پیر کے روز متحدہ عرب امارات کے شہر دوبئی میں دنیا کی بلند ترین آٹھ سو اٹھائیس میٹر اونچی عمارت کا افتتاح کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ مالیاتی بحران کی زد میں آنے والی معیشت پر قابو پانے کی ایک مثبت اور ”تعمیری“ کوشش ہے۔ اس مثبت اور تعمیری کوشش کے ذریعے عالمی اعزاز پانے پر ہم متحدہ عرب امارات کے لوگوں اور وہاں کے حکمرانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں اپنے وطن عزیز کے اندر منفی تعمیری کوششیں بھی یاد آتی ہیں جن کے خلاف پاکستان کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے اور اس اعلیٰ عدالتی فیصلے کے احترام میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ناجائز طور پر، بغیر اجازت کے، ماورائے اجازت یا بذریعہ درپردہ اجازت تعمیر ہونے والی عمارتیں گرانے کے فرائض میں مصروف ہیں۔ صحیح اندازہ تو نہیں ہے مگر ہوسکتا ہے کہ ان ناجائز تعمیرات کو اگر جمع کیاجائے یا تعمیر ہونے دیا جائے تو شاید لاہور میں بھی دوبئی کے ”برج خلیفہ“ جیسی دنیا کی بلند ترین عمارت تعمیر کی جاسکتی ہو ۔ لیکن یہ بات تو درست ہوسکتی ہے کہ ہر خوش نصیبی (فارچون) کے پیچھے کوئی نہ کوئی جرم ضرور ہوتا ہے۔ مگر جرائم کے ذریعے دنیا کا کوئی مثبت اعزاز حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ ٹیڑھی اینٹ سے شروع ہونے والی کوئی عمارت اول تو اپنا وجود ہی برقرار نہیں رکھ سکتی اور اگر اپنا وجود برقرار بھی رکھ سکے تو اوج ثریا تک بھی ٹیڑھی ہی رہے گی۔
اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اورٹیلی ویژن چینلوں کے ”رواں تبصرے“ سے پتہ چلتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب پر ناجائز تعمیرات کے ذریعے کھڑے کئے جانے والے ”برجوں“ کو گرانے سے گریز کرنے کا دباؤ ڈالا جارہا ہے اور یہ دباؤ ڈالنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو قانون کی بالادستی اور حکمران کے حق میں باتیں کرتے ہیں اور عدالت ِ اعلیٰ اور عدالتی عظمیٰ کے فیصلوں کا احترام کرنے کی تلقین بھی کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عدالتی فیصلے کے استحکام کی تکمیل کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے اور بہت معقول لگتا ہے کہ ایک خاص اونچائی سے زیادہ بلند عمارتیں تعمیر کرنے کے لئے کسی ”سٹرکچرل انجینئر“ کی طرف سے منظوری کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ منظوری دینے سے پہلے ایسے انجینئرز بے شمار احتیاطی تدابیر اختیارکرنے کی یقین دہانی چاہتے ہیں جن کے بغیر ایسی عمارتیں گرد و نواح کی تباہی اور بربادی کا سبب بن سکتی ہیں۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ لاہور کے ترقیاتی ادارے کے پاس ایسا کوئی ”سٹرکچرل انجینئر“ ہی نہیں ہے جو ایک خاص حد سے زیادہ اونچی عمارتوں کی منظوری دے سکے مگر سوچنے کی بات ہے کہ وطن عزیز میں آج تک جو کچھ ہوا ہے کیا وہ کسی اصول ضابطے، قانون اورقاعدے کے تحت ہوا ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے۔ پاکستان کی قومی زندگی کے 63 سالوں میں سے 34سال براہ راست فوجی حکمرانوں کے تحت گزرے ہیں اور فوج کے قوانین اورقاعدوں کے تحت ایئرفورس کے لوگ نیوی کے فرائض سرانجام نہیں دے سکتے اور بری فوج ایئرفورس کے کام نہیں کرسکتی مگر بعض طالع آزما جرنیلوں کے خیال میں ہماری افواج معیشت، صنعت، تجارت، آئین سازی، تعلیم اور صحت کے تمام شعبوں میں اپنے جواہر قابل دکھا سکتی ہیں تو پھر اس ملک میں اونچی عمارتیں تعمیر کرنے کے لئے کسی قابل اور سند یافتہ سٹرکچرل انجینئر کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے؟
دیوتا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جب کسی غریب دھوبی پر مہربان ہوتے ہیں تو پہلے اس کے گدھے کو گم کرتے ہیں اورپھر گدھے کی تلاش کے سلسلے میں اس کی مدد فرماتے ہیں جس پر وہ غریب دیوتا کی خلوص دل سے پوجاکرتا ہے اور شکر گزار ہوتا ہے۔ گدھے کی تلاش کے سلسلے میں ایک اور کہاوت بھی ہے کہ کسی غریب آدمی کا گدھا گم ہو گیا اور تلاش بسیار کے باوجود نہ ملا تو وہ کسی سیانے کے پاس گیا اورگدھے کی تلاش کے سلسلے میں مفید مشورہ مانگا۔ سیانے نے مشورہ دیا کہ اگر تم گدھے کی تلاش کرنا چاہتے ہو تو تھوڑی دیر کے لئے اپنے آپ کو گدھا سمجھو۔ غریب آدمی نے اس مشورے پر عمل کرتے ہوئے اپنے آپ کو گدھا سمجھنا شروع کرد یا اور پھر سیانے نے کہا کہ اب سوچو کہ تم کہاں جاسکتے ہیں؟ غریب آدمی نے بطور گدھا جہاں جانے کا سوچا گدھا بھی وہاں ہی کھڑا تھا۔
ناجائز تعمیرات کے بعض ماہرین یا سیانوں کا کہنا ہے کہ ناجائز عمارتیں گرانے کی بجائے ان کے ناجائز حصوں پر جرمانہ وصول کیا جائے یا حکومت ان عمارتوں کے ناجائز طور پر تعمیر کئے گئے حصوں کو اپنی تحویل میں لے کر وہاں اپنے دفاتر قائم کردے۔ یہ بالکل گدھا بن کر گدھے کی تلاش میں کامیاب ہونے کا مشورہ ہے۔ پاکستان میں آج تک جو بھی ناجائز کام ہوئے ہیں ایسے ہی مشوروں کے تحت ہوئے ہیں جن کا لب لباب یہ ہوسکتا ہے کہ:
رشوت لیتے پکڑا گیا تھا
رشوت دے کر چھوٹ گیا
Recent Comments