صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کو دعویٰ ہے کہ وہ باز کی سی آنکھیں رکھتے ہیں جن سے سازشیوں کو دیکھ رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح نیلگوں فضاؤں میں بلندیوں پر اڑتا ہوا باز اور چٹانوں پر بسیرا کرنے والا شاہین آسمانوں کے قریب پرواز کرنے کے باوجود زمین پر اپنے شکار پر نظر رکھتا ہے۔ اسی لئے اسے اقبال پرندوں کی دنیا کا درویش کہتا ہے کہ شاہین کبھی آشیانہ نہیں بناتا اور اسی حوالے سے باز کو پرندوں کی دنیا کا بادشاہ کہاجاتا ہے کہ وہ جانوروں کے بادشاہ شیر کی مانند خود شکار کرکے کھاتا ہے، کسی کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا۔ اقبال کو باز یا شاہین کی یہی بادشاہی اور درویشی پسند ہے کیونکہ بادشاہی میں درویشی کرنا نہایت کٹھن کام ہوتاہے۔ اقبال خودداری کا پیامبر ہے اس لئے وہ باز یا شاہین کی خودداری اور عزت نفس کی تعریف کرکے انسانوں کو عزت نفس کا سبق دیتا ہے اور دیکھا جائے تو یہی خودداری اور عزت نفس انسان میں درویشی کی خصلت پیدا کرتی ہے وہ یوں کہ انسان دنیاوی خداؤں اور زمینی سہاروں سے بے نیاز ہو کر اللہ اور صرف اللہ پر تکیہ کرنے لگتا ہے، اور اس خودداری کے سفر میں بقول اقبال ایک منزل وہ بھی آتی ہے کہ جب انسان خدا سے بھی مانگنا ترک کردیتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جب اللہ بندے سے خود پوچھتا ہے کہ” بتا تیری رضا کیا ہے؟“ عزت نفس، استغنا، راضی بہ رضا اور توکل اس منزل پر پہنچنے کا رخت ِسفر ہے اور جس دامن میں یہ رخت ِ سفر نہ ہو وہ راستے ہی میں راستہ بھول جاتا ہے۔ باب علم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بقول توکل کیا ہے ذراغور کیجئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے کہ ”اگر توکل سیکھنی ہے تو پرندوں سے سیکھو کہ جب وہ شام کو واپس لوٹتے ہیں تو ان کی چونچ میں کل کے لئے کوئی دانہ نہیں ہوتا۔“ گویا اقبال نے فقیری، خودداری اوربادشاہی میں درویشی کے لئے شاہین کو چنا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے توکل سکھانے کے لئے پرندوں کی مثال دی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی وسیع و عریض کائنات میں غور و فکر کا بے پناہ سامان موجود ہے بشرطیکہ دنیا کماتے کماتے انسان کے باطن کی آنکھ بینائی سے محروم نہ ہوچکی ہو، دولت اوراقتدار کی ہوس نے انسان کو اندھا نہ کر دیا ہو۔ بلاشبہ دولت، جنس اور اقتدار کی ہوس انسان کو اندھا کردیتی ہے لیکن یہاں اندھے سے مراد آنکھوں کی بینائی نہیں جو کمزور ہو تو لوگ عینک لگا لیتے ہیں، رنگ برنگے لینز لگا کر آنکھوں کوخوبصورت بنا لیتے ہیں یہاں اندھے پن سے مراد باطن کی آنکھ کا اندھا پن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو نظریں یا دو آنکیں عطا کی ہیں یعنی چشم ظاہر اور چشم بینا یا چشم باطن، چشم ظاہر سے ہم نظر آنے والے جہان کو دیکھتے ہیں، وہ جہان جو ہمارے سامنے موجود ہوتا ہے لیکن چشم باطن سے انسان وہ جہان بھی دیکھ سکتا ہے جو سامنے موجود نہیں ہوتا اوریہی وہ صاحبان باطن ہیں جن کے بارے میں بابا بلھے شاہ نے فرمایا تھا کہ ”بلھیا! اساں مرنا ناہیں، گور پیا کوئی ہور“ اسی لئے جب زرداری صاحب نے باز کی سی آنکھوں والی تقریر میں بلھے شاہ کا یہ شعر پڑھا تو میں چونک گیا کیونکہ:
ایہہ ہور سید، او ہور سید
لولاک دے مالک ہور سید
مر کے بھی نہ مرنے والی قسم کچھ اور انسانوں کی ہوتی ہے دنیا کی ہوس کے مارے ہوئے بندوں کو یہ مقام کبھی نہیں مل سکتا۔ وہ تو اسی دنیا میں ذلیل و خوار اور رسوا ہوتے اور عبرت کا نشان بن جاتے ہیں۔ بلھے شاہ جیسے فقیر عمر بھر خزانے لٹاتے رہتے ہیں، فیض بانٹتے رہتے ہیں، آنے والوں کی مرادیں پوری کرتے رہتے ہیں جبکہ حکمرانوں جیسے ہوس زدہ افراد عمر بھر قومی خزانے لوٹتے رہتے ہیں، کمیشن لے کر ٹھیکے بانٹتے رہتے ہیں اور آنے والوں کی جیبوں پر ڈاکے ڈالتے رہتے ہیں چنانچہ ان کے باطن کی آنکھ بینائی سے محروم ہو جاتی ہے اور ان کی باز جیسی آنکھ ہمہ وقت دولت اکٹھی کرنے کے لئے خزانے ڈھونڈتی رہتی ہے۔ یقینا یہ وہ آنکھ نہیں جسے اقبال شاہین یا باز کی آنکھ کہتا ہے بلکہ یہ وہ آنکھ ہے جس کے بارے میں میر# کا یہ مصرعہ زبان ِزدِعام ہے کہ:
میر# اِن نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے
کہاں باز کی آنکھ جیسی خودداری، استغنا اور توکل اور کہاں ہمارے حکمرانوں کی آنکھ جس میں شراب کی سی مستی، دولت کا خمار، اقتدار کا پندار اور ہوس کا غبار ہوتا ہے۔ بلاشبہ زرداری کا یہ دعویٰ درست ہے کہ ان کی آنکھ باز کی آنکھ ہے۔ لیکن صرف اپنے مقاصد کے لئے جبکہ میں محسوس کرتا ہوں کہ اب تو ہمار ے قارئین کو بھی اللہ تعالیٰ نے باز کی سی آنکھیں عطا کر دی ہیں اوروہ دور بیٹھے حکمرانوں کے اندر جھانک لیتے اور ان کہی بات سمجھ لیتے ہیں بلکہ ان کے الفاظ کے پس پردہ پوشیدہ مقاصد بھی دیکھ لیتے ہیں۔ اسی حوالے سے کل کراچی سے ایک فقیر منش انسان فیاض اعوان کا ایس ایم ایس ملا جنہوں نے لکھا تھا کہ ”باقی صدر ٹھیک چیخ چلا رہے ہیں کیونکہ وہ گئے تو قارون کے خزانے کا کیا ہوگا۔ سو اب اتنی دولت ہو تو بندہ بشر چیخے گا توسہی۔ مسئلہ صرف کرسی کانہیں بلکہ دولت کا بھی ہے لیکن انسان سب سے لڑ سکتا ہے تقدیر سے نہیں“ کیا میں نے غلط لکھا کہ اب تو ہمارے قارئین بھی باز کی سی آنکھیں رکھتے ہیں۔ اعوان صاحب کہتے ہیں کہ 2010 کا سال مشکلات کا سال ہے۔ قوم کو خلوص نیت سے توبہ کرنی چاہئے اور گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہئے۔ شاید اس سے مشکلات آسان ہوجائیں
Jan 192010
Recent Comments