کسی اور معاملے میں ” دی خان“ عمران خان کے خیالات و نظریات کو اگر کچھ زیادہ اہمیت نہ بھی دی جائے تو کرکٹ کے میدان اور شعبے میں ان کے تجربے اور مہارت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور ان کے ان خیالات میں بھی کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا کہ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کو شکست دینے کا ایک سنہری موقع کھو دیا جو کہ بہت طویل عرصے کے بعد پاکستان کو نصیب ہوا تھا یا نصیب ہوسکتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی عمران خان نے اپنا یہ نظریہ دوہرایا کہ کرکٹ کو کمرشل اداروں اور بینکوں کے حوالے کرنے کی بجائے علاقائی اور صوبائی سطح کے کلبوں کی تحویل میں دیا جائے جن کے باہمی مقابلوں میں سے قومی سطح کی ٹیم تیار کی جائے۔ عمران خان نے کرکٹ کے قومی کھیل کی موجودہ زبو ں حالی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے میں صدر آصف علی زرداری یا ان کی پاکستان پیپلز پارٹی کو ذمہ دار قرار دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
اس موضوع پر کرکٹ کے سابق کپتان اور آل راؤنڈر کھلاڑی وسیم اکرم کے خیالات بہت فکر افروز ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سڈنی میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو ہارجانے کے خوف نے شکست سے دوچار کیا اور وہ جیتا ہوا میچ ہار گئی۔ انہوں نے کرکٹ کی قومی ٹیم میں نیا اور گرم، جوشیلا خون شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق کسی طاقت ور ٹیم کو شکست دینے کے لئے کھلاڑیوں میں اضافی جذبے اور آزمائش کے لمحات میں ثابت قدم رہنے اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو کھلاڑی بہت جلد آؤٹ ہو جانے کے اندیشہ اور خوف کے ساتھ میدان میں اترے گا وہ ڈرسنگ روم میں واپس آنے میں زیادہ دیر نہیں لگائے گا۔
وسیم اکرم نے تو یہ تجویز پیش نہیں کی مگر سوچا جاسکتا ہے کہ ہماری کرکٹ ٹیم کو باؤلنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ کے شعبوں میں ”کوچز“ فراہم کرنے کے علاوہ شکست کے اندیشے اور خوف سے نجات دلانے والے ماہرین نفسیات کا تعاون بھی فراہم کیا جائے اور اگر یہ تجربہ کرکٹ کے میدان میں کامیاب ثابت ہو تو اسے زندگی کے دیگر قومی شعبوں تک بھی پھیلایا جائے۔ بعض ماہرین کے خیال میں ہمارے حکمرانوں اور حکمران طبقوں کو بھی شکست کے اندیشوں اور خوف نے اپنے نرغے میں لے رکھا ہے اور خاص طور پر وہ ایک طویل عرصے کے بعد آمریت کو شکست دینے کے بعد جمہوریت کی بحالی کے ٹیسٹ میچ میں ہارجانے کے اندیشے سے دوچار ہیں چنانچہ پوری طرح کھل کر اعتماد کے ساتھ نہیں کھیل رہے۔ ان ماہرین کے پہلو میں وہ ماہرین بھی موجود ہیں جن کے خیال میں ملک اور قوم پر آمریت مسلط کرکے اپنے ناجائز مفادات کی مچھلیاں پکڑنے میں دلچسپی رکھنے والے عناصر اس نوعیت کے اندیشے اور خوف رکھتے ہیں کہ اگر ملک میں جمہوریت اپنی جڑیں اتارنے میں کامیاب ہوگئی تو حکمرانوں کی توجہ قومی معروض سے آمریت، جہالت، غربت اور پسماندگی کی جڑیں اکھیڑنے پر مرکوز ہو جائے گی۔
منیر نیازی مرحوم نے ”اندرون شہر کے مکانات“ کے عنوان کے تحت ایک پنجابی نظم کہی تھی کہ:
اک دوجے توں ڈر کے
لگے ہوئے نیں ایک دوجے دے نال
یعنی ایک دوسرے کے خوف سے یہ مکانات ایک دوسرے کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں۔ کچھ ایسے ہی حالات ملک میں جمہوریت کی جڑیں اتارنے اور آمریت کی جڑوں کو بچانے والے عناصر کے بھی ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے خوف سے ایک دوسرے کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں اور شکست سے دوچار ہونے کے اندیشوں کے تحت ایک دوسرے سے ”گتھم گتھا“ ہورہے ہیں کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ کون سے عناصر زیادہ اندیشوں اور خطروں کے ساتھ میدان میں اترے ہیں چنانچہ وہ اپنی جیت کا سنہری موقع کھو بیٹھیں گے اور کون سے عناصر بہت زیادہ بلکہ ضرورت سے زیادہ اعتماد کے ساتھ کھیل رہے ہیں چنانچہ وہ بھی ناکامی کا منہ دیکھ سکتے ہیں۔ ایک بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ملک اور قوم کے اصل مسائل کو حل کرنے والی کوئی بھی ٹیم میدان میں اترنے نہیں دی جائے گی چنانچہ لوگوں کے غربت، مہنگائی، جہالت، پسماندگی، اور عدم تحفظ کے مسائل حل نہیں ہوسکیں گے اور آخری تجزیئے میں فیض احمد فیض کی ایک نظم کے یہ مصرعے دوہرائے جا رہے ہوں گے کہ:
ہم کہ ہیں کب سے در امید کے دریوزہ گر
یہ گھڑی گزری تو پھر دست طلب پھیلائیں گے
کوچہ و بازار سے چن چن کے ریزہ ر یزہ خواب
پھر وہی پہلے کی صورت جوڑنے لگ جائیں گے
Jan 102010
Recent Comments