میاں شہباز شریف نے تھوڑا سا سبق سیکھا ہے، باقیوں نے نہیں۔ سیکھا ہوتا تو نوازشریف اپنے داماد کے بعد ان کے بھائی کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ عنایت نہ کرتے۔
کسی نے شترمرغ کی طرح آنکھیں بند کرلیں تو دوسری بات، ورنہ دونکات بالکل واضح ہیں۔ اوّل یہ کہ افواج پاکستان کو کبھی کسی حال میں مداخلت نہ کرنی چاہئے۔ ایک کے بعد دوسرا طویل اور تکلیف دہ تجربہ ہم نے کیا ہے۔ اگر اب بھی وہی غلطی کریں تو ایسے احمق ہوں گے، جو چوٹ کھانے والی جگہ پر چوٹ کھا کر رہے گا۔دوسری اتنی ہی تکلیف دہ اور تلخ حقیقت مگر یہ ہے کہ اکثر سیاستدانوں سے بھلائی کی کچھ زیادہ امید نہیں۔ ان میں سے اکثر خام جبلتوں سے پھوٹنے والی وحشیانہ امیدوں اور آرزوؤں کے ایسے خوگر ہیں کہ تقریباً ذہنی مریض ہو گئے۔سوال یہ ہے کہ ایسے میں قوم کیا کرے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ صبر سے کام لے۔ مجبوری کا صبر نہیں بلکہ صبرجمیل، جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رکھی جاتی ہیں اور جدوجہد جاری رہتی ہے۔ سیاستدانوں پر دباؤ رہے تو وہ معقولیت اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے وگرنہ الیکشن ہے، جس میں جرائم کی سزا دی جا سکتی ہے۔ خوش قسمتی سے تین ایسے ادارے اب موجود ہیں، جو سیاستدانوں کو راہِ راست پر رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اوّل میڈیا، ثانیاً وکلاء کی انجمنیں اور سب سے بڑھ کر عدلیہ۔ شرط مگر یہ ہے کہ وہ اپنی حدود سے تجاوز نہ کریں۔ جج وکیل اور اخبارنویس اگر اپنی اناؤں کو گنّے کا رس پلانے لگیں یا ان میں سے بعض اتھلے پانیوں میں مفادات کی مچھلیاں پکڑنے کی کوشش کریں تو نتیجہ اسی جنون کی شکل میں نکلے گا، سیاستدانوں میں سے بعض جس کا شکار ہیں۔ ذوالفقار مرزا نے معافی مانگ لی اور انہیں معاف کر دینا چاہئے مگر گورنر سلیمان تاثیر؟… فرمایا کہ نوازشریف تیسری بار وزیراعظم نہیں بن سکتے۔ دوبار تو گیلانی وزیراعظم رہیں گے، انکے بعد بلاول بھٹو تین بار اس منصب پر براجمان ہوں گے۔ خوب! کیاہم بھٹو خاندان کے زرخرید یا مزارع ہیں کہ وہ بلاول ہم پر لازماً حکمرانی فرمائے گا، جس کے بارے میں ہم کچھ جانتے نہیں اور جو ذرا سا جانتے ہیں، وہ کچھ ایسا خوشگوار نہیں۔ تین سو کینال زمین نواح اسلام آباد میں اس کے نام پر خریدی گئی اور اس پر شور مچا۔ خود زرداری صاحب کے سب سے بڑے حامی اخبارنویس نے احتجاج کیا کہ کم ازکم اس کمسن کو اس گھناؤنے کھیل سے باہر رکھا جائے۔ اللہ بڑا بے نیاز ہے، جس دن سلمان تاثیر نے تیسری بار کی وزارت عظمیٰ کا مذاق اڑایا، آئینی کمیٹی کے سربراہ نے اعلان کیا کہ اس حوالے سے آئین میں تبدیلی کا فیصلہ ہو چکا اور متفقہ طور پر ہو چکا۔ وزیر اعظم گیلانی نے اشارہ دیا کہ وہ اگلے الیکشن میں قومی اسمبلی کے امیدوار نہ ہوں گے۔ وہ جانتے ہیں اور تمام لوگ جانتے ہیں کہ اس وقت ن لیگ کی مقبولیت پیپلز پارٹی سے کم ازکم دوگنا زیادہ ہے، پھر سلمان تاثیر کس کو دھوکہ دے رہے ہیں، اپنے اپنے آپ کو یا دوسروں کو؟ مزید یہ کہ مڈ ٹرم الیکشن کا امکان ہر گزرے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ اب وزیر صدیق الفاروق صاحب کو ملاحظہ کیجئے۔ کوئی اخبار نویس سلمان تاثیر کو نمٹا دیتا مگر انہوں نے ایک عدد پریس کانفرنس کا اہتمام کیا۔ مطالبہ فرمایا کہ گورنر کا نفسیاتی معائنہ کرایا جائے۔ نفسیاتی معائنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ وہ کس مرض میں مبتلا ہیں۔ اقتدار اور دولت کی تمنا میں اعتدال اور دانش کا خاتمہ لیکن یہ تو فرمائیے کہ کیا نون لیگ کے لیڈر اس مرض میں مبتلا نہیں۔ نوازشریف خود اعتراف کر چکے کہ سعودی عرب میں ان کی ایک سٹیل مل ہے اور لندن میں جائیداد کی خریدو فروخت کا کاروبار۔
صدیق الفاروق بتائیں کہ کب، کس بینک کے ذریعے یہ روپیہ پاکستان سے قانونی طور پر جدہ اور لندن بھیجا گیا۔ پاکستانی عوام کو سیاسی لیڈروں نے کیا احمق سمجھ رکھا ہے؟… وہ زمانے لد گئے، نعرہ زنی کے زمانے لد گئے۔ اس خاندان کی طرح، جس کا سربراہ ظالم ہو اور آمدن کا بڑا حصہ آوارگی پرخرچ کر دیتا ہو، پاکستان کے عام آدمی نے حالات سے ایک طرح کا سمجھوتہ کر رکھا ہے، لیکن جیسے ہی راستہ دکھائی دیا اور انشاء اللہ جلد دکھائی دے گا، وہ جعلی لیڈروں کے خلاف اٹھے گا، جس طرح کہ تاریخ میں ہمیشہ اٹھتا رہا۔ عمران خان کی پالیسیوں میں زیادہ توازن ہوتا، وہ پارٹی کی تنظیم کر پاتے اور مشورے کا ادارہ وسیع اور کارگر ہوتا تو وہ بروئے کار آچکے ہوتے۔ اب بھی آ سکتے ہیں اور وہ نہیں تو اسی طرح کا کوئی اوربہادر آدمی آئے گا۔ جعلی سیاسی لیڈروں کی ایک عمر ہوا کرتی ہے۔ یہ عمرپوری ہونے والی ہے۔ پنجاب کے لافانی شاعر وارث شاہ نے کہا تھا:اس ہرن کی زندگی تمام ہو چکی، جو شیر کے گھاٹ پانی پیتی ہے۔ پاکستانی لیڈر مسلسل اور متواتر اپنی قوم کو دھوکہ دیتے آئے ہیں۔ ان کا یوم حساب آ پہنچا ہے اور اب کی بار فوج کی بجائے عوام کو ان کی قسمت کا فیصلہ کرناچاہئے۔ جنہیں زندہ رہنے کی آرزو ہے وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں گے اور تلافی کا پیمان  وگرنہ آئین اور قانون کی حدود میں رہ کر انہیں نمٹا دیا جائے۔ کسی صورت میں فوج نہ آنی چاہئے۔ فوج آتی ہے تو معاملات بگڑ جاتے ہیں۔ سیاستدان مظلوم بن جاتے ہیں اور ترس کھانے والی یہ قوم ترس کھا کر انہیں مہلت دیتی ہے… اور ہراحمق کی ایک علامت ہوا کرتی ہے، مہلت کو وہ نعمت سمجھتا ہے۔ وہ گمان کرنے لگتا ہے کہ دھوکہ دینے میں وہ کامیاب رہا اور آئندہ بھی کامیاب رہے گا۔ کوئی نہیں ہو سکتا، دوصدیوں سے اس صوفی منش حکمران ابرہام لنکن کا قول دہرایا جا رہا ہے: چند لوگوں کو آپ ہمیشہ کے لئے احمق بنا سکتے ہیں اور سب کو کچھ دن کے لئے مگر تمام لوگوں کو ہمیشہ کے لئے ہے بے وقوف نہیں بناسکتے۔
میاں شہباز شریف نے تھوڑا سا سبق سیکھا ہے، باقیوں نے نہیں۔ سیکھا ہوتا تو نوازشریف اپنے داماد کے بعد ان کے بھائی کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ عنایت نہ کرتے۔ کیا سلمان تاثیر سے وہ مختلف ہیں۔کیا وہ پاکستانی عوام کو یہ بتانے کی کوشش نہیں کر رہے کہ عقل و دانش سے محروم وہ حیوانوں سے ذرا ہی بہتر ہیں، ہمیشہ جنہیں بہلایا جا سکتا ہے، ہمیشہ جنہیں دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=400327

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha