کبھی پہلوانی بھی ہمارے کلچر کا حصہ تھی۔ شہروں سے لے کر دیہاتوں تک دنگل ہوا کرتے تھے۔ نیلی، پیلی، سبز، گلابی اوری پگڑیاں…چم چم کرتے رنگین ریشمی لاچے، موٹی موٹی گردنوں میں جھولتے نوٹوں کے ہار، صحت مند بازؤں میں کسے چرمی تعویذ، ٹانگوں کی قطاریں، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے، رقص اور دیواروں، درختوں پر چسپاں پوسٹرز جن پر مختلف پہلوان لنگوٹ پہن کر گرز لئے کھڑے ہوتے اور اس قسم کی تحریریں پڑھنے کو ملتیں۔
دتو پہلوان امرتسری پٹھا چھما پہلوان سوجی والا۔
بالمقابلہ۔
گوگا پہلوان ریڑھے والا پٹھا گونگا پہلوان چکی والا۔
یہ کشتیاں، یہ دنگل دراصل دو افراد نہیں دو”اداروں“ کے درمیان ہوتے جن میں استادوں کا حوالہ بھی شامل ہوتا۔ یاد رہے کہ ہر اکھاڑہ ایک باقاعدہ ادارہ ہوتا جس کی اپنی تاریخ ہوتی اور وہ کسی بڑے نامی گرامی استاد پہلوان کے نام سے جانا جاتا۔ سیاسی زبان میں سمجھاؤں تو زیادہ بہتر ہوگا اور بہتر طور پر سمجھ بھی آئے گا یعنی یوں سمجھ لیں۔
آصف زرداری پہلوان پٹھا ذوالفقار علی بھٹو پیپلز پارٹی والا ۔
بالمقابل۔
نواز شریف پہلوان پٹھا جنرل ضیاء الحق جالندھری۔
پہلوانی کے اس کلچر میں ”نورا کشتیاں“ بھی ہوتی تھیں جسے بعد ازاں کرکٹ میں میچ فکسنگ متعارف ہوئی اور پہلوانوں کی دنیا میں درشنی پہلوان بھی ہوتے جو
پہلوان نہ ہوتے ہوئے بھی پہلوان دکھائی دیتے۔ مختلف قسم کے لوگوں کو مختلف وجوہات کی وجہ سے بھی پہلوان کہا جاتا اور کبھی کبھی یہ اصطلاح کن ٹٹوں، بدمعاشوں ، رنگ بازوں اور منشیات فروش ٹائپ لوگوں کے لئے بھی استعمال ہوتی۔
عشروں پہلے کے لائلپور حال فیصل آباد کاکڑچ پہلوان بھی باقاعدہ پہلوانی کئے بغیر ہی شہر بھر میں پہلوان کے طور پر مشہور تھا اور مجھے یقین ہے کہ اس زمانے کے لوگ بھی کڑچ پہلوان کے اصل نام سے واقف نہ ہوں گے۔ شاید وہ خود بھی بھول چکا ہو۔
پہلوانی زور آوری، قوت برداشت، پھرتی اور داؤ پیچ وغیرہ کا مجموعہ ہوتا تھی اور غالباً اسی لئے کڑچ پہلوان بغیر کشتی لڑے بطور پہلوان مشہور ہوا تھا کیونکہ اس کی طاقت، قوت برداشت اور تکنیک حیرت انگیز بے مثال اور لاجواب تھی اور یہی کڑچ پہلوان کا پیشہ بھی تھا اور وجہ شہرت بھی۔
کڑچ پہلوان سربازار سٹول پر براجمان ہوتا۔ آگے ایک چھوٹی سی ہوم میڈ میز دھری ہوتی۔ منچلے شہہ زور آتے اور میز پر غالباً 5روپے کا نوٹ رکھتے اور پھر پوری قوت سے کڑچ پہلوان کے منہ پر مکے مارتے چلے جاتے اور کڑچ پہلوان نوٹ اٹھا اٹھا کر جیب میں ڈالتا جاتا اور مخصوص رقم پوری ہونے پر دکان لپیٹ کر گھر چلا جاتا۔
چند روز قبل لائلپور جانا ہوا تو کڑچ پہلوان بہت یاد آیا اور پھر اچانک یہ خیال گزرا کہ اس ملک کے بیشتر سیاستدان بھی دراصل کڑچ پہلوان ہی ہیں۔ یہ سیاستدان نہیں، وہ فارچون ہنٹرز اور مہم جو ہیں جو نہ ہونے کے باوجود سیاستدان کہلاتے ہیں کہ سیاست تو بہت عالی دماغ لوگوں کا پیشہ ہوتا ہے جبکہ یہ عموماً موروثی قسم کے دیہاڑی دار لوگ ہیں جو کڑچ پہلوان ہی کی مانند مخصوص وقفوں کے بعد اپنے اپنے تھوبڑوں پر فولادی قسم کے گھسن مکے کھاتے ہیں… چند ارب ڈالروں کی دیہاڑی لگاتے ہیں اور عوام کا وقت برباد کرکے اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوجاتے ہیں اور چند سال بعد پھر کپڑے جھاڑ جھوڑ کر معزز سی شکلیں بنا کر دکان سجا لیتے ہیں۔
کڑچ پہلوان بھی پاپی پیٹ کی خاطر گھسن کھاتا تھا… یہ بھی کھاتے ہیں۔
وہ تھوڑا معاوضہ لیتا تھا… یہ اربوں میں دیہاڑیاں لگاتے ہیں۔
وہ بھی سروائیور تھایہ بھی سروائیور ہیں جو تھانہ سرور روڈ سے سیدھے وفاقی کابینہ میں پہنچ جاتے ہیں جیسے منظور وٹو کے سوٹ بوٹ دیکھ کریقین ہی نہیں آتا کہ یہی شخص کبھی پی آئی سی میں جعلی مریض بن کر منہ لٹکائے بیٹھا ہوگا۔
کڑچ پہلوان بہت بھگت چکے… کاش ہمیں کوئی سیاستدان بھی عطا ہو جائے
Recent Comments