تفصیلی ملاقات کے بعد جب اس نے رخصت کی اجازت چاہی تو پادری نے اسے باہر جانے کے لئے پچھلی طرف کادروازہ دکھایا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا…”ذرا جھک کر جانا“فرنیکلن جلدی میں بات نہ سمجھ سکا اور تیزی سے نکلتا چلا گیا۔راستے کے اوپر ایک شہتیر بڑھا ہوا تھا۔اس کا سر بری طرح اس سے ٹکرایا تو پادری نے کہا…”زندگی کی منزلوں کو طے کرتے ہوئے جھکنا بھی سیکھ لو گے تو بہت سی ٹھوکروں اور چوٹوں سے بچ جاؤ گے لیکن مناسب موقع پر جھکنے کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ ہم اسے آسانی سے سیکھ سکیں، جب کوئی شخص تمہارے سامنے غیظ و غضب میں ہو اور تم جانتے بھی ہو کو وہ غلطی پر ہے اور غیر معقول رویہ اپنائے ہوئے ہے تو بھی یہ حماقت ہی ہوگی کہ تم بھی اسی طرح جوش میں آجاؤاور اگر تم ایسا کرتے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک کی بجائے دو پاگل ہوگئے۔تند و تیز طوفان کے آگے جھک جانا ہتک آمیز نہیں جیسے مست سانڈ کے مقابل آجانا، پاگل کتے کے سامنے غرانا، زخمی ناگ سے پنجہ آزمائی کرنا بدترین حماقت ہے۔ غلطی کے جواز میں وجوہات گنوانا غلطیوں کی تعداد میں اضافہ کردیتا ہے“۔
ہمارے سیاستدانوں نے کتنے دھکے کھائے؟کیسی کیسی ذلتیں اور صعوبتیں برداشت نہیں کیں؟کون سا کشٹ ہے جو ان بدنصیبوں نے نہیں کاٹا لیکن مجال ہے جو کچھ سیکھا ہو تقریباً دس سالہ ”بے دخلی“ کے بعد انہیں اپنے”کھیل“ اور’ ’ مخصوص میدان“ میں آنے کا موقع ملا تو ذرا دیکھئے تو سہی ان کے انداز، اطوار، اسلوب ا ور تیور کیسے ہیں؟
وہی لہجے…وہی حرکتیں…وہی سازشیں… وہی جوڑ توڑ… وہی بڑھکیں… وہی منافقتیں… وہی ڈبل سٹینڈرڈز اور وہی ٹنل وژن کرناک کے آگے نظر نہیں آرہا ۔
نہ تحمل نہ تجمل نہ تفکر نہ توازن نہ تدبر اور نہ عوام کے اصلی اور بنیادی مسائل سے رتی برابر دلچسپی۔ اس اجارہ دارانہ، سرمایہ دارانہ، جاگیردارانہ اور خاندانہ قسم کی نام نہاد جمہوریت نے اب تک عملاً عوام کو دیا کیا ہے؟؟؟
مزید کنفیوژن
مزید غیر یقینی پن
مزید مہنگائی، غربت، بے روزگاری، بے بسی اور بیچارگی
مزید عدم تحفظ
مزید مایوسی
حماقتوں کے ان”ہیوی ویٹس“ کو کوئی سمجھائے کہ چشمے سے پہلے پانی کی نہایت پتلی سی دھارہی نمودار ہوا کرتی ہے، پھر یہ دھار چشمہ بنتی ہے اور چشمہ نالے کا روپ دھار لیتا ہے اور پھر یہی نالہ دریا بن جانے کے بعد سمندر کی رونق بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔
پانی کی یہ سب دھاریں…یہ چشمے…یہ نالے اور دریا نہیں جانتے کہ سمندر میں گم ہونے کو ہیں اور ان کی ”گمشدگی“ پر کوئی یہ بھی نہ کہے گا کہ
”عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہوجانا“
اک اور شاعر غالباً نجیب احمد نے کہا تھا
کھلنڈرا سا کو ئی بچہ ہے دریا
سمندر تک اچھلتا جارہا ہے
یہ سب دریا نہیں جانتے کہ اگر دماغ استعمال نہ کئے تو یہ کسی سمندر میں گم ہوجائیں گے اور ان کا نام و نشان بھی باقی نہ رہے گا۔پہلے کے کشٹ تو دس بارہ سال تک ہی محدود ہوتے تھے لیکن اب؟
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
میں نے کالم کا آغاز فرنیکلن کو پیش آنے والے ایک مشہور واقعہ سے کیا تھا تو چلتے چلتے فرنیکلن کے چند جملے بھی چکھ لیں۔
”تجربہ ایک اچھا استاد ہے لیکن اس کا معاوضہ بہت بھاری ہوتا ہے“۔
”آگ پانی سے بجھ سکتی ہے، بارش چھتری سے روکی جاسکتی ہے، ہاتھی آنکس سے مطیع کیا جاسکتا ہے لیکن احمقوں کی حماقت کا کوئی علاج نہیں ہوتا“۔
”مذہبی لوگوں کا روزگار بھی گنہگا ر ہی مہیا کرتے ہیں“۔
”مخلوقات میں قوانین قدرت کی سب سے زیادہ خلاف ورزی اشرف المخلوقات نے کی ہے“۔
پاؤں کی لغزش کے بعد تو سنبھلا جاسکتا ہے لیکن زبان کی لغزش کے بعد سنبھلنا ممکن نہیں“۔
”تمہارے نصیب سو بھی رہے ہیں تو کم از کم تمہیں تو جاگتے رہنا چاہئے“۔
مخصوص سیاستدانو!
تجربوں سے سیکھو…زبان کی لغزشوں سے بچو اور اگر تمہارے نصیب سو بھی رہے ہیں تو کم از کم خود ہی جاگ جاؤ ورنہ
”اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=400080
No related posts.








Recent Comments