ہمیں حد سے بڑھتے ہوئے اپنے قومی غضب کا رخ واضح اہداف کی طرف کردینا چاہئے۔ چھوٹی سی بات پر طیش میں آجانا ہمارا وتیرہ بن چکا ہے۔ جذبات میں بے قابو ہونے سے پہلے ہمیں اپنے ذہن میں یہ بات صاف کرلینی چاہئے کہ ہم کس پر غصہ کررہے ہیں۔ بھارتی فوج کے چیف جنرل دیپک کپور نے ایسا کیا کہہ دیاتھا جس نے ہمیں اتنا زیادہ پریشان کردیا ہے؟ ان کا مبینہ بیان یہ تھا کہ بھارت اپنی فوج کے فلسفے میں تبدیلی کررہا ہے جس میں چین اور پاکستان کے خلاف دو جنگی محاذوں کو بھی شامل کیا جائے گا، اب اس میں کیا چیز غلط ہے؟
بھارت اور جنرل کپور کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بھارت کو ممکنہ خطرہ چین اور پاکستان سے ہی لاحق ہے، مالدیپ یا برما سے نہیں ۔ آخر کار کپور بھارتی فوج کے سربراہ ہیں پاکستانی فوج کے تونہیں۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہمیں خطرہ ازبکستان یا سری لنکا سے نہیں بلکہ بھارت سے ہے۔ اگر ایک بھارتی چیف اپنے سامنے دو جنگی محاذوں کے امکانات کو ذہن میں نہ رکھے اورجنگ شروع ہونے پر افسوس کا اظہار کرے تو بلاشبہ وہ برطرف کئے جانے کے قابل ہے جیسا کہ اگر جنرل اشفاق پرویز کیانی کی زیر قیادت کوئی فوجی آپریشن ڈائریکٹوریٹ پاکستانی فوج کے مشرقی اور مغربی سرحدوں کے دو محاذوں پر مشغول ہونے کے امکان کو نظر انداز کر رہا ہو تو وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر رہے ہوں گے ۔
فوجی منصوبہ بندی یقینی صورتحال کے لئے نہیں بلکہ ایسے حادثاتی واقعات جو کبھی بھی وقوع پذیر ہوسکتے ہیں کے بارے میں کی جاتی ہے کیونکہ غیر یقینی صورتحال کے اندر ہی گھات لگائے خطرات موجود ہوتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ جو پہلے سے مسلح نہیں ہوتے ان کے بارے میں تقدیر کا فیصلہ بھی پہلے ہی ثابت ہوجاتا ہے ۔ آیا بھارت ہم پر حملہ کرتا ہے یا نہیں یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ اپنی بداعتمادی کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو اسٹریٹجک ذہانت نہیں بلکہ یہ ایک عام احساس (Commen Sense)تھا جس کی بدولت ہی ہم نے جلد یا بدیر آنے والے ممکنہ خطرات کے لئے تیاری کی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا وہ اخبار تھا جس نے سب سے پہلے جنرل کپور کے بارے میں رپورٹ دی کہ ”اب منصوبہ بندی ایک آزاد اور اعلیٰ پیمانے پر متحرک جنگی گروپوں کو بنانے کی ہے۔ دشمن کے علاقے میں تیز رفتار حملوں کے لئے ان گروپوں کو 96گھنٹے کے اندر ائیر کور اور آرٹلری فائر کے حملوں کی سپورٹ بھی حاصل ہو سکے گی“۔
جنرل ہینز گڈریاں نے اس کی منظوری دے دی ہوتی۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ جرمنی کی Wehrmachtکے تیز رفتار حملوں کی استعداد سے بھی کچھ بڑھ کر چیز ہے۔ یہ بات بڑی حیران کن ہوگی بلکہ فرائض کی ادائیگی میں غفلت شمار ہوگی اگر جنگ پھوٹنے کی صورت میں روالپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز (GHQ) بالکل اسی طرح جنگ کو 96گھنٹے بلکہ اس سے بھی کچھ پہلے بھارت میں لے جانے کی صلاحیت حاصل نہیں کرلیتا۔
یہ شاید ستاروں کو تھامنے یا چاند کو پکڑنے کے مترادف ہے لیکن اگر ہمارے ہاں منصوبہ بندی کی کوئی اہمیت ہے تو ہمیں اپنی توجہ مکمل طور پر تکنیکی امور کی طرف مبذول کردینی چاہئے اور سرحد پار تیز رفتار جنگ شروع کرنے کی ایسی صلاحیت حاصل کرنا چاہئے جس کو ائیر فورس کی بھرپور طاقت کا سہارا بھی حاصل ہو ۔
فوج فتح اور تیز ترین فتح کے لئے منصوبہ بندی کرتی ہے وہ پچھتاوے اور پکنک پارٹیوں کے لئے منصوبے نہیں بناتی۔ کسی بھی پاک بھارت تصادم ، جوشاید کبھی بھی نہ ہو ، میں ہم بھارت کے جالوت کیلئے وہ داؤد  بنیں گے یا ہمیں داؤد  ثابت ہونا چاہئے جنہوں نے جالوت کو ختم کردیا تھا ، ہمیں ہر صورت بھارت کو شکست دینا ہوگی۔ اگر ہمیں زندہ رہنا ہے تو ہمیں لازمی طوپر داؤد  والا راستہ اپنانا ہوگا۔ ہماری بہادری اور فیصلہ کی صلاحیت ہی ہمارا ہتھیار ہے۔ایک بڑے دشمن کا مقابلہ کرنے کا صرف یہ ہی ایک طریقہ ہے۔ ہم خطرناک حالات میں رہ رہے ہیں۔ افغانستان اور وہاں پر امریکی موجودگی اور پہلے سے موجود جنگ اور بے وقوفیوں کے سبب وہاں پر جاری دہشت گردی کا بھلا ہو کہ اس کی وجہ سے ہمارا علاقہ کرہٴ ارض کا سب سے خطرناک خطہ بن چکا ہے لہٰذا کسی بھی چیز کو آسان سمجھنا ہماری لئے نہیں ہے لیکن جتنا ہم اپنے آپ کو بدترین لوگوں کے خلاف مسلح کررہے ہیں اتنا ہی کم ہم اپنے آپ کو اپنے دشمنوں کے الفاظ اور ذہنوں کو پڑھنے کے قابل کررہے ہیں۔
کئی سالہ آزادی کے بعد ہمیں چیزوں کو غیر جذباتی دیکھنے کے قابل ہو جانا چاہئے تھا۔ جنرل کپور جنگ کی ہواؤں کو چلانا نہیں چاہتے۔ وہ جنگ کی پیشکش کرنے کی سعی نہیں کررہے تھے اور ان حالات میں تو یہ ویسے بھی بڑا بے وقوفانہ عمل ہوگا۔ وہ اپنے ذہن میں بھارت کو درپیش خطرے کا تجزیہ کررہے تھے۔ جی ہاں انہوں نے بھارت کی تینوں مسلح افواج کے درمیان بہتر تعاون (جس کے لئے انہوں نے اشتراک کی بات کی ہے۔ اس میں غلط کیا بات ہے ؟ ہماری افواج بھی اپنے درمیان بہتر اشتراک عمل پیدا کرسکتی تھیں۔ انہوں نے بحر ہند میں بھارت کی اسٹریٹجک رسائی کو بڑھانے کی بات کی۔ اگر ہماری معاشی صورتحال اتنی بدتر نہ ہوتی اور ہم نے اپنے ملک میں ہی ایسی بدانتظامی پیدا نہ کی ہوتی تو ہوسکتا ہے ہم بھی آج خلیج فارس اور اس سے بھی آگے پہنچنے کی باتیں کررہے ہوتے اور کوئی بھی ہم پر الزام تراشی نہ کرتا۔ اب ہمارے پاس جو چیز موجود ہے وہ ہمارے بھیک کے کشکول کے ساتھ ہماری ایٹمی صلاحیت کا اشتراک ہے۔
چین اپنی بڑھتی ہوئی معیشت ہی کی بدولت سپر پاور کا درجہ پانے جارہا ہے اور 1964ء میں ہی ایٹمی طاقت بن گیا تھا لیکن ایک بڑی طاقت کے طور پر وہ دنیا کے نقشے پر انہی دنوں ابھرا ہے۔ جیسے جیسے بھارت کی معیشت ترقی کرے گی اس کی بڑی طاقت بننے کی خواہشیں بھی بڑھتی جائیں گی۔ اس کاجواب یہ نہیں ہے کہ یہ روٹھ کر چہرہ لال کرلیا جائے بلکہ دوسری چیزوں کے علاوہ اپنی معیشت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اپنے اکاؤنٹس میں توازن لانا ہمارا نمبر ایک مسئلہ ہے، درحقیقت یہ مسئلہ طالبان کے مسئلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اگر ہماری معاشی بنیادیں کمزور رہتی ہیں اور ہم اپنے بھیک کے کشکول کے سہارے ہی جیتے رہتے ہیں تو ہماری فوجی قوت ہمیں مضبوط ظاہر نہیں کرسکتی او ر نہ ہی ہمارے لئے کچھ اچھا کرسکتی ہے۔ پچھلے سال نومبر میں بھی پاکستانی میڈیا غصے میں جنرل کپور پر برسا تھا اس کی وجہ ان کا یہ کہنا تھا ” بھارتی برصغیر میں ایٹمی ہتھیاروں کے سائے میں محدود جنگ کے امکانات موجود ہیں “۔
اس میں کوئی بات بھی غلط نہیں ہے۔ ہم لوگوں نے اتنی بڑی فوج کس لئے رکھی ہوئی ہے؟ اگر بھارت کے ساتھ روایتی جنگ کے خطرات موجود نہیں ہیں تو ہمیں چاہئے کہ اپنی فوج کو آدھا کردیں اور بقیہ کو گھر بھیج دیں۔ بد قسمتی سے ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی نے بھی روایتی جنگ کے خطرے کو نہیں ٹالا ہے۔ برصغیر میں ابھی دانش اور سمجھداری کی سحر ہونا باقی ہے۔
یہ نہ بھولئے کہ کارگل جنگ بھی ایک دوسرے کی فوجوں کے خلاف ایک بھرپور جنگ نہیں تھی لیکن یہ ایک بڑی سنجیدہ جنگ تھی جس میں یہ امکان تھا کہ یہ جنگ دونوں ملکوں کے قابو میں نہ رہے ، کیا اس وقت آخر کار صدر کلنٹن نے ہماری فوری مدد کرتے ہوئے ہمیں آگ کے ان شعلوں سے نہیں نکالاتھا۔ پیشگوئی کے قابل اپنے مستقبل کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری قسمت میں بھارت کے ساتھ حساس تعلقات ہی لکھ دیے گئے ہیں ورنہ دانش اور ویژن ، جس کا دور دور تک نام ونشان نہیں، کے ذریعے ہم بھی جغرافیائی اور تاریخی تقاضوں سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ دنیا کے اسٹیج پر 60سال کے عرصے تک موجود رہنے کا تقاضا تھا کہ قوم پرستی کی حالتِ وبا سے چھٹکارا حاصل کرلیتے ۔ یہی جاگنے کا وقت ہے کہ ہم سرحد پار سے آنے والی چیزوں پر اطمینان کے ساتھ رد عمل ظاہر کریں اگرچہ یہ چیز کتنی بھی اشتعال انگیز ہو۔ اگر ہم اپنا ذہن دوڑاتے ہوئے 1998ء کا زمانہ یاد کریں تو ایٹمی دھماکوں کے فوراً بعد بھارت کے ایل کے ایڈوانی اور ان جیسے دوسرے رہنماؤں کی جانب سے بڑے اشتعال انگیز بیانات سامنے آرہے تھے ۔ ان بیانات کی وجہ قومی مورال بڑے برے طور پر متاثر ہوا۔ آخر کار ہمارا جواب بیانات دینا نہیں تھا بلکہ اپنے طرف سے بھی ایٹمی دھماکے کرنا تھا۔ لیکن اس مرتبہ میڈیا میں جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی اس بھارتی بیان کا جواب دے رہے ہیں۔
جنرل کپور کی دو جنگی محاذوں والے بیانات کو پاکستان میں اعلان جنگ کے طور پر پڑھا گیااور اس کا جواب دینے والا ہر شخص غصے اور خطرے کے الارم پر مشتمل بیان دے رہا ہے۔ مثال کے طور پر جنرل کیانی یہ دھمکی لیکر آئے۔ ”ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں روایتی جنگ کی باتیں کرنے والے بڑا خطرناک راستہ اختیار کررہے ہیں ، جس کے غیر ارادی اور ناقابل کنٹرول نتائج نکل سکتے ہیں“چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل طارق مجید کی طرح وزیرخارجہ کا چہرہ بھی غصب ناک تھا۔
کیا یہ سب بیانات ضروری تھے؟ کیا ہم ایک ایسی غیر محفوظ قوم ہیں کہ ایک غلط سمجھا گیا بیان ہی ہمیں اتنا پریشان کرسکتا ہے؟ اگر ایک فوری جواب ضروری تھا تو انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ISPR) کی جانب سے ایک سطر کا بیان طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اس مقصد کے لئے کافی تھا۔”ہرشخص کوخواب دیکھنے کا حق حاصل ہوتا ہے“۔
الیگزینڈرا کے باپ فلپ نے سپارٹا کو ایک پیغام بھیجا۔” اگر میں لاکونیا (Laconia) میں داخل ہوگیا تو تم ختم کردیئے جاؤ گے“ ۔ اس نے جواب میں صرف ایک لفظ کہا۔ ”اگر“ ۔ جب فرینچ مارشل نے پیرس میں ولنگٹن کی مدد سے پیٹھ پھیر لی تو اس نے جواب میں محض یہ کہا ”میں ان کی پیٹھیں پہلے ہی دیکھ چکا ہوں“۔ اطمینان اور بہادری کی کاشت ہی ہماری قوم کے لہجے کو بدلے گی۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=400891

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha