پاکستان کے تیزی سے تبدیل ہوتی سیاسی تاریخ کے معیار کے باوجود 2009ء بد نظمی اور افراتفری کا سال ثابت ہوا،سال کے زیادہ تر حصے میں تذبذب کے عالم میں رہی اور مشکلات سے دوچار ملک لڑکھڑاتا ہواایک کے بعد ایک چیلنج سے نبرد آزما ہوتا رہا،یہ سال جس میں امید سے زیادہ مایوسی چھائی رہی اور اس دوران قیادت کا کالعدم ہونا موضوع بحث بنا رہا۔سال کے اختتام پر پاکستان سپریم کورٹ کی جانب سے قومی احتساب آرڈیننس کو آئین سے بالاتر قرار دینے کی وجہ سیاسی بے یقینی میں گھر گیا۔حکومت کی جانب سے کی گئی اس اعلانیہ نافرمانی اور اس کی جانب سے سندھ کے جذبات ابھارنے کی کوشش سے ایک یقینی طوفان سامنے کھڑا نظر آرہا ہے اور اس کے نتیجے میں نظام حکومت میں طویل ٹھہراؤ کا خطرہ نظر آرہا ہے اور ساتھ ہی معطل ایگزیکٹو اور نئی طاقتور عدلیہ کے درمیا ن تصادم کا خطرہ بھی موجود ہے۔عدلیہ کی جانفشانی کے اظہارکے جواب میں منقسم سیاسی ردعمل سامنے آیا اور اسی بنا پر پی پی کی اتحادی حکومت کو ”مخصوص عدلیہ “پر انگلی اٹھانے کا حوصلہ ملا اور خود کو مظلوم ثابت کرکے اپنے منتخب عہدیداران کے خلاف عوامی تنقید کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ اسی اثناء میں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے غیر متوقع طور پر ایک طبقے کی جانب تنقید کی گئی کہ اعلیٰ عدلیہ نے ریاست کے دیگر اداروں کے دائرہ کار میں مداخلت کی۔ایک سالہ عدالتی فعالیت کے حوالے سے نقادوں کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلے جیسے این آر او کی مستردگی ، معاف کئے گئے قرضوں کی تحقیقات ، چینی کی قیمت کا معاملہ اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے باز پرس کو عوام نے بہت سراہا ہے ۔
این آر او کے فیصلے کے بعد سیاسی چالوں اور زرداری کی حکومت کی جانب سے اس کی حمایت کی کوششوں سے حکومتی عدم تحفظ کا اظہار سامنے آیا ۔اس عدم اعتماد کا اظہار اس وقت کیا ہوا جب صدر کی جانب سے تنقید کو مسلسل سازشیں گردانا گیا۔اس کا ایک مظاہرہ صدر زرداری کی جانب سے بینظیر بھٹوکی دوسری برسی کے موقع پر کی گئی محاذ آرائی پر مبنی تقریر میں کیا گیا۔ان اقدامات نے ملک کو مستقبل کی بے یقینی کی کیفیت میں لا کر چھوڑدیا ہے ۔نئی دہائی کے آغاز میں بے چین سی خاموشی چھا گئی ہے۔اعصابی تناؤ کی شکار حکومت کی کیفیت کو این آر او کے فیصلے کے بعد آنے والے حالات نے مزید بگاڑ دیا اور عوامی سطح پر ملک کو درپیش لا تعداد چیلنجز کے حوالے سے خوف کی فضا پیدا ہو گئی۔عوام کا مزاج آہستہ آہستہ حکومت کی کارکردگی کی جانب سے مایوس ہونا شروع ہوا خصوصی طور پر پبلک پالیسی کے اقدامات میں بد ترین کارکردگی کی وجہ سے۔دی ( Pew)پیو آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق پچھلے 2سال کے مقابلے میں عوام 89فیصد زیادہ عدم اطمینان کا شکار ہیں۔انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹیٹیوٹ کی جانب سے کئے گئے ایک سروے سے بھی 84فیصد لوگوں کا یہی خیال تھا کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے۔
اگر حکومت قیادت فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے اور اس کے سیاسی حریف یہ خلا ء پر کرنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں یا ایسا نہ کرنا چاہیں تو یہ صورتحال مزید پریشان کن ہو جاتی ہے۔ مختلف سروے کئے جانے کے بعد یہ ثابت ہو گیا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں لیکن پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے فعال اور بامقصد حزب اختلاف کی اعلانیہ ہچکچاہٹ کے بعداور اہم ملکی معاملات پر خاموشی کی بنا پر عوام میں اس کی پسندیدگی اور مقبولیت میں کمی آرہی ہے اور پارٹی پر یہ تنقید بھی کی جارہی ہے کہ وہ ماضی کے مسائل میں ابھی تک الجھی ہوئی ہے۔حالانکہ ن لیگ کی جانب سے زرداری کو 17ویں ترمیم کے حوالے سے کئے گئے تمام وعدہ خلافیاں ہر موقع پر یاد دلائی گئیں۔
گزشتہ سال پاکستان کی تاریخ کے بدترین سال کے طور پر ختم ہوا۔بم دھماکوں کے تسلسل نے ملک کو مسلسل اپنی لپیٹ میں لئے رکھا اور شہریوں کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی بم دھماکوں اور خودکش حملوں کا شکار ہوئے۔ 2001ء سے اب تک ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی ایک تہائی کارروائیاں صرف2009ء ہی میں ہوئیں۔اس طرح دہشت گردی سے مرنے والوں کی تعداد 10سال میں تقریبا ً 25ہزار سے تجاوز کر گئی۔پرتشدد واقعات کا بدترین ردعمل سوات اور جنوبی وزیرستان میں شرپسندوں کے خلاف ملکی تاریخ کی سب سے بڑی فضائی اور زمینی کارروائیوں کے بعد سامنے آیا۔حکومت کے ان اقدما ت سے ثابت ہوا کہ اس نے شدت پسندوں کا فوجی کارروائیوں کی مدد سے خاتمے کا مکمل فیصلہ کر لیا ہے ۔ اس طرح حکومتی رٹ بحال ہو گئی اور طالبان بھاگ گئے اور انتقامی کارروائیوں کے آغاز نے ملک کو ایک نئے چیلنج سے نبرد آزما کر دیا ہے۔فوجی آپریشن کے شاندار نتائج حاصل ہوئے ،سوات اور ملاکنڈ میں لاکھوں بے گھر ہونے والے افراد واپس آکر آباد ہوئے لیکن ان علاقوں کا کنٹرول حاصل کئے جانے کے بعد اس کے برقرار رکھنے کے معاملے پر ابھی بھی سوالیہ نشان ہیں اور تعمیراتی حوالے سے بھی کارکردگی اطمینان بخش نہیں۔سال کے اختتام پر آپریشن کا دائرہ کار اورکزئی اور خیبر ایجنسی تک بڑھا دیا گیا لیکن خدشات اب بھی باقی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ یہ دہشت گرد بکھر گئے ہیں یا ان کا خاتمہ ہو گیا ہے اور اگر یہ ختم نہیں ہو رہے ہوں تو اس کا مطلب ہوا کہ پاکستان کو اس ضمن میں طویل جدوجہد درکار ہوگی۔فوج کی کوششیں اس طرح بھی بے اثر ہو سکتی ہیں کہ نئے سال کے آغاز میں امریکی صدر کی جانب سے خطے کی حکمت عملی کے حوالے سے فوج کو بڑے پیمانے پر متعدد علاقوں میں پھیلا دیا جائے۔
واشنگٹن کی فوج کی جانب سے کارروائیوں میں اضافے اور قبائلی علاقوں میں ڈرون میزائل حملوں کے اشاروں نے ملک کو مزید عدم استحکام کا شکار ہونے کے خدشے کا اظہار کر دیا ہے۔حکمت عملی پر نظر ثانی کیلئے اسلام آباد کے تحفظات واشنگٹن تک پہنچا دیئے گئے لیکن نئے پالیسی کے اظہار یا سامنے آنے سے پاکستان کو اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اس موقع پر جب دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بہتر ہونی چاہئے تھی لیکن ہوا اس کے بر عکس۔اس کا بھرپوراظہار پاکستان میں کیری لوگربل کے بعد سامنے آنے والے ردعمل سے ہو گیا تھا۔مزید امداد کو شرائط سے مشروط کردینے کو پاکستان نے ملکی معاملات میں دخل اندازی سے تعبیر کیااور اسے ملکی سا لمیت پر پابندی سمجھا گیا۔2009ء میں پیش آنے والے حالات و واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ آنے والے سال میں تعلقات ایشوز کی بنیاد پر پرکھے جائیں گے،جیسے افغانستان کو مستحکم کرنے کا نقطہ نظر ،جنوبی وزیرستان کے معاملے سے نمٹنا،دہلی کابل اور واشنگٹن کے پنپتے ہوئے رابطے، واشنگٹن کی جانب سے پاک بھارت کشیدگی کے ماخذات کو زیر بحث لانے سے گریزکرنا۔تاریک سیاسی منظر نامے میں ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ پر صوبوں کے منتخب نمائندوں میں اتفاق روشنی کی چند کرنوں کی مانند ہے۔اس ایوارڈ پر ہونے والااتفاق رائے ایک ایسا عمل ہے جو گزشتہ دو دہائیوں میں وطن عزیز سے دور رہا اور یہ صوبائی رہنماؤں اور بالخصوص پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے جمہوری موافقت کے جذبے کے اظہا رسے ممکن ہوا۔
2009ء کی سب سے نتیجہ خیز پیشرفت مارچ میں چیف جسٹس کی بحالی تھی جو کہ ملک کی قانونی برادری ،سول سوسائٹی اور حزب اختلاف کی جانب سے دو سالہ طویل مہم کی فتح تھی۔اس مہم نے افتخار محمد چوہدری کو آزاد عدلیہ کیلئے عوامی خواہش کی علامت بنا دیا۔ اس مہم نے عدلیہ کوطاقت کا ایک خود مختار بنیاد بنا کر ملک کی سیاسی مساوات تبدیل کر کے رکھ دی۔اقتصادی منیجمنٹ درپیش چیلنجوں سے نمٹنے میں بدستور ناکام رہی۔اس نے ملک کے گہرے اقتصادی مسائل کی علامتوں سے نمٹنے کیلئے مزید بیرونی امداد کے تقاضے کی صورت اختیا رکی۔اس کا مطلب اسی بے توقیر روایت کا تسلسل تھاجو کم آمدنی ، ٹیکس بیس کی تنگی اور بجٹ و ادائیگیوں کے توازن میں خسارے جیسے ڈھانچہ جاتی عدم توازن پر فیصلہ کن حملے کیلئیبیرونی وسائل سے دستیاب ہونے والے مالیاتی امکانات کو استعمال نہ کر کے اپنائی جاتی رہی ہے۔اضافی داخلی وسائل کو متحرک کرنے کا کلچر اپنا کر بیرونی امداد پر غیر ضروری انحصار کی حکمت عملی میں کوئی خاص اعتبار سے تعطل نہیں آیا۔ساختیاتی مسائل سے نمٹنے کیلئے کسی طویل المدتی پالیسی کی بجائے ”استحکام “یاکرائسز منیجمنٹ کی حکمت عملی اپنانے سے ایک ایسا نا پائیدار انداز عیاں ہواجس سے غیر ملکی واجب الادا رقو م میں اضافہ ہوا اور میکرو اکنامک عدم توازن کا بحران حل کرنے کی بجائے محض ملتوی کر دیا گیا۔عالمی قوتوں کی جانب سے طاقت کا برملا اظہار اور ملک کی سیکورٹی کی صورتحال نے ٹوٹی پھوٹی معیشت پر اپنا طویل سایہ ڈالا۔بجلی کے بحران (جسے حکومت نے بجلی پیدا کر کے ختم کرنے کی بجائے جزوی اور متنازع طور پر رینٹل پاور پروجیکٹس کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی) نے بھی معاشی پریشانیوں میں اضافہ کیا۔اقتصادی تنزلی اور سیاسی مایوسی کے اس دور میں سال کاسب سے یادگار اور حوصلہ دینے والا لمحہ قومی کرکٹ ٹیم کی جانب سے 20ٹوئنٹی میں شاندار فتح کا لمحہ تھالیکن پھر بھی مایوس کن حقائق سے مفر ممکن نہ ہو سکا۔سابق کپتان یونس خان سے جب یہ پوچھا گیا کہ قومی ٹیم کیوں طویل عرصے سے ہارتی چلی آرہی ہے تو انہوں نے اختصار کے ساتھ اس کھیل پر قومی حالت کی تلخیص یوں کی کہ ”پاکستان میں جب کچھ بھی مستحکم نہیں تو کرکٹ کیسے ہو سکتی ہے

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=400329

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. ماضی کے سائے-ڈاکٹرملیحہ لودھی
  2. کیری لوگر بل اور ہماری حکومت-ڈاکٹرملیحہ لودھی
  3. اختلاف یا پالیسی سے انحراف-ڈاکٹرملیحہ لودھی
  4. نئے مذاکرات۔ پرانے خوف…ڈاکٹرملیحہ لودھی
  5. خوف کا سفر….ڈاکٹرملیحہ لودھی

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha