یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ کب مگر بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور گیس کی عدم سپلائی کا سلسلہ کبھی نہ کبھی تو ختم ہو گا اور جب بھی ختم ہو گا اپنے ساتھ کچھ مزید پریشانیاں لے کر آئے گا یا کچھ مزید پریشانیاں چھوڑ جائے گا جن کو عبور کرنا ضروری ہو گا اور بقول منیر نیازی مرحوم ہماری آزمائش کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا کہ #
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
جو ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
دو سال پہلے بسنت کے تہوار کو غیر اسلامی قرار دے کر اس کے منانے اور پتنگیں اڑانے پر پابندی عائد کی گئی تھی تو اس نوعیت کی پریشانیاں ابھر کر سامنے آئی تھیں کہ گڈیاں، پتنگیں بنانے اور بیچنے والوں کا کاروبار متاثر ہو گا ایک بہت بڑی تعداد بے روزگاری کی زد میں آ جائے گی ایک پورا کلچر اور اس کے ساتھ روزگار کے سلسلے ختم ہو جائیں گے۔ ان دو سالوں میں یہ پریشانیاں عبور کر لی گئیں یا یہ پریشانیاں نئی پریشانیوں کے سامنے دب کر رہ گئیں اور جس طرح ہم لاہور میں گھوڑے ٹانگے کے کلچر کو اب تقریباً بھولتے جا رہے ہیں ویسے ہی بسنت بہار کے ساتھ وابستہ تہذیب و تمدن کو بھی تقریباً بھول گئے ہیں اور گھڑوے ٹانگے کی جگہ اب اڑن کھٹولے سڑکوں پر آ گئے ہیں۔
بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے آغاز پر ہمارے بے بدل افسانہ نگار جناب اشفاق احمد مرحوم نے اپنی طرز کا ایک انوکھا مضمون پیش فرمایا تھا کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے لال ٹین کے رومانوی کلچر کو واپس لانے کا موقع دیا ہے۔ عام لوگ لال ٹین کے شیشے صاف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جن کے ساتھ تلے جانے والے پکوڑوں کی خوشبو بھی آنے لگی ہے اور پکوڑوں کی خوشبو کے ساتھ کچھ اور بھولی بسری یادیں بھی تازہ ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ بلاشبہ یہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی زحمت کے اندر سے نکلنے والی رحمت ہے کہ موم بتی اور شمعدانوں کا زمانہ بھی یاد آ گیا اور زمانہ قبل از بجلی کی یادیں تازہ ہو گئیں اچھے وقتوں کی خوشبو آنے لگی۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کوئلے جلانے والی انگیٹھیاں بھی واپس آئی ہیں۔ لکڑی کے چولہے بھی جلنے لگے ہیں۔ اُپلوں کا دھواں بھی ماحول پر اپنی چھاپ نمایاں کر رہا ہے۔ کتنے بہت سارے نئے روزگار کھل گئے ہیں یا پرانے وقتوں میں وفات پا جانے والے روزگار زندہ ہو گئے ہیں۔ آگے کی طرف بڑھنے والا زمانہ واپسی کے سفر پر قیامت کی چال چل رہا ہے۔
اب سوچا جا سکتا ہے کہ اگر بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہو گئی اور گیس کی سپلائی عام ہو گئی تو پرانے وقتوں کے روزگار جو بحال ہو گئے تھے دوبارہ غائب ہونے پر مجبور ہو جائیں گے اور بے روزگاریوں کا نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ ایک دریا کے پار اترنے پر نئے دریا کو عبور کرنے کی آزمائش سامنے آ جائے گی۔ جو نہیں سوچا جا سکتا مگر سوچنا چاہئے کہ ”ہتھوڑا گروپ“ کی قتل و غارت شروع ہونے کے زمانہ ”ضیاء الحقی“ سے پہلے کا زمانہ بھی واپس آ سکتا ہے جب مسجدوں، عبادت گاہوں میں داخل ہونے والوں اور عبادت گزاروں کو کسی بیرونی یا اندرونی حملے کا خطرہ نہیں ہوتا تھا۔ ان کی صف بندیوں پر مسلح پہرے لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ رات کو لوگ اپنے گھروں سے باہر گلیوں میں سوتے تھے کسی کو اپنے جوتے چوری ہونے کا اندیشہ بھی نہیں ہوتا تھا۔ گھروں کے دروازے کھلے ہوتے تھے۔ کسی چوری چکاری، ڈاکے کا خطرہ نہیں ہوتا تھا۔ گائے بھینس، گھوڑے، گدھے گلیوں میں بندھے ہوتے تھے کسی رسہ گیر کا کوئی ڈر خوف نہیں ہوتا تھا۔ اگر وہ گیا گزرا زمانہ واپس آ جائے اور ملک بھر میں امن و امان کی فضاء قائم ہو جائے تو لاکھوں کی تعداد میں چوکیداروں اور مسلح پہریداروں کے روزگار کا مستقبل مخدوش ہو جائے گا۔ بیشمار گن مین بے روزگار ہو جائیں گے اور محفوظ و مامون سیاسی حالات میں کرپشن اور بددیانتی کا کاروبار بھی اتنی زیادہ تیزی سے پھلنے پھولنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا جتنی تیزی میں اسے غیر محفوظ حالات میں پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ بھی غیر محفوظ اور مخدوش سیاسی حالات کا کرشمہ ہوتا ہے کہ ”دو نمبر کی غیر معیاری، مصنوعی، بناوٹی اور نقلی چیزیں وجود میں آتی ہیں اور اصلی اور حقیقی چیزوں کی جگہ لے لیتی ہیں۔ یہ حقائق ادارہ اقوام متحدہ کی رپورٹ سے نقل کئے گئے ہیں کہ عالمی سطح پر کم از کم دس فیصد کاروبار نقلی اور دو نمبر کے ہیں۔ دس فیصد کاروبار کی عالمی سطح پر مالیت کم از کم چار سو کروڑ ڈالر بتائی جاتی ہے۔ اندازہ لگائیں کہ اگر دنیا کے حالات محفوظ اور مامون ہو جائیں تو چار سو کروڑ ڈالروں کا کاروبار ختم ہو سکتا ہے۔ کتنے افسوس کی اور کس قدر پریشان کرنے والی بات ہے۔
Recent Comments