لاہوریوں کی زندہ دلی، مہمان نوازی اور خلوص مسلمہ حقیقتیں ہیں جن کا ہر کوئی اعتراف کرتا ہے لیکن لاہوریوں کی ایک ادا مجھے سب سے زیادہ پسند ہے اور وہ یہ کہ لاہوریے اپنے شہر کو دنیا کا اعلیٰ ترین اور بہترین شہر سمجھتے ہیں۔ آپ نے وہ واقعہ سن رکھا ہوگا کہ ایک سچا اور پکا لاہوریہ زندگی میں پہلی بار عمرے کے لئے گیا۔ عمرہ کرچکا اور حرم شریف سے باہر آیا تو اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ”اللہ میاں! آپ کا گھر نہایت خوبصورت اور نورانی ہے لیکن میرے پیارے رب برا نہ منانا لاہور لاہور اے“۔ زندہ دلان لاہور کی ز ندہ دلی کا یہ عالم ہے کہ وہ بعض اوقات نہایت قابل رحم اور افسوناک واقعے پر بھی پھبتی کس کے اپنی زندہ دلی کا مظاہرہ کر جاتے ہیں۔ آج سے دو دہائیاں قبل میں اسلام آباد سے لاہور آرہا تھا تو راستے میں میری کار کو ایک بس نے سائیڈ مار دی جس سے میری کار بری طرح ”مجروح“ ہوگئی، اس کی ایک سائیڈ مکمل طور پر تباہ ہوگئی، ونڈ سکرین اور دروازوں کے شیشے ٹوٹ گئے لیکن اللہ کا شکر ہے میں معمولی چوٹوں کے علاوہ محفوظ رہا۔ کار چلنے کی حالت میں تھی چنانچہ میں اسے چلا کر لاہور لایا اگرچہ میری ٹانگ سے خون بہہ رہا تھا اور میری ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔ میں راوی کے پل پر ٹول ٹیکس کی ادائیگی کے لئے رکا تو نوجوان نے مجھے ٹول ٹیکس کی رسید دیتے ہوئے کار پر نظر دوڑائی اور پھر میرے پریشان چہرے کو دیکھا تو میں سمجھا کہ اب وہ ہمدردی کے دو بول بولے گا لیکن وہ خالص لاہوری انداز میں مسکرایا اور کہا ”باؤ جی بڑی ایئرکنڈیشنڈ گڈی لئی جے“۔ یہ طنز تھی گاڑی کے ٹوٹے ہوئے شیشوں پر جس کے سبب چاروں طرف سے فراٹے بھرتی ہوئی ہوا آ اورجا رہی تھی۔ میں اس کا فقرہ سن کر ہلکے سے مسکرا دیا ۔
اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ لاہویے عام طور پر مہمان نواز لوگ ہیں اور اس قدر مہمان نواز کہ آج تو صدرزرداری صاحب نے بھی اس کی تصدیق کر دی ہے۔ زرداری صاحب نے لا ہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ راز فاش کیا ہے کہ جب صدر فاروق لغاری کے دور میں انہیں گرفتار کرکے لاہور جیل میں بھیجا گیا تو جیل کے ایک افسر نے اپنے گھر سے انہیں صابن، تولیہ اور کھانا منگوا کر دیا اگرچہ زرداری صاحب ولائتی صابن تولئے کے عادی ہیں لیکن جیل میں فراہم کیا گیا پاکستانی تولیہ اور صابن بھی قیدی کو یاد رہتا ہے کیونکہ قیدی قیدی ہوتا ہے چاہے وہ سابق وزیراعظم اور مستقبل کا صدر ہی کیوں نہ ہو۔ شاید زرداری صاحب بھول گئے ہوں کہ انہیں صابن تولیہ کے علاوہ ”مرد حُر“ کا خطاب بھی لاہور نے دیا تھا اور یہ خطاب زرداری صاحب کی جیل کی زندگی کے دوران کی سب سے بڑی پہچان بنا رہا اور اسی حوالے سے لاہور کے لکھاریوں نے ”مرد حُر“ پر بڑی دل پذیر تحریریں رقم کیں اور ان کی بہادری کے قصیدے لکھے۔ میری نظر میں زرداری صاحب کی سیاسی زندگی کی دو ہی علامتیں ہیں اول انکی پہچان مرد حُر کا خطاب اور دوم ان کا پاکستان کھپے کا نعرہ ہے اسلئے میں جب زرداری صاحب کو خوفزدہ، پریشان اور گھبرایا ہوا دیکھتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ وہ زرداری صاحب نہیں جنہیں لاہور نے مرد حُر کا خطاب دیا تھا یا تو جیل نے ان کی حریت پسندی چھین لی ہے یا پھر طویل جلا وطنی اور بے نظیر کی موت نے ان کے حوصلے پست کر دیئے ہیں کیونکہ وہ جس انداز سے بار بار سازشوں، اقتدار سے محرومی کے خطرات اور انجانے اندیشوں کا واویلا کر رہے ہیں اس سے یہی تاثر ملتا ہے۔ میرے دوست حاجی صاحب کسی دور میں بڑے متحرک سیاسی کارکن ہوتے تھے اور اب سیاست سے تائب ہو کر کاروبار سے وابستہ ہوگئے ہیں لیکن وہ سیاست پر بڑی گہری نظر رکھتے ہیں۔ جس روز زرداری صاحب نوڈیرو میں تقریر کرتے ہوئے پھٹ پڑے اور انہوں نے کھل کر اپنے خلاف سازشوں کا ذکر کیا، میڈیا پر حملے کئے، مسلم لیگ (ن) کو نام لئے بغیر رگڑا دیا اور اسٹبلشمنٹ کے پردے میں فوج کو رگیدا اور آئی ایس آئی کے افسران سے جیلوں میں ملاقاتوں کا ذکر کیا تو حاجی صاحب نے مجھے صبح ہی صبح فون کرکے کہا کہ ڈاکٹر صاحب صدر صاحب کو کہیں سے بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔ وہ پانچ برس کیلئے صدر منتخب ہو چکے ہیں اس لئے ان کے خلاف کرپشن کے مقدمات ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ مسلم لیگ (ن ) سے لے کر باقی پارٹیوں تک سیاسی قوتیں ان کے ساتھ ہیں اور فوج مداخلت کرنا نہیں چاہتی“۔ میں نے حاجی صاحب کا تجزیہ سن کر ان سے پوچھا کہ جب کوئی خطرہ نہیں تو پھر زرداری صاحب اس قدر واویلا کیوں کر رہے ہیں۔ حاجی صاحب کا جواب نہایت مختصر لیکن بلیغ تھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ دراصل زرداری صاحب خوف کی نفسیات کے مریض ہیں۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ہے۔ پھر ہم نے اپنی گناہگار آنکھوں سے دیکھا کہ زرداری صاحب کے واویلے کے جواب میں ڈاکٹر ذوالفقار نے سندھ کی علیحدگی کی دھمکی دے دی اور راجہ ریاض لاشیں گرانے کی ”بد خبریں“ سنانے لگے۔ پھر اس شہر لاہور میں جیالے زرداری صاحب کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے جس طرح وہ کسی دور میں بے نظیر اور ذوالفقار علی بھٹو کے لئے نکلتے تھے۔ مجھے یہ کہنے دیجئے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو وزیراعظم لاہور نے بنوایا جہاں سے ایوبی آمریت کے خلاف اس قدر طاقتور تحریک چلی کہ بالآخر ایوب خان کو استعفیٰ دینا پڑا، جہاں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی، جہاں لاہوریوں نے بھٹو کو کندھوں پر اٹھا لیا اور زندہ باد کے نعرے لگا کر آسمان کو سر پر اٹھا لیا اور جس شہر کے لوگوں نے 1970ء کے انتخابات میں اپنے چہیتے فرزندِ اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال کے مقابلے میں بھٹو کو ووٹ دے کر اپنا لیڈر بنا لیا اور جہاں اپریل1986ء میں لوگوں نے بے نظیر بھٹو کا بے مثال استقبال کرکے ضیاء الحق کے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ۔
زرداری صاحب کا سازشوں کے خلاف واویلا اس لحاظ سے مفید ثابت ہوا کہ وہ گروہ جو ان کے دسمبر میں جانے کی پشین گوئیاں کر رہا تھا، سہم گیا اور اب مارچ میں کوئیک مارچ کی باتیں کر رہا ہے لیکن اس بار ان پشین گوئیوں میں وہ زور و شور نہیں جو ان کی پہچان ہے۔ اس کے بعد سے مسلسل میاں نواز شریف اور دوسرے قومی لیڈران یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں اور اگر کوئی خطرہ ہے تو اسے پارلیمینٹ کے سامنے رکھا جائے۔ میاں صاحب نے تو یہ کہہ کر نظام کو مضبوط سہارا فراہم کر دیا ہے کہ اگر نظام کو کوئی خطرہ ہوا تو وہ ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ ادھر خود زرداری صاحب نے امریکہ کے ایک ممتاز اخبار میں مضمون لکھا ہے جس میں واضح کیا ہے کہ فوج جمہوریت کو مضبوط کر رہی ہے اور اس کا سیاست میں مداخلت کا کوئی امکان نہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ زرداری صاحب کو کس سے اور کہاں سے خطرہ ہے۔ کل حاجی صاحب سے میری اسی موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی تو انہوں نے دلچسپ تبصرہ کیا۔ کہنے لگے کہ زرداری صاحب کی گورنر ہاؤس لاہور میں تقریر ایک گھبرائے ہوئے خوفزدہ لیڈر کی تقریر تھی وہ شاید باربار خوف کو اچھال کر ہمدردی کی لہر پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن جب صحافیوں نے کھانے پر زرداری صاحب سے پوچھا کہ حضور آپ کو خطرہ کہاں سے ہے، آپ کے خلاف سازشیں کون کر رہا ہے تو وہ مسلسل سوالوں کو ٹالتے رہے جب اصرار بڑھا تو زرداری صاحب نے خالصتاً لاہوری انداز میں حس مزاح کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا کہ جب مجھے سازش کرنے والوں کا پتہ چلا تو میں ان کے پتے (ایڈریس) آپ کو بھجوا دوں گا۔ اس سے ثابت ہوگیا کہ خود زرداری صاحب بھی نہیں جانتے کہ ان کے خلاف سازشیں کون کر رہا ہے۔ اتنی سی بات کہہ کر حاجی صاحب چند لمحوں کے لئے رکے جیسے کچھ سوچ رہے ہوں۔ پھر یہ کہہ کر انہوں نے موضوع کے سمندر کو ایک فقرے میں بند کر دیا ”ڈاکٹر صاحب! میں ناں کہتا تھا کہ زرداری صاحب ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں، اب دیکھئے میری بات صحیح ثابت ہوگئی“۔ میں نے حاجی صاحب کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے جواب دیا کہ حاجی صاحب میں جب پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی سیاست اور اقتدار ہی ایک ڈراؤنا خواب ہے ۔ سابق حکمرانوں پر نظر ڈالو کیا کوئی عزت سے رخصت ہوا؟ کیا کسی کا انجام بخیر ہوا؟
Recent Comments