF PAKISTAN SEND FOR SUO MOTO BY REGD LETTER
NO. RRALN 326117 AE ON 04/07/2007 WHICH WAS HAND OVER ON
12/07/2007 WITH EVIDENCE.
IN SUPREME COURT OF PAKISTAN SEND FOR SUO MOTO ON 28/08/2007
BY OCS NO. GRT/MO 12111 0034720
WHAY NOT TAKE SUO MOTO ACTION AGAINST CORRUPTIONS WORLD RECORD ???
WITH EVIDENCE IN THE LAHORE HIGH COURT
PETITION NOS. 939/R,940/R,941/R,942/R,943/R,944/R,945/R,946/R,947/R/OF
1968 WITH PETITION NOS. 133,134,135,136,137,138,157,158,159/OF 1967 &
PETITION NOS.149,150,151,152,153,154,155,156,157/OF 1967 GHULAM NABI
S/O ALLAH DAD AND OTHERS.
AS EVIDENCE COURT NOTICE NEWSPAPERS.
DALY TOOFAH GUJRANWALA DATED 13/02/1968.
DALY MASHRIQ LAHORE 15/06/1969.
IN LAHORE HIGH COURT
PETITION NO.526/R/1979. PETITION NO. HVC(R) 1525 OF 1986.
PETITION NO. 186/R/1992, 103/R/1993, 432/W/1993 AND 117/R/1994.
IN THESE PETITIONS NOT POTITIONERS AS PETITIONERS/ RESPONDENTS.
THIS IS COURT MATTER . THIS IS CORRUPTIONS WORLD RECORD.
WITH EVIDENCE MY FATHER AND OTHERS FILE CASE IN THE COURT.
ALL PAKISTANI JUDGE SAHBAN AND ADVOCATE SAHBAN CHICK RECORD
IF ANY ONE THIS ABLE GIVE REPLY .
I WELL COME.