میں اپنے بہت سے کالموں اور انٹرویوز میں یہ کہہ چکا ہوں کہ میاں محمد نواز شریف تمام تر پسندیدگی کے باوجود میری آئیڈیل شخصیت نہیں ہیں، میرے آئیڈیل قائد اعظم محمد علی جناح ہیں۔ میرے خیال میں فی الحال ہمیں آئیڈیل کی تلاش کے نام پر اپنا جمہوری سفر رائیگاں نہیں جانے دینا چاہئے۔ لڑکیاں اور قومیں اپنا آئیڈیل تلاش کرتے کرتے بوڑھی ہو جاتی ہیں اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ لڑکیوں کی ڈولی اور قوموں کا بوجھ اٹھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جو سیاسی قیادت ہمیں میسر ہے ، ان میں میرے نزدیک سب سے زیادہ قابل قبول قیادت میاں نواز شریف کی ہے۔ وہ بے رحم اور سفاک سیاستدان نہیں ہیں جو قوم کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیں۔ محب وطن تو ہماری ساری قیادت ہے لیکن نازک لمحوں میں اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر عملی حب الوطنی کا ثبوت دینا فی زمانہ دل گردے کا کام ہے اور میاں صاحب متعدد مواقع پر یہ ثبوت فراہم کرتے رہے ہیں۔ ان کے بدترین دشمن جنرل پرویز مشرف جو بقول پی پی پی کی حکومت کے وزیر اطلاعات جناب قمر الزمان کائرہ، انہیں قتل کرا دینا چاہتے تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے بھی میاں صاحب کی حب الوطنی کا اقرار کیا۔
ہمارے بیشتر سیاستدانوں کی طرح میاں نواز شریف نے بھی اپنی عمر کا ایک حصہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی گود میں گزارا لیکن جب ان کے پاؤں زمین میں پوری طرح جم گئے اور قوم نے انہیں 97ء میں بھرپور مینڈیٹ دیا تو اسٹیبلشمنٹ سے ان کی راہیں ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئیں چنانچہ انہیں اور ان کے خاندان کو اس کا خمیازہ ہتھکڑیوں، جیلوں، عقوبت خانوں اور دربدری کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ وہ چاہتے تو اس راہِ پُرخار سے اپنا دامن بچا سکتے تھے، اس کے لئے انہیں صرف ان تین باوردی اور مسلح جرنیلوں کی طرف سے دیئے گئے صرف ایک کاغذ پر دستخط کرنا تھے لیکن انہوں نے حکومت کو ٹھوکر ماری اور کاغذ کو بھی ہاتھ سے پرے دھکیلتے ہوئے کہا ”ایسا صرف میری لاش پر ہی ہو سکتا ہے!“ اس نافرمانی کے بعد میاں صاحب پر مقدمات قائم کرنے کے لئے کئی تحقیقاتی ٹیمیں وجود میں آئیں تاکہ ان پر کرپشن، لوٹ کھسوٹ اور مالی بدعنوانیوں کے مقدمات قائم کئے جا سکیں لیکن جب کچھ ہاتھ نہ آیا تو ملک کے وزیراعظم پر آرمی چیف کا طیارہ ہائی جیک کرنے کا مضحکہ خیز مقدمہ دائر کیا گیا۔ یہ دنیا کا واحد ”ہائی جیکر“ تھا جس نے زمین سے فضا میں پرواز کرنے والا طیارہ ” ہائی جیک“ کیا۔ مقصد صرف ہی تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے اس باغی کو ”غداری“ کے اس مقدمے میں پھانسی دلوا کر ہمیشہ کے لئے اس سے نجات حاصل کر لی جائے لیکن بھلا ہو جج رحمت جعفری کا کہ اس نے ایسا فیصلہ سنایاجس سے اس کی اپنی جان بھی بچ گئی اور میاں صاحب بھی پھانسی پر نہ چڑھائے جا سکے بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ فیصلہ اس حکمت سے تحریر کیا گیا تھا کہ اس سے مقدمے کا سارا کھوکھلا پن واضح ہو گیا!
سو پرویز مشرف کی حکومت میں نو سال تک تمام تر مغزماری کے باوجود جس شخص پر مالی بدعنوانی کا کوئی مقدمہ قائم نہ ہو سکا، اس کا ذکر ہم اگر بدنامِ زمانہ کرپٹ سیاستدانوں کے ساتھ کریں اور انہیں ایک ہی ترازو میں تولیں، تو میرے خیال میں یہ ناانصافی ہو گی۔ میاں نواز شریف نے حامد میر کو دیئے گئے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں ایک بہت خوبصورت بات کہی اور وہ یہ کہ ”ہمارے ہاں تو سیاسی خاندانوں نے حکومتوں کو لوٹا ہے لیکن ہمارا خاندان واحد خاندان ہے جسے حکومت نے لوٹا“ اس کی ایک مثال تو ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں ان کے خاندان کی عمر بھر کی کمائی ان سے چھیننے کی صورت میں سامنے آئی جب ان کی فیکٹریاں حکومت نے ایک دھیلے کی ادائیگی کے بغیر اپنے قبضے میں لے لیں اور دوسرا واقعہ بے نظیر بھٹو شہید کی حکومت کے دور کا ہے جب ان کا سکریپ لانے والے بحری جہاز جوناتھن کو لنگر انداز نہیں ہونے دیا گیا اور یوں اس ”سستے زمانے“ میں انہیں کروڑوں روپوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے باوجود اس خاندان نے ”پاکستان نہ کھپے“ کا نعرہ نہیں لگایا بلکہ تنکا تنکا جوڑ کر دوبارہ آشیانے کی تعمیر شروع کر دی لیکن پرویز مشرف کی آمد پر انہیں ایک بار پھر شدید مشکل حالات سے گزرنا پڑا۔ ان کے خاندان کو اپنا کاروبار حمزہ شہباز (جو اس وقت ایک ناتجربہ کارنوجوان تھا) کے سپرد کر کے جدہ جانا پڑا جہاں انہیں سرکاری مہمان کی حیثیت دی گئی اور ان کے لئے آسائش و آرام کے وسائل مہیا کئے گئے لیکن کچھ عرصے بعد میاں محمد شریف مرحوم نے سعودی حکومت کی میزبانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ، جس پر انہیں جدہ میں اسٹیل مل لگانے کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ اس کے لئے پیسہ کہاں سے آیا؟ اگر تو یہ قوم کا لوٹا ہوا پیسہ تھا تو میاں نواز شریف کا ذکر انہی سیاستدانوں کے ساتھ آنا چاہئے جو ملک کو لوٹتے چلے آئے ہیں اور اگر یہ پیسہ ان کی اپنی محنت سے کمایا ہوا تھا تو پتہ کرنا چاہئے کہ یہ منی لانڈرنگ کے ذریعے جدہ لایا گیا یا اس کے لئے قانونی طریق کار اختیار کیا گیا تھا تاہم دعووں کے لئے مفروضے نہیں ثبوت سامنے آنا ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ ایک بات اور! اور وہ یہ کہ قوم کا لوٹا ہوا پیسہ باہر لے کر جانا اور اپنی خودی کی حفاظت کے لئے اپنا پیسہ بیرونِ ملک منتقل کر کے اپنی روزی کے ذرائع پیدا کرنا، کیا یہ دونوں یکساں جرم ہیں؟ اور کیا اس کی سزا یہ ہے کہ دونوں کو بیک جنبش قلم گردن زدنی قرار دے دیا جائے؟ میرے خیال میں ہمیں اس پر بھی ضرور غور کرنا چاہئے! ہمارا ملک برس ہا برس سے نازک دور سے گزر رہا ہے لیکن موجودہ حالات تو وطن عزیز کے مستقبل کے سامنے سوالیہ نشان بنائے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں قوم کو امید دلانے کی ضرورت ہے اور اسے یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ جب تک ایک بڑا عوامی انقلاب ہماری قسمتوں کے مقفل در نہیں کھولتا ۔ اس وقت تک ہمیں اپنے جمہوری سیاستدانوں کی لغزشوں اور گناہ کبیرہ کو الگ الگ ترازو میں تول کر عوام کے سامنے پیش کرنا چاہئے۔ تاکہ وہ کسی سے تو امید کا رشتہ قائم رکھیں۔ ہم میں سے کوئی بھی ولی اللہ نہیں ہے، نہ سیاستدان اور نہ ہم کالم نگار اور نہ قوم کا کوئی اور طبقہ لیکن آپ یقین کریں ایک بڑا عوامی انقلاب مسلسل جمہوری عمل کے ذریعے ہمارے ہی ہاتھوں سے جنم لے گا۔ اس میں تھوڑا سا وقت زیادہ لگے گا ، لیکن یہ پائیدار انقلاب ہو گا، ہم سب کو اس انقلاب کے لئے راہ ہموار کرنا چاہئے، اس کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اگر کوئی ہو سکتی ہے تو وہ صرف مایوسی ہے، ہر ایک سے مایوسی! اگر ہو سکے تو ہمیں اس سے بچنا چاہئے! آئیڈیل کی تلاش میں لڑکیاں اور قومیں
بوڑھی ہو جاتی ہیں اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ لڑکیوں کی ڈولی اور قوموں کا بوجھ اٹھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔
Recent Comments