واشنگٹن : چند دن قبل خوست میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے مرکز پر خودکش حملہ کرنے والے حملہ آور کا پتہ لگالیا گیا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ کرنے والے کا تعلق اردن سے تھا اور وہ ٹرپل ایجنٹ تھا اور بیک وقت اردن، امریکا اور القاعدہ کیلئے مخبری کررہاتھا۔ مبینہ خود کش بمبار نے سی آئی اے کے ایجنٹوں کو یہ کہہ کر ملاقات پر آمادہ کیا تھا کہ وہ انہیں القاعدہ قیادت کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔ وائٹ ہاؤس کے مشیر اور سابق سی آئی اے افسر بروس رائیڈل نے اے ایف پی کو بتایا کہ چھتیس سالہ نوجوان ہمایوں خلیل ابو ملال البلاوی اردن کے بادشاہ شاہ عبد اللہ کا کزن تھا۔ ابو ملال المعروف کو اردن کی انٹیلی جنس نے ایک برس پہلے گرفتار کیا تھا تاہم اسے اس وعدے پر رہا کیاگیا کہ وہ اردن کو القاعدہ کے متعلق معلومات فراہم کریگا۔ امریکی انٹیلی جنس حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہمایوں خلیل کوبگرام ائیربیس پر اس لئے آنے کی دعوت دی گئی کہ وہ القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن اور اس کے نائب ایمن الظواہری کے متعلق اہم معلومات دینے والا تھا۔ دوسری جانب اردن کے شاہ عبداللہ نے افغانستان میں ہلاک ہونیوالے اپنے کزن کی لاش وصول کرلی ہے۔ شاہ عبداللہ کے کزن کیپٹن علی بن زیاد ال اون اپنے ہی شہری کی جانب سے سی آئی اے سینٹر پر کیے گئے خودکش حملے میں ہلاک ہوگیا تھا۔ اردن کے جھنڈے میں لپٹا ہوا ان کا جسد خاکی خصوصی طیارے کے ذریعے عمان پہنچا تو اس موقع پر فضائیہ کے اڈے پر شاہ عبداللہ ،ملکہ رانیہ اور ولی عہد حسین بھی موجود تھے ۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=400053

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha