پاکستان کے بارے میں اوباما کی نئی پالیسی کابڑا چرچا تھا‘ لیکن اس سلسلے میں ان کی جو تقریر سامنے آئی‘ وہ پرانی گھسی پٹی باتوں سے مختلف نہ تھی۔ ابھی اب ہم اس صدمے سے سنبھل نہ پائے تھے کہ پاکستان پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس مرتبہ مناواں میں پولیس ٹریننگ سکول حملہ آوروں کا نشانہ بنا۔ یہ جگہ واہگہ پر بھارتی سرحد سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہے جس کی محل و قوع کے اعتبار سے اپنی ایک اہمیت ہے‘ لیکن ہماری سرکار نے اس پہلو کو یکسر نظر انداز کر دیا۔
تاہم اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ امریکی دولت سے دہشت گردی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا،اس سے صرف ہمارے حکمرانوں کی جیبیں مزید بھاری ہو سکتی ہیں۔اوباما نے بھی واضح کر دیا ہے کہ مزید امداد کئی باتوں سے مشروط ہو گی‘ جس سے امریکی مداخلت مزیدبڑھے گی اور ہماری ریاستی عمل داری بھی متاثر ہو گی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا مسئلہ امریکی امداد کا نہیں‘ کیونکہ صدر زرداری بھی کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے ابھی تک ایک ڈالر تک نہیں دیکھا۔حقیقت نظری سے دیکھا جائے تو پاکستان میں دہشت گردی کا مسئلہ پیدا ہی امریکی امداد کی وجہ سے ہوا ہے۔
جب ہمارے حکمران اپنی تجوریاں بھریں گے اور فوج کو حکم دیں گے کہ وہ پاکستانیوں کو ماریں تو اس سے لا محالہ دہشتگردی بڑھے گی۔ جب حکومت امریکی ڈرونز کو اجازت دے گی کہ وہ اندھا دھند پاکستانی شہریوں پر بمباری کریں تو امریکہ سے لڑنے کیلئے لوگ جہادی تنظیموں میں ذوق و شوق سے شامل ہوں گے۔ مزید یہ کہ جب پاکستانی ریاست اپنے علاقے میں لوگوں کو انصاف سے محروم رکھے گی تو جو لوگ انصاف کی فراہمی کا وعدہ کریں گے عوام فطری طور پر ان کا ساتھ دیں گے۔ جب سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں میں سیاسی بھرتیاں ہوں گی تو ان کی پیشہ وارانہ اہلیت بھی متاثر ہو گی ۔ اس کے باعث سرکاری اور غیر سرکاری شعبوں میں امریکی مداخلت بھی بڑھے گی جس کے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔
جب سے آئی ایس آئی اور سی آئی اے میں کٹھا چھنی شروع ہوئی ہے امریکہ نے آئی ایس آئی‘ پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے خلاف پہاڑہ پڑھنا شروع کر دیا ہے‘ جس سے نہ صرف ان اداروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے بلکہ حکومت اور عوام کا حوصلہ بھی پست ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں پچھلے سال دہشت گردی کے حملوں کی ایک نئی لہر آئی۔ یہ حالات امریکہ کے طویل المیعاد مفادات کیلئے موضوع ہیں کیونکہ وہ ہمارے سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کو ہدف بنا کر ہمارے ایٹمی اثاثوں پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ جہادی جن کی آئی ایس آئی‘ سی آئی اے اور سعودی حکومت سرپرستی کرتی تھی‘ مدت ہوئی غیر فعال ہو چکے ہیں اور جو لوگ ان کی دیکھ بھال کرتے تھے‘ وہ بھی جا چکے ہیں۔
اب عسکریت پسندوں کی ایک نئی نسل ہمارے سامنے ہے‘ جو نئے لیول کے واقعے کے بعد امریکی قتل و غارت کے نتیجے میں پیدا ہوئی‘ لہٰذا امریکہ کے فوجی اور انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی کا ذمہ دار پاکستانی اداروں کو قرار دینا غیر عقلی ہے۔ یہ امر سب کے سامنے ہے کہ علاقہ میں امریکہ کی گمراہ کن حکمت عملی کی وجہ سے بہت سے پاکستانیوں نے اپنی جانیں کھو دیں۔
لہٰذا دیکھنا یہ ہے کہ آج کی دہشت گردی کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ اس وقت عسکریت پسندوں کی تین قسمیں موجود ہیں، جو دہشت گردی کو بطور حکمت عملی اور ہتھیار استعمال کرتی ہیں۔ چوتھی قسم ریاستی دہشت گردی کی ہے‘ جسے امریکی حملوں کی شکل میں عوام بھگت رہے ہیں۔ پہلی قسم بلوچستان میں پائی جاتی ہے‘ جہاںبلوچ عوام کی شکایات جائز ہیں کہ ریاست انہیں ان کے اپنے وسائل سے محروم کر رہی ہے۔ یہ مسائل خالصتاً سیاسی ہیںاور کوئی ذمہ دار ریاست انہیں آسانی سے طے کر سکتی ہے۔اس کے برعکس غیر ملکی قوتیں یہاں سرگرم ہیں حکومت کی بے نیازی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عسکریت پسندوں کو فنڈز اور اسلحہ دے رہی ہیں‘ جس سے یہ مسئلہ بڑھ رہا ہے۔ یہ مسئلہ زیادہ پیچیدہ ہو رہا ہے کیونکہ جنداللہ کی آڑ میں امریکی پالتو جزک اور شمسی کے علاقوں میں سرگرم ہیں اور ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی علاقے میں بنداری کا ہوائی اڈہ بھی موجود ہے‘ جہاں سے ڈرون اڑ کر فاٹا پر حملے کرتے ہیں۔ چنانچہ عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنے کیلئے ضروری ہے ایک قومی حکمت عملی وضع کی جائے، علاقے میں معاشی سرگرمیاں تیز کی جائیں اور امریکہ اور دوسرے غیر ملکیوں کو یہاں سے نکالا جائے۔
عسکریت پسندوں کی دوسری قسم مذہبی انتہاپسندوں کی ہے جنہوں نے 9/11 کے بعد پاکستان میں جڑیں پکڑیں۔ افغانستان پر قبضے اور پاکستان میں امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں یہ اور زیادہ مضبوط ہوئے۔یہاںپاکستانی ریاست کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ لوگوں کو مالی جانی تحفظ اور انصاف فراہم کرے۔ چونکہ حکومت اپنا کردار ادا نہیں کر رہی لہٰذا یہ خلا عسکریت پسند پر کر رہے ہیں۔ ہم نے فاٹا میں فرنٹیر کور کی بجائے فوج بھیجی جو ہمارے ایک بڑی غلطی تھی۔ اس کی بجائے چاہئے تھا کہ ہم وہاں اقتصادی و سماجی سرگرمیوں کوفروغ دیتے ، سیاسی جماعتوں کو متحرک کرتے اور دور استعمار کے قانون اور ضابطے ختم کرتے۔
یہ مسئلہ صرف قبائلی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ پورا ملک ریاستی مشینری کی نا اہلی اور کرپشن کا شکار ہے۔ اگر ملک میں مدرسوں کی تعداد بڑھ رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے افلاس زدہ نوجوان یہاں تعلیم اور تربیت حاصل کرنے پر مجبور ہیں جو مستقبل کے طالبان ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے بھی عسکریت پسندی اور امریکہ کی پریشانی بڑھے گی۔ جو قوتیں پاکستان میں عسکریت پسندوں کو اسلحہ اور روپیہ فراہم کر رہی ہیں انہیں اپنے مطلب کے لوگ آسانی سے مل جاتے ہیں۔ ہم جو خودکش بمباروں کی نئی فصل دیکھ رہے ہیں وہ اسی طریقے سے تیار ہوئی ہے۔ان کی برین واشنگ کر کے ان کے دماغوں کو عجیب و غریب نظریات سے آلودہ کیا جاتا ہے۔ عسکریت پسندوں کی یہ قسم ریاست کے لئے سب سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ لوگ سوسائٹی کا حصہ ہیں اور ان کی شناخت مشکل ہے۔
عسکریت پسندوں کی تیسری قسم بڑھتی ہوئی غربت اور افلاس کے بطن سے جنم لیتی ہے۔ اگر کسی خاندان کو معقول معاوضہ ملے تو وہ اپنے بچوں کو خودکش حملے میں حصہ لینے کیلئے بھیجنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ بھکر میں حال میں جو خودکش دھماکہ ہوا‘ اس میں ایسے ہی نوجوان ملوث تھے۔ دہشت گردی کے سرپرستوں کو اس قسم کے نوجوان تلاش کرنے میں مشکل پیش نہیں آتی‘ لہٰذا اس مسئلے کا حل بھی یہی ہے کہ ہم غربت کے خاتمے اور انصاف کی فراہمی پر توجہ دیں۔ امریکہ کی فوجی کارروائیاں یا اس کی غیر سرکاری امدادی تنظیمیں کچھ نہیں کر سکتیں۔ ہمیں تھانہ کچہری کا ظالمانہ کلچر ختم کرنا ہو گا‘ تاکہ عوام کا ریاست اور اس کے اداروں پر اعتماد پیدا ہو سکے۔
گندم کی نئی فصل آنے والی ہے اور چینی کے بعد سمگلر اس پر بھی دانت تیز کئے بیٹھے ہیں جو عوام کو دانے دانے سے محروم کرنے کے درپے ہیں۔ حکومت کو امریکہ اور آئی ایم ایف کی ہدایات پر عمل کرنے سے فرصت نہیں‘ جس سے اناج کی قیمتیں عوام کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں۔ اس سے عسکریت پسندی اور تشدد کو مزید فروغ ملے گا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ این جی اوز پر انحصار کرنے کی بجائے نچلی سطح پر کوئی ایسی پالیسی بنائے جس سے ہر شخص تک انصاف اور وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اگر ہمارے حکمران شا ہانہ ٹھاٹھ باٹھ چھوڑ دیںاور غیر ملکی دوروں پر وسائل ضائع نہ کریں تو اس سے بھی قوم کی حالت سدھر سکتی ہے۔ صدر زرداری جب چین گئے تو انہوں نے بتایا کہ وہ دہشت گردی کے آلات خریدنے وہاں گئے تھے۔ یہ بات انتہائی عجیب ہے۔ دنیا میں کتنے حکمران ایسے ہیں جو اس قسم کی شاپنگ کرنے باہر جاتے ہیں۔ اب جبکہ قوم مناواں کا سوگ منا رہی ہے‘ وہ ترکی کوسدھار چکے ہیں۔
حکمرانوں کیلئے اس وقت مسئلہ لبرل بنام دائیں بازوں یا اسٹیٹس کو بنام تبدیلی کا نہیں بلکہ بیرونی امداد کی بجائے عوام پر بھروسے کرنے‘ کرپٹ اور کمزور اداروں کی بجائے مضبوط اور فعال اداروں بنانے اور امریکی ایجنڈے کی بجائے قومی ایجنڈے پر عمل کا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ فتح ہمیشہ عوام کی ہوتی ہے‘ تاہم ہماری قومی قیادت کو چاہئے کہ اس فتح کی تلخی اور قیمت کم کرنے کی کوشش کرے!
Source: Daily Jinnah, 2/4/09
Related posts:
- ڈرپوک مسلم قیادت!۔۔۔ ڈاکٹرشیریں مزاری
- کیاعسکریت پسندی کا رخ موڑ دیا گیا ہے؟؟…ڈاکٹرملیحہ لودھی
- بربریت سے بیگانہ قیادت!۔۔۔۔ ڈاکٹر شیریں مزاری
- پاکستان کی صورتحال ایران ،افغانستان اور عراق سے زیادہ تشویشناک ہے،جوزف بائیڈن
- امریکی فورسز نے گذشتہ6برس میں پاکستان کے اندر4خفیہ زمینی کارروائیاں کیں،برطانوی اخبار








Recent Comments