| ایک بوڑھے شخص کو ہر صبح دریا کنارے جاکر گیان دھیان یا دوسرے لفظوں میں عبادت کرنے کی عادت تھی۔ ایک صبح اپنی عبادت سے فارغ ہوکر اس نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ ایک بچھو پانی کے رحم و کرم پر دریا میں ڈبکیاں کھاتا ہوا جارہا ہے۔ بوڑھے نے بے اختیار دریا کے اندر ڈوبے درخت کی شاخ کے سہارے آگے کو جھک کر بچھو کو پکڑنے کی کوشش کی تاکہ اسے اس بے رحم موت سے بچاسکے۔ بچھو آخر بچھو ٹھہرا۔ جیسے ہی بوڑھے کا ہاتھ بچھو سے مس ہوا، اس نے بے اختیار اس پر ڈنک مار دیا۔ تکلیف کی شدت سے بوڑھے نے تھوڑی دیر کے لئے تو ہاتھ کھینچ لیا لیکن پھر درخت کی شاخ کے سہارے سے آگے جھکا تاکہ اسے پکڑ کر باہر نکال لے۔ بچھو نے اس بار زیادہ زور سے اپنا ڈنک بوڑھے کے ہاتھ کی پشت پر اس طرح گاڑا کہ اس کا ہاتھ فوراً ہی سوج گیا اور تکلیف سے اس کا چہرہ سیاہ پڑگیا۔ایک راہگیر جو یہ سارا تماشا دیکھ رہا تھا، غصے سے بولا ”بڑے میاں پاگل ہوگئے ہو؟ کیا تم جانتے نہیں کہ اس زہریلے بچھو کے کاٹنے سے تمہاری موت بھی واقع ہوسکتی ہے؟ اس ناشکرے ، بدذات، بدشکل بچھو کو بچانے کا تردد صرف کوئی بیوقوف ہی کرسکتا ہے“۔ بوڑھے نے مڑ کر اس اجنبی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بہت اطمینان سے جواب دیا۔ ”بچھو کی توفطرت ہی ڈنک مارنا ہے لیکن اس کی اس عادت کی وجہ سے کیا میں اپنی فطرت بدل دوں؟ جو دوسروں کو مصیبت میں گرفتار دیکھ کر مجھے مدد کرنے پر مجبور کرتی ہے“۔کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہماری دنیا ایسے ہی دو قسم کے لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ ایک وہ جو موقع بے موقع ڈنک مارنے سے نہیں چوکتے اور دوسرے وہ جو کسی ذاتی مفاد یا نفع نقصان کی سوچ کے بغیر خلق خدا کی بھلائی اور مدد کے لئے ہر وقت آمادہ رہتے ہیں۔ بچھو کی فطرت والے لوگوں کو دیکھیں تو دنیا اور اس زندگی سے نفرت ہوجاتی ہے کیونکہ وہ اپنی فطرت سے مجبور نفرت کا زہر ہر طرف انڈیلتے رہتے ہیں۔ اس نفرت کی کئی شکلیں ہیں۔ وہ جو آپ کا حق مارتے ہیں ، آپ کو آپ کی محنت کا پورا صلہ نہیں دیتے، آپ کے خون پسینے کی محنت کو ہڑپ کرنا اپنا پیدائشی حق تصور کرتے ہیں، وہ جو زندگی کی ہر نعمت کو اپنے اور صرف اپنے تصرف میں رکھنے کی خواہش اور کوشش کرتے ہیں۔ ان سب باتوں کے لئے زندگی کے کئی میدان ہیں۔ تجارت پیشہ لوگ زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی ہوس میں، مذہب کے ٹھیکے دار اپنی دکان چمکانے کے لئے، تعلیمی میدان میں محض ذاتی فائدے اور اپنی حیثیت مضبوط کرنے کے لئے اور سیاسی زندگی میں کرسی اور صرف کرسی کے حصول کے لئے یا اسے قائم رکھنے کے لئے۔ یہ سارے بچھو دن رات دوسروں کو ڈنک مارتے اور اپنی اپنی نفرتوں کا زہر انڈیلتے رہتے ہیں۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ وہ زندگی جو ہمارا مقدر بنادی گئی ہے۔ کسی دن کا کوئی لمحہ نہیں جاتا۔ جب کہیں نہ کہیں سے کسی نہ کسی المناک واقعے کی خبر نہ آتی ہو۔ ابھی ایک سانحے سے ذہن پوری طرح سنبھلا نہیں ہوتا کہ دوسری بری خبر آپ کی منتظر ہوتی ہے۔ پہلے یہ صورت صرف حالت جنگ میں ہوتی تھی کہ روز کسی نہ کسی بری خبر سے واسطے پڑتا تھا یا پھر دل خوف سے دہلا رہتا تھا کہ خدا جانے اب کیا سننے کو ملے۔ اب تو ہر گھڑی، ہر پل ہی سانس روک کے رکھنا پڑتا ہے۔ کون جانے کب ، کہاں سے موت کی کالی آدھی، کبھی خودکش دھماکے کی صورت میں، کبھی ریموٹ کنٹرول بم کی شکل میں اور کبھی ٹارگٹ کلنگ میں گولیوں کی بوچھاڑ یا کسی ٹریفک حادثے کی صورت اختیار کرلے۔ بس وہ لمحہ غنیمت ہے جب ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ابھی ہم تو سانس لے رہے ہیں یعنی ابھی ہماری باری نہیں آئی لیکن کوئی بھروسہ نہیں۔ کون جانے کب اگلا نشانہ ہم ہی بن جائیں۔ اس لئے کہ بچھو تو سوچے سمجھے بغیر ہی ڈنک مارتا ہے۔لیکن ایک بات لائق شکر ہے کہ ڈنک مارنے والوں کے ساتھ ساتھ بچانے والوں کی بھی کمی نہیں۔ میں بچانے والے ان کو کہتی ہوں جو امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ زندہ رہنے کی جدوجہد کرنے والے اور برے سے برے حالات میں بھی اپنا حوصلہ قائم رکھنے والے ہی دراصل وہ بڑے لوگ ہیں جو زندگی کو زندہ رہنے کے قابل بناتے ہیں۔ اس کی بڑی مثال کراچی میں یوم عاشور کے سانحے کے بعد اجتماعی نماز جنازہ کے وقت دیکھنے میں آئی۔ اصولاً تو لوگوں کو ڈر دبک کر گھروں تک محصور ہوجانا چاہئے تھا لیکن انتہائی نظم و ضبط کے ساتھ ایک خلقت تھی کہ امڈی پڑتی تھی حالانکہ وہاں بھی کسی بچھو کے ڈنک مارنے کا کوئی سانحہ ہوسکتا تھا اور یہ کوئی خوشی یا رونق میلے کا سلسلہ بھی نہیں تھا کہ لوگ تفریحاً اکٹھے ہوگئے تھے۔ بچانے والوں کی دوسری کوشش۔ اس سانحے کے بعد جلائی گئی دکانوں کو نئے سرے سے تعمیر اور ترتیب دینے اور کاروبار شروع کرنے کی جدوجہد میں نظر آتی ہے یا ان حالات میں صحت مند تہذیبی اور ثقافتی سرگر میوں کے ذریعے لوگوں میں جینے کا حوصلہ قائم رکھنے والوں کی کوششوں میں نظر آتی ہے۔یہ کوششیں ایک پیغام ہے ان سب بچھوؤں کے نام کہ کرلو جو تم کرنا چاہتے ہو۔ موت تو برحق ہے اور وہ جسے اور جس وقت آنی ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ آپ کی ساری احتیاطیں اور تدبیریں دھری رہ جاتی ہیں۔ پھر کیوں نہ زندگی کو یوں گزارا جائے کہ آپ کی زندگیوں میں زہر انڈیلنے والے بھی شرمندہ ہوجائیں۔ اس بوڑھے کی کہانی سے میں نے تو یہی سبق سیکھا ہے۔ |
|
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=401190
Related posts:










Recent Comments