استاد کہا کرتا تھا کہ جب ایک سے زیادہ موضوعات توجہ کا باعث بن جائیں تو پھر قلم کو کھلا چھوڑ دو یہ اپنا راستہ خود بنائے گا۔ آج میں بھی کچھ ایسی ہی کیفیت میں مبتلا ہوں کیونکہ ایک طرف مجھے کشمالہ طارق کا حنیف عباسی پر ”قابل دست اندازی“ حملہ کالم لکھنے کی دعوت دے رہا ہے تو دوسری صرف محترمہ عاصمہ کا اراکین پارلیمنٹ کو ”الو کے پٹھے“ کا خطاب قلم کو اپنی جانب کھینچ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مجھے زمانہ طالب علمی بھی یاد آ رہا ہے ۔ میں جب گورنمنٹ کالج لاہور کا طالب علم تھا تو ہمارے ہاں ہر سال تقریری مقابلوں میں ایک موضوع یہ بھی ہوتا تھا کہ
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
میں اس زمانے میں تو اس مصرعے کا زیادہ قائل نہیں تھا کیونکہ جوانی باغی ہوتی ہے اور اکثر وجود سے بھی انکار کر دیتی ہے اور پھر جوانی کی تصویر کائنات میں صرف اپنا ہی رنگ نظر آتا ہے لیکن جب سے میں نے جوانی کے گلستان سے نکل کر بڑھاپے کی سنگلاخ وادی میں قدم رکھا ہے اور بیک وقت بہت سے ٹی وی چینلوں پر رنگ برنگ زرق برق نورتوں کو آپس میں دست و گریبان ہوتے دیکھا ہے میں آہستہ آہستہ اس مصرعے کے مرکزی خیال کا حامی ہو گیا ہوں۔ زمانہ طالب علمی میں میں ہمیشہ اس موضوع کے خلاف بولتا تھا لیکن اگر اب مجھے موقع ملے تو میں اس موضوع کے حق میں اتنی زور دار تقریر کروں کہ خواتین بھی عش عش کر اٹھیں۔ ہمارے ٹی وی چینل اس کائنات کا چھوٹا سا حصہ ہیں اور بعض ٹی وی چینلز تو صرف ”وجود زن“ کی بدولت چل رہے ہیں اور اگر ان کی سکرینوں پر وجود زن نہ ہو تو شاید کوئی انہیں دیکھنا بھی گوارہ نہ کرے۔
پاکستان میں جب خودکش حملوں اور بم دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا تو کئی ماہرین نفسیات نے پیشین گوئی کی تھی کہ یہ دھماکے قوم کے اعصاب پر اثرانداز ہوں گے، لوگ چڑچڑے اور شارٹ ٹمپرڈ ہو جائیں گے ، قوت برداشت کمزور پڑ جائے گی اور آپس میں طعنہ زنی، ہاتھا پائی اور کبھی کبھی لڑائی مار کٹائی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن جائے گی۔ اس کے برعکس میں محسوس کرتا تھا کہ ماشاء اللہ ہماری قوم نہایت مضبوط اعصاب کی مالک ہے اور اس کی قوت برداشت قابل فخر ہے کیونکہ یہ قوم جمہوریت سے محبت کے تمام تر دعووں کے باوجود فوجی آمروں کو طویل طویل عرصوں تک برداشت کر لیتی ہے اس لئے یہ خودکش حملے اور بم دھماکے ہماری قوم کے اعصاب پر بوجھ بن کر اس کی قوت برداشت کو متاثر نہیں کریں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دو سال کی زندگی کے رنگ اور ہر روز زبانی جنگ کے مناظر دیکھ دیکھ کر میں محسوس کرنے لگا ہوں کہ نفسیات دان ٹھیک ہی کہتے تھے ورنہ پرویز مشرف کے دور میں یہی کشمالہ طارق کتنی صابر اور حوصلہ مند خاتون لگتی تھیں۔ اسی دور میں ایک روز ایک ٹی وی چینل پر کشمالہ طارق کو چودھری شجاعت حسین کے ساتھ محو گفتگو پا کر جہاں میں چودھری صاحب کو رشک کی نگاہوں سے دیکھتا رہا وہاں میں اس ”بے محل جوڑ“ پر ٹی وی چینل والوں کی بھی داد دیتا رہا۔ اس پروگرام میں ایک مقام پر چودھری صاحب نے نہایت بامعنی انداز میں کشمالہ طارق کی طرف دیکھ کر ذومعنی انداز سے فرمایا کہ پرویز مشرف آپ کی بڑی سفارشیں کرتے تھے اور آپ کو ٹکٹ دینے پر زور دیتے تھے تو مجھے خدشہ ہوا کہ اب محترمہ کشمالہ طارق بھڑک اٹھیں گی لیکن وہ بھڑکنے کی بجائے بھیگی بلی بن گئیں۔ اسی کشمالہ طارق کو میں نے مشہور وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے ٹی وی کی سکرین پر تقریباً دست و گریبان ہوتے دیکھا۔
ویسے یہ مقابلہ اس لحاظ سے خوب تھا کہ برابر کی چوٹ تھی اور دونوں طرف سے گالیوں کے خودکش حملے اور بم دھماکے دیکھے اور سنے جا رہے تھے۔ ابھی ان دھماکوں کی بازگشت ختم نہیں ہوئی کہ محترمہ کشمالہ طارق نے مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے حنیف عباسی پر پانی کا بھرا ہوا گلاس دے مارا۔ میں نے یہ خبر پڑھی تو دو باتوں کے لئے خدا کا شکر ادا کیا اوّل تو اس بات کے لئے کہ محترمہ کے پاس صرف پانی کا گلاس تھا ورنہ اگر ان کے پاس پستول ہوتا تو وہ بھی عباسی صاحب پر چلانے سے گریز نہ کرتیں کیونکہ غصے میں انسان اندھا ہو جاتا ہے اور دوم یہ کہ ان کا مقابلہ عباسی صاحب سے تھا جن کی جماعت کو پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے صابرین کا نام دیا ہے ورنہ اگر ان کی جگہ وہاں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ہوتیں تو وہ ساری کراکری اٹھا کر جوابی حملہ کر دیتیں اور یوں خون کی ندیاں بہہ نکلتیں۔ لگتا ہے کہ حنیف عباسی صاحب چوٹیں کھانے کے عادی ہیں اس لئے گلاس کے زخم کو مسکرا کر سہہ گئے۔ کچھ یہی حال محترمہ عاصمہ کا ہے جو انسانی حقوق کے جہاد کے لئے شہرت رکھتی ہیں اور تقریباً گزشتہ بیس پچیس برسوں سے حالت جنگ میں ہیں۔ قسم قسم کے الزامات سن کر بھی کبھی ان کے ماتھے پر شکن نہیں ابھری اور پرویز مشرف کے دور میں صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے بھی انہوں نے کبھی کسی کو الو کا پٹھا نہیں کہا لیکن اب انہوں نے پارلیمانی کمیٹی کے سارے اراکین کو یک جنبش زبان ”الو کے پٹھے“ کا خطاب عطا فرما دیا ہے۔ میں اب تک صرف خواتین کی نسوانی جنگوں کا ہی ذکر کرتا رہا ہوں ورنہ اس میدان میں مرد بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ ایک فوج کے سپہ سالار سلمان تاثیر صاحب ہیں تو ان کی مخالف فوج کی کمان رانا ثناء اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ”رانے“ عام طور پر جنگجو قسم کے لوگ ہوتے ہیں جبکہ سلمان تاثیر صاحب بھی ”اصلی تے وڈے“ جیالے ہیں۔ لگتا ہے کہ پنجاب میں گھمسان کا رن پڑنے والا ہے۔ میرے نزدیک یہ لڑائی مارکٹائی خودکش حملوں اور بم دھماکوں کی دین ہے جس نے قوم کی قوت برداشت ختم کر دی ہے۔ رہے عوام تو ان کی عجب حالت ہے۔ وہ خود کش حملوں اور بم دھماکوں کو دیکھ کر آنسو بہاتے ہیں اور خواتین اور سیاستدانوں کے دھماکوں پر ہنستے ہیں۔
نوٹ : میں نے گزشتہ کالم میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں گیس کا کوٹہ حاصل کرنے والوں میں جہانگیر بدر اور ڈاکٹر صفدر عباسی کے ساتھ بیگم اعتزاز احسن کا بھی نام لکھا تھا۔ اعتزاز احسن صاحب نے اس کی تردید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ انہوں نے اس قسم کی کوئی رشوت کسی حکومت سے نہیں لی ورنہ ان پر بھی مقدمات بنائے جاتے۔ گویا یہ اطلاع غلط خبر پر مبنی تھی جس کے لئے معذرت

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=400328

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha