خبريں اردو سے محبت کرنے والوں کے لۓ

23Jan/100

ابراہم لنکن، ہم اور کوئٹہ کی ہوائیں-اطہر شاہ خان

لیجئے صاحب: آٹھ سال بعد ہمارا گمشدہ سوٹ مل گیا ہے اور ملا بھی کہاں سے؟ ٹین کے اس خاصے بڑے بکسے سے جس میں فنائل کی گولیاں ڈال کر ہماری بیگم نے گھر بھر کے پرانے گرم کپڑے آئندہ زمانوں کیلئے محفوظ کردیئے ہیں۔ ہم تو اس سوٹ کو بھول بھی چکے تھے مگر اب کی سردیوں میں جب کچھ مہمان نادیدہ آفات کی طرح اچانک آگئے تو بستروں کی ضرورت محسوس ہوئی، ہماری بیگم نے گرم کپڑوں کے ساتھ کچھ لحاف اور گدے بھی اسی بڑے بکسے میں رکھ دیئے تھے، ایک نسبتاً نیا گدا جس میں سے گودڑ جھانک رہا تھا انہوں نے نکالا تو اس کے عین نیچے رکھا ہوا یہ قدیم سوٹ بھی دریافت ہوگیا، بیگم کے بہت منع کرنے کے باوجود ہم نے سوٹ پر استری کروا کے اسے فوراً پہن لیا ہے کیونکہ آج سردی کافی زیادہ ہے اور اہل کراچی کہہ رہے ہیں کہ آج کل کوئٹہ کی یخ بستہ ہوائیں آئی ہوئی ہیں۔
کراچی بھی عجیب شہر ہے کہ یہاں ہر چیز باہر سے آتی ہے، سبزیاں اندرون سندھ سے، پھل افغانستان سے، ہوائیں بلوچستان سے اور حد یہ ہے کہ پرانے گرم کپڑے بھی امریکہ اور انگلستان سے آتے ہیں، اس قدیم سوٹ کی تاریخ لکھنا تو محکمہ آثار قدیمہ کا کام ہے مگر ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ یہ سوٹ ہم نے آج سے اٹھائیس سال پہلے گرم کپڑوں کے ٹھیلے والے سے خریدا تھا، اب آپ کہیں گے کہ دکان سے کیوں نہیں خریدا تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ پرانے کپڑوں کے بازار میں جاکر ہم شرمندہ نہیں ہونا چاہتے تھے کیونکہ وہاں کچھ شناسا لوگ بھی مل سکتے تھے جو ہمیں پرانے کپڑوں کی دکانوں پر نہایت معنی خیز انداز میں دیکھنے اور آئندہ کبھی ہم یہ پرانا سوٹ پہنے نظر آجاتے تو قہقہہ لگانے سے بھی گریز نہ کرتے… ایسے ہی جل ککڑے لوگوں کے بارے میں ہم نے یا غالب نے ایک شعر کہہ رکھا ہے کہ
عرفی تو مے اندیش زغوغائے دقیباں
آواز سگاں کم نہ کند رزق گدا را
ہمیں افسوس ہے کہ اس شعر کا ہمارے اس قدیم سوٹ سے کوئی بنیادی تعلق نہیں ہے لیکن کیا کریں کہ ہمیں فارسی کا یہی ایک شعر زبانی یاد ہے۔
اس زمانے میں جب ہم نے یہ گرم سوٹ خریدا ہمارے پاس بچپن کا وہ تنگ سوئٹر ہوا کرتا تھا جس میں سرد ہواؤں کو ہمارے جسم تک بآسانی پہنچانے کیلئے کئی روزن بنے ہوئے تھے… ایک دن چوک پر ایک ٹھیلے والے کے پاس سے گزرے جو پرانے گرم کپڑے بیچ رہا تھا اور اس کے آواز لگائے بغیر ہی وہاں کئی غریب غربا جمع تھے تو ایسے غریبوں کو دیکھ کر دلی قلق ہوا کہ ہمارے عوام کتنے پسماندہ ہیں جو سردی دور کرنے کیلئے دوسروں کے اترے ہوئے کپڑے پہننے پر مجبور ہیں (چاہے وہ مرحوم ہوں یا آنجہانی) لیکن صرف مساکین و مستحقین کی حوصلہ افزائی کیلئے ہم بھی وہاں کھڑے ہوگئے۔ وہ ٹھیلے والا کچھ پڑھا لکھا تھا کیونکہ جو سوٹ وہ اٹھاتا اس کے بارے میں یہ ضرور بتاتا کہ تاریخی طور پر وہ کہاں سے آیا تھا مثلاً ایک سوٹ کے بارے میں اس نے بتایا کہ دوسری جنگ عظیم شروع ہونے سے ذرا دیر پہلے وہ سوٹ وزیراعظم برطانیہ سرونسٹن چرچل نے پہنا ہوا تھا، ہمیں اس بات پر بالکل یقین نہ آیا کیونکہ چرچل کے بارے میں دستاویزی فلمیں ہم نے دیکھی ہوئی ہیں وہ اس پتلے دبلے سوٹ جیسی جسامت کے نہیں تھے بلکہ اتنے شدید ہوتے تھے کہ جب سردیوں میں وہ گھر پر نہ ہوتے تو ان کے تمام بچے اس کوٹ کو بطور لحاف اوڑھ کر سویا کرتے۔ کبھی کبھار تو پڑوسیوں کے دو چار بچے پتلون میں سے بھی نکل آتے اور یہاں تک سنا گیا ہے کہ چرچل اکثر اپنے سیاسی مخالفین کو بھی سوٹ میں لپیٹ کر رکھ دیا کرتے تھے۔
ٹھیلے والے نے ہمیں بھی اپنی طرح پڑھا لکھا سمجھ رکھا تھا، ایک اور سوٹ ٹھیلے سے اٹھاتے ہوئے اس نے پوچھا… ”ابراہم لنکن کا نام سنا ہے؟“
ہم نے ذہن پر زور دے کر کہا… ”ابراہم لنکن؟؟… وہ امریکہ والے؟“
”جی ہاں، وہی صدر امریکہ: یہ ان کا تاریخی سوٹ ہے، ہم بے حد متاثر ہوئے کیونکہ سوٹ واقعی ان کے سائز ہی کا لگتا تھا، اچانک قریب کھڑے ہوئے ایک شخص نے کوٹ میں دل والی جگہ ایک سوراخ میں انگلی گھماتے ہوئے کہا… ”مگر اس کوٹ میں تو سوراخ ہے؟“
ٹھیلے والے کا منہ بن گیا اور بولا… ”اسی وجہ سے میں ان جاہل لوگوں کو یہ تاریخی چیزیں نہیں بیچا کرتا جنہیں یہ تک پتہ نہیں ہوتا کہ ابراہم لنکن کے کوٹ میں سوراخ کیوں ہے؟“
ایک اور گاہک نے خیال آرائی کی… ”شاید یہ حصہ جھینگروں نے کھالیا ہے؟“
اس بات پر ٹھیلے والا حالت اشتعال میں آگیا، سرخ چہرے کے ساتھ اس نے ہاتھوں کو گھونسے کی شکل دی ہی تھی کہ ہم نے فوراً اس کا ہاتھ تھام لیا اور جھینگروں کا خیال پیش کرنے والے شخص سے کہا…“ شاید آپ نے امریکہ کی تاریخ نہیں پڑھی اس لئے آپ کو معلوم نہیں ہے کہ جب ابراہم لنکن ایک تھیٹر دیکھ کر باہر نکل رہے تھے تو ایک شقی القلب شخص نے پستول سے فائر کر کے انہیں ہلاک کر دیا تھا اور گولی عین دل پر لگی تھی“۔
ٹھیلے والا خوشی سے اچھل پڑا پھر چھلانگ لگا کر ہم سے لپٹ گیا اور بولا… ”آفرین ہے، آفرین ہے آپ جیسے عالم فاضل کی معلومات پر، ایسے دانائے روزگار لوگ آسانی سے ملتے کہاں ہیں“۔
ہمارا سیروں خون بڑھ گیا تو وہ بولا… ”یہ سوٹ میں نے کسی بہت ہی قابل شخصیت کیلئے رکھ چھوڑا تھا جو کم سے کم کسی یونیورسٹی کا وائس چانسلر ہو یا ہیڈ آف دی ہسٹری ڈپارٹمنٹ ہو مگر چونکہ آپ کی علمیت ان سے بھی زیادہ ہے اس لئے میں یہ سوٹ آپ کی نذر کر رہا ہوں اور قیمت بھی اتنی مناسب لگائی جا رہی ہے کہ جتنے ڈالر ابراہم لنکن نے اس سوٹ کی سلائی کے دیئے تھے صرف وہی آپ سے لے لوں، لایئے نکالئے ساڑھے تین سو روپے!“
اتنی تعریف سننے کے بعد ہم جیسے شمس العلوم کچھ خریدنے کیلئے بھاؤ تاؤ نہیں کیا کرتے، ہم نے جیب میں ہاتھ ڈال کر ساڑھے تین سو روپے اسے تھما دیئے… ہم چلے تو اپنے پیچھے کچھ قہقہے سننے، یہ انہی جاہل لوگوں کے تھے جو امریکہ کی تاریخ سے واقف نہیں تھے اور ایسا تاریخی سوٹ خریدنے پر جل کر کباب ہوئے جا رہے تھے، ایسے جل ککڑوں کیلئے ہم نے یا غالب نے ایک شعر کہہ رکھا ہے کہ
عرفی تو مے اندیش زغوغائے رقیباں!“… لیکن ٹھہریئے یہ شعر ہم آپ کو شروع ہی میں سنا چکے ہیں۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=404675

  • Share/Bookmark

Related posts:

  1. ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا-1 -اطہر شاہ خان
  2. ہميں سب ہے ياد ذرا ذرا ـ2ـ اطہر شاہ خان

Comments (0) Trackbacks (0)

No comments yet.


Leave a comment


No trackbacks yet.

Canonical URL by SEO No Duplicate WordPress Plugin